مثبت سوچ کے ساتھ ناکامی کو ہینڈل کرنا – ناکامی بھی کامیابی کا زینہ ہے
از قلم۔۔۔ ڈاکٹر اسلم علیگ
انتخاب ۔ میاں عاصم محمود
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ مثبت سوچ کے ساتھ ناکامی کو ہینڈل کرنا ۔۔۔ انتخاب ۔ میاں عاصم محمود) ناکامی بھی کامیابی کا زینہ ہے۔ناکامی انسان کی زندگی کا حصہ ہے۔ کوئی بھی شخص ایسا نہیں جس نے کبھی ناکامی نہ دیکھی ہو۔ لیکن اصل فرق یہ ہے کہ کچھ لوگ ناکامی کے بعد ٹوٹ جاتے ہیں اور آگے بڑھنے کی ہمت کھو بیٹھتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اسی ناکامی کو کامیابی کی طرف جانے کا زینہ بنا لیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو تاریخ میں اپنی مثال چھوڑ جاتے ہیں۔
قرآن ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ مشکلات اور ناکامیاں کبھی مستقل نہیں ہوتیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا” (الشرح: 5-6)۔ یعنی ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ یہ یقین دل کو سکون دیتا ہے کہ وقتی ناکامی کے بعد کامیابی ضرور آئے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی نوجوانوں کو یہی سبق دیا: “طاقتور مومن کمزور مومن سے بہتر اور اللہ کو زیادہ محبوب ہے، جو چیز تمہیں نفع دے اس کی کوشش کرو، اللہ سے مدد مانگو اور ہمت نہ ہارو۔” (مسلم)۔ یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ ناکامی کے وقت مایوسی اختیار کرنا ایمان کے خلاف ہے، جبکہ مثبت سوچ اور محنت ہی ایمان کی علامت ہے۔
دنیا کے کامیاب ترین لوگوں کی زندگیوں میں ناکامیوں کی بھرمار ملتی ہے۔ ابراہیم لنکن کئی انتخابات میں ناکام ہوئے، کاروبار میں نقصان اٹھایا، لیکن ہمت نہ ہاری اور بالآخر امریکہ کے صدر بنے۔ نیلسن منڈیلا نے کہا: “I never lose. I either win or learn.” یعنی میں کبھی نہیں ہارتا، یا تو جیتتا ہوں یا سیکھتا ہوں۔ یہی اصول ہمیں سمجھاتا ہے کہ ناکامی دراصل کامیابی کا حصہ ہے، کیونکہ یہ ہمیں نئے راستے اور نئے تجربے فراہم کرتی ہے۔ اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیں تو حضرت بلال حبشیؓ کو ایمان لانے کی پاداش میں سخت اذیتیں دی گئیں۔ بظاہر وہ لمحے ناکامی اور کمزوری دکھائی دیتے تھے، مگر دراصل وہ صبر و استقامت کی ایسی مثال بن گئے جو قیامت تک ایمان والوں کے لئے مشعلِ راہ ہے۔
نوجوانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ناکامی سے گھبرانا دانشمندی نہیں بلکہ کمزوری ہے۔ اگر ایک دروازہ بند ہو جائے تو یہ اشارہ ہے کہ دوسرا دروازہ کھلے گا۔ اپنی غلطیوں کا تجزیہ کریں، ان سے سبق لیں اور نیا راستہ اختیار کریں۔ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور یہ یقین رکھیں کہ اس نے آپ کے لئے بہتر تقدیر لکھی ہے۔
ناکامی کو مثبت انداز میں ہینڈل کرنے کے لئے چند باتیں ہمیشہ یاد رکھیں۔ دعا اور توکل دل کو سکون دیتے ہیں اور مایوسی کو امید میں بدلتے ہیں۔ اپنی غلطیوں سے سبق لینا آپ کو مضبوط بناتا ہے۔ اچھے دوستوں اور مثبت ماحول کا انتخاب حوصلے کو بڑھاتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر صبر اور شکر، دونوں رویے انسان کو ناکامی کے اندھیروں سے نکال کر کامیابی کی روشنی کی طرف لے جاتے ہیں۔
ناکامی دراصل ایک امتحان ہے۔ کبھی یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہے اور کبھی اگلی بڑی کامیابی کی تیاری۔ جو نوجوان مثبت سوچ، صبر اور استقامت کے ساتھ ناکامی کو برداشت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن کا اسے کبھی گمان بھی نہیں ہوتا۔ یہی ایمان ہے اور یہی کامیاب زندگی کا راز بھی۔
![]()

