محنتی کسان اور جادوئی گھڑا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کسی دور دراز گاؤں میں “رحمت” نامی ایک غریب کسان رہتا تھا۔ رحمت کے پاس زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تھا، جو بہت بنجر اور پتھریلا تھا۔ گاؤں کے باقی کسان اسے مشورہ دیتے کہ وہ یہ زمین چھوڑ کر شہر چلا جائے، لیکن رحمت کہتا، “مٹی سونا اگلتی ہے، بس اسے پسینے کی ضرورت ہوتی ہے۔”
ایک تپتی دوپہر، جب رحمت اپنے کھیت میں سخت پتھر ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا، اس کا بیلچہ کسی دھاتی چیز سے ٹکرایا۔ اس نے تجسس میں گڑھا کھودا تو وہاں سے ایک پرانا، مٹی سے اٹا ہوا “تانبے کا گھڑا” نکلا۔
رحمت نے سوچا کہ شاید اس میں ہیرے جواہرات ہوں گے، لیکن جب اس نے ڈھکن کھولا تو وہ خالی تھا۔ رحمت نے مسکرا کر کہا، “چلو، کچھ نہیں تو پانی پینے کے کام آئے گا۔” اس نے اپنا تولیہ گھڑے کے اوپر رکھا اور درخت کے سائے میں آرام کرنے لگا۔
تھوڑی دیر بعد جب وہ اٹھا، تو اس نے دیکھا کہ گھڑے کے اوپر ایک نہیں بلکہ سو تولیے پڑے ہوئے تھے! رحمت حیران رہ گیا۔ اس نے آزمانے کے لیے ایک سکہ گھڑے میں ڈالا، اور دیکھتے ہی دیکھتے گھڑا سکوں سے بھر گیا۔
وہ سمجھ گیا کہ یہ ایک “جادوئی گھڑا” ہے جو ہر چیز کو سو گنا کر دیتا ہے۔
چند ہی دنوں میں رحمت گاؤں کا سب سے امیر آدمی بن گیا۔ اب اسے کھیت میں ہل چلانے یا پسینہ بہانے کی ضرورت نہ رہی۔ اس نے عالیشان مکان بنا لیا اور نوکر چاکر رکھ لیے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، رحمت سست اور کاہل ہو گیا۔ وہ اب غریبوں کی مدد بھی نہیں کرتا تھا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ کہیں کوئی اس کا گھڑا نہ چرا لے۔
ایک دن رحمت کا بوڑھا باپ، جو بہت دانا تھا، اس کے پاس آیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کا بیٹا محنت چھوڑ کر صرف جادو کے بھروسے جی رہا ہے۔ باپ نے کہا، “بیٹا، مفت کی دولت انسان کی صلاحیتیں کھا جاتی ہے۔ جس دن یہ گھڑا نہ رہا، تم ایک دن بھی زندہ نہیں رہ سکو گے۔”
رحمت نے اپنے باپ کی بات کا مذاق اڑایا۔ اسی وقت، پڑوسی ملک کے بادشاہ کو اس گھڑے کا علم ہوا اور اس نے اپنے سپاہی بھیج کر وہ گھڑا قبضے میں لے لیا۔ رحمت نے مزاحمت کی، لیکن وہ اکیلا کچھ نہ کر سکا۔
گھڑا جانے کے بعد رحمت بالکل قلاش ہو گیا۔ اس کے آرام پرست دوست اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ وہ دوبارہ اسی بنجر کھیت میں کھڑا تھا جہاں سے اسے گھڑا ملا تھا۔ اس نے روتے ہوئے اپنے باپ سے کہا، “اب میں کیا کروں؟ میری تو قسمت ہی لوٹ لی گئی۔”
باپ نے زمین کی طرف اشارہ کیا اور کہا، “تمہارا اصل جادوئی گھڑا تمہارے ہاتھ اور تمہاری محنت ہے۔ جو پودا تم اپنے پسینے سے لگاؤ گے، وہ تمہیں وہ پھل دے گا جو کوئی تم سے چھین نہیں سکے گا۔”
رحمت کو بات سمجھ آ گئی۔ اس نے دوبارہ ہل اٹھایا، پتھر ہٹائے اور جی جان سے محنت کی۔ اس سال اس کے کھیت میں اتنی فصل ہوئی کہ پورے گاؤں میں کسی کی نہ ہوئی تھی۔ اس بار یہ دولت جادو کی نہیں، بلکہ اس کی ہمت کی تھی۔ وہ اب پہلے سے زیادہ خوش اور مطمئن تھا کیونکہ اسے اپنی محنت پر فخر تھا۔
نتیجہ
اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
محنت میں عظمت ہے: شارٹ کٹ یا جادو سے ملی ہوئی کامیابی عارضی ہوتی ہے۔
ہنر سب سے بڑا خزانہ ہے: جو چیز آپ خود کما کر حاصل کرتے ہیں، اس کی حفاظت اور قدر زیادہ ہوتی ہے۔
سستی دشمن ہے: بیٹھے بٹھائے ملنے والی دولت انسان کو ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور کر دیتی ہے۔
#اردو #اردو_کہانیاں #بچوں_کی_کہانی #سبق_آموز #اخلاقی_کہانیاں #اردو_ادب #کہانی #وفاداری #پاکستان
#UrduStories #KidsStories #MoralStories #BedtimeStories #UrduLiterature #StoryTime #Loyalty #AnimatedStories #Fables
![]()

