Daily Roshni News

محبت ادھار نہ رکھو… انتخاب  ۔  میاں عاصم محمود

محبت ادھار نہ رکھو…

انتخاب  ۔  میاں عاصم محمود

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ محبت ادھار نہ رکھو… انتخاب  ۔  میاں عاصم محمود)ورنہ وقت سود کے ساتھ وصول کر لیتا ہے! 🥺

(روسی ادب سے ماخوذ ایک مختصر مگر دل ہلا دینے والی کہانی) ✍🏻

ایک بوڑھا کسان اپنی شدید بیمار بیوی کو کمزور سے گھوڑے کی کھینچی ہوئی گاڑی میں بٹھا کر دور دراز شہر علاج کے لیے لے جا رہا تھا۔

سفر طویل تھا،

راستہ سنسان،

خاموشی گہری تھی۔

وہ آہستہ آہستہ بولتا جا رہا تھا —

یوں جیسے خود سے باتیں کر رہا ہو،

مگر دراصل وہ اپنی زندگی کی ساتھی کو حوصلہ دے رہا تھا۔

یہ عورت چالیس برس سے اس کے ساتھ تھی۔

ہر دکھ، ہر تنگی، ہر مشکل میں اس کا ساتھ نبھایا۔

کھیتوں میں اس کے شانہ بشانہ کام کیا،

گھر کا بوجھ اٹھایا،

مگر کبھی شکوہ زبان پر نہ لائی۔

آج اس سفر میں کسان کے دل پر ایک انوکھا بوجھ تھا۔

اچانک اسے شدت سے احساس ہوا کہ

وہ ساری زندگی اس کے ساتھ سخت رہا۔

نہ کبھی نرمی سے بات کی،

نہ کبھی محبت بھرے لفظ کہے،

نہ وہ مسکراہٹ دی جو دل کو زندگی بخش دے۔

وہ خود کلامی میں کہنے لگا:

“میں نے تم پر سختی کی…

شاید اسی لیے زندگی نے بھی تم پر سختی کی۔

میں روزمرہ کی دوڑ میں تمہیں وہ دو بول نہ دے سکا

جو دل کو تسلی دیتے ہیں۔

وہ لمحہ نہ دے سکا جس میں محبت، اپنائیت اور سکون ہو…”

راستے بھر وہ پچھتاوے کے الفاظ دہراتا رہا،

جیسے چالیس برس کی خاموشیوں کا کفارہ ادا کر رہا ہو۔

وہ وعدے کرتا رہا،

خواب بُنتا رہا

کہ اب وہ اسے ہر خوشی دے گا،

ہر کمی پوری کرے گا…

جب شہر پہنچے تو وہ جلدی سے گاڑی سے اترا

تاکہ پہلی بار اپنی بیوی کو بانہوں میں بھر کر

ڈاکٹر کے پاس لے جائے۔

مگر…

وہ سرد ہو چکی تھی۔

بے جان۔

راستے میں ہی اس کی سانسیں تھم چکی تھیں۔

وہ ایک بھی محبت بھرا لفظ سنے بغیر

ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔

یہاں چیخوف کی کہانی ختم ہو جاتی ہے،

مگر ہمیں وہیں چھوڑ جاتی ہے

جہاں اکثر زندگی ہمیں لا کھڑا کرتی ہے —

اس لمحے میں

جب ہم جاگتے ہیں…

مگر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

ہم اپنوں کی قدر ہمیشہ آخر میں جا کر ہی کیوں کرتے ہیں؟

ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ:

وقت پر دیا گیا ایک پھول

سب سے قیمتی تحفہ ہوتا ہے،

اور دیر سے دی گئی دولت بھی بےکار ہو جاتی ہے۔

وقت پر کہے گئے محبت بھرے لفظ سچے ہوتے ہیں،

مگر جب دل ٹوٹ جائیں

تو شاعری بھی بے اثر ہو جاتی ہے۔

جو چیزیں دیر سے ملیں

ان کا کوئی فائدہ نہیں —

جیسے مرنے والے کے ماتھے پر معذرت کا بوسہ۔

ہم زندگی کو بینک اکاؤنٹ سمجھ کر جیتے ہیں،

محبت، نرمی اور اپنائیت کو

“کسی اور دن” کے لیے بچا لیتے ہیں۔

حالانکہ زندگی کوئی تجوری نہیں

جہاں احساسات محفوظ رکھے جا سکیں۔

یہاں سب کچھ ابھی ہے —

اور یہی ابھی اچانک ختم ہو جاتا ہے۔

ہم خوشی مؤخر کرتے ہیں،

معافی ٹالتے ہیں،

محبت روک لیتے ہیں

اور سوچتے ہیں

“بعد میں کہہ دوں گا…”

مگر سچ یہ ہے کہ

“بعد میں” اکثر کبھی نہیں آتا۔

محبت وہ قرض ہے

جو زندگی ہم سے ضرور واپس لیتی ہے —

یا مسکراہٹوں میں

یا آنسوؤں میں۔

وقت پر عزت دے دو،

ورنہ قبر پر کتبہ لگوانا پڑتا ہے۔

وقت پر محبت دے دو،

ورنہ پچھتاوا عمر بھر ساتھ رہتا ہے۔

وقت پر معاف کر دو،

ورنہ زندگی معافی کی مہلت بھی نہیں دیتی۔

زندگی کے سب سے قیمتی لمحے

وہی ہیں جو اس وقت تمہارے پاس ہیں۔

انہیں ضائع مت کرو۔

انہیں محبت سے بھر دو۔

انہیں زندہ رکھو۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دن

تمہیں کہنا پڑے:

“کاش میں نے یہ بات پہلے کہہ دی ہوتی…”

کیونکہ

وقت پر دی گئی محبت

مسکراہٹ بن جاتی ہے،

اور دیر سے دی گئی محبت

صرف پچھتاوا رہ جاتی ہے۔

🌿 صدقۂ جاریہ کے لیے یہ تحریر ضرور شیئر کریں 🌸

اور اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو

تو مجھے فالو ضرور کریں ❤️

Loading