Daily Roshni News

مردوں کو 72 حوریں ملنے کی حقیقت ۔

           مردوں کو 72 حوریں ملنے کی حقیقت

   خدارا ! ضعیف روایات بیان کرنے سے گریز کریں

غلام نبی کشافی

آنچار صورہ سرینگر

ابتدائی کلمات/   میں نے اس مضمون میں ایک ایسے موضوع کو زیرِ بحث لانے کی کوشش کی ہے جو ہمارے معاشرے میں غیر ضروری طور پر نمایاں کیا جاتا ہے، حالانکہ اس کی بنیاد کمزور اور غیر مستند روایات پر ہے۔ میرا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ جنت کی نعمتوں یا ان کے تذکرے کا انکار کیا جائے، بلکہ میں نے صرف اس بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھا ہے کہ دین کی نسبت سے کوئی بات بیان کرتے وقت اس کی علمی حیثیت اور سند کو پیشِ نظر رکھا جائے۔

میری نظر میں منبر و محراب ایک انتہائی مقدس امانت ہے، اور اس پر کھڑے ہو کر ایسی باتیں بیان کرنا جو نہ قرآن سے ثابت ہوں اور نہ صحیح احادیث سے، نہ صرف علمی دیانت کے خلاف ہے بلکہ اس سے دین کا سنجیدہ اور متوازن تصور بھی مجروح ہوتا ہے۔ میں نے اپنے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں یہ محسوس کیا ہے کہ بعض خطباء غیر اہم اور جذباتی موضوعات کو اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ اصل مقاصدِ دین پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

اسی لئے میں نے سوال و جواب کے کالم کے تحت لکھے گئے اس مضمون میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ “72 حوروں” کا تصور نہ قرآن مجید سے ثابت ہے اور نہ کسی صحیح حدیث سے، بلکہ یہ ایک ضعیف روایت پر مبنی ہے، جسے بلا تحقیق بیان کرنا مناسب نہیں۔ دین ہمیں تحقیق، احتیاط اور ذمہ داری کا درس دیتا ہے، اور یہی طرزِ عمل اہلِ علم کے شایانِ شان ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم دین کو اس کی اصل روح کے ساتھ پیش کریں، اور لوگوں کی توجہ غیر ضروری مباحث سے ہٹا کر ایمان، عملِ صالح، اصلاحِ نفس اور دعوتِ حق کی طرف مبذول کریں۔ اگر ہم نے منبر کو سنجیدگی، حکمت اور علمی وقار کے ساتھ استعمال نہ کیا تو اس کے منفی اثرات نہ صرف افراد بلکہ پورے معاشرے پر مرتب ہوں گے۔

میری یہ کوشش اسی احساسِ ذمہ داری کا نتیجہ ہے، اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ اسے قبول فرمائے اور اسے اصلاحِ احوال کا ذریعہ بنائے۔

                                  __________________________

                            سوال

  میں کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا پر آپ کے مضامین پڑھتا رہتا ہوں اور ان سے بہت فائدہ ہوتا ہے، اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

  اس وقت آپ سے ایک سوال کرنا تھا کہ میں نے کئی واعظین سے سنا ہے کہ جنت میں مردوں کو 72 حوریں ملیں گی۔ آپ سے اس کی حقیقت جاننا چاہتا ہوں کہ کیا واقعی کوئی ایسی روایت موجود ہے جس میں مردوں کو 72 حوریں ملنے کا ذکر آیا ہو؟ اگر ایسا ہے تو پھر خواتین کو اس کے بدلے کیا ملنے والا ہے؟ وضاحت کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں۔

                 نعیم الرحمٰن / نئی دہلی

                            جواب

  سائل نے جو سوال اٹھایا ہے، اس پر کچھ عرصہ قبل میرے ایک عزیز دوست سے گفتگو ہو رہی تھی جو پیشہ کے اعتبار سے ایک سرکاری ملازم ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ جس مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرتا ہے، وہاں ایک خطیب مستقل خطبہ دیتا ہے، لیکن اس کے بیانات میں نہ علمی گہرائی ہوتی ہے اور نہ زمانے کے مسائل کا شعور۔ اس نے بطور مثال کہا کہ گزشتہ جمعہ اس خطیب نے یہ بیان کیا کہ حدیث کے مطابق ایک نیکوکار آدمی کو جنت میں 72 حوریں ملیں گی، اور پھر وہ ان حوروں کی خوبصورتی اور ناز و انداز پر اس انداز سے گفتگو کرنے لگا کہ سنجیدہ سامعین شرمندگی محسوس کرنے لگے، جبکہ کچھ لوگ باہم مسکرا رہے تھے۔

  اس نے مزید کہا کہ چونکہ وہ مسجد ایک ایسے تعلیمی ماحول میں واقع ہے جہاں سے خواتین اور طالبات کا بھی گزر ہوتا ہے، اس لئے اس طرح کی غیر سنجیدہ اور سطحی گفتگو کے اثرات کے بارے میں تشویش پیدا ہوتی ہے۔

  میں نے اس سے کہا کہ اس طرح کے کم علم خطباء کے بیانات میں نے بھی بارہا سنے ہیں، لیکن میں نے کبھی اس نوعیت کے موضوعات کو منبر پر دہرانا مناسب نہیں سمجھا۔ اسی سلسلے میں مجھے ایک اور واقعہ یاد آیا کہ ایک مقامی مسجد میں ایک خطیب نے مسلسل چند جمعوں تک ازدواجی اور جنسی معاملات پر نہایت غیر محتاط انداز میں گفتگو کی، یہاں تک کہ خواتین نے اس طرزِ بیان پر باقاعدہ طور پر ایک تحریر کے ذریعے خطیب کے خلاف شکایت درج کی ، جس کی وجہ سے خطیب کو معذرت کرنی پڑی۔

  حقیقت یہ ہے کہ شریعت میں اس طرح کے مسائل کی تعلیم و تفہیم کا ایک مہذب اور باوقار طریقہ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے خطبات میں کبھی اس طرح کا موضوع نہیں اٹھایا، البتہ انفرادی طور پر صحابیات انفرادی طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ سے نجی قسم کے مسائل ، جیسے حیض ، استحاضہ ، نفاس ، احتلام وغیرہ قسم کے مسائل کے بارے میں دریافت کرتی تھیں ، چنانچہ اس طرح کی درجنوں مثالیں کتب احادیث میں موجود ہیں ، مثال کے طور پر ایک حدیث یہاں پر پیش کی جاتی ہے ۔

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا احْتَلَمَتْ ؟ قَالَ : نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ . فَضَحِكَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ : أَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَبِمَ شَبَهُ الْوَلَدِ ؟ .

(صحيح البخارى : كِتَابٌ الْأَدَبُ : بَابُ التَّبَسُّمِ وَالضَّحِكِ. رقم الحديث 6091)

سیدہ ام سلمہ سے روایت ہے کہ ام سلیم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! بیشک اللہ حق بیان کرنے سے شرماتا نہیں ہے ، کیا عورت پر بھی غسل لازم ہوتا ہے ، جب اس کا احتلام ہوجائے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ، جب وہ احتلام کا پانی دیکھے ، اس پر سیدہ ام سلمہ ہنس پڑیں ، پھر عرض کرنے لگیں ، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر بچے کی شکل کیسے ( کبھی باپ سے تو کبھی ماں سے) ملتی ہے ؟

     اب رہی وہ روایت جس میں 72 حوروں کا ذکر بتایا جاتا ہے، تو اس کا حوالہ درج ذیل حدیث میں ملتا ہے :

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ الَّذِي لَهُ ثَمَانُونَ أَلْفَ خَادِمٍ، وَاثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ زَوْجَةً، وَتُنْصَبُ لَهُ قُبَّةٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ وَزَبَرْجَدٍ وَيَاقُوتٍ، كَمَا بَيْنَ الْجَابِيَةِ إِلَى صَنْعَاءَ ۔

(سنن الترمذی أَبْوَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ : بَابٌ مَا لِأَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْكَرَامَةِ : رقم الحدیث 2562 / ضعيف )

سیدنا ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ادنی درجہ کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے ، اور بہتر بیویاں ہوں گی ، اور ہرایک جنتی کے لئے لؤلؤ، یاقوت، زبرجد کا ایک قبہ نصب کیا جائے گا (جس کی لمبائی) جابیہ (ملکِ شام کے شہر) سے صنعاء (ملکِ یمن کے دارالسلطنت) جنتی ہوگی ۔

    لیکن یہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد خود ہی اس کے بارے میں فرمایا:

هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من حديث رشدين بن سعد

یعنی یہ حدیث غریب ہے اور صرف رشدین بن سعد کے طریق سے مروی ہے۔

 شارح ترمذی علامہ عبد الرحمن مبارکپوری نے امام ترمذی کی اس بات پر مزید یہ لکھا ہے ۔

 هذا حديث غريب ، اي كل واحد من الأحاديث الثلاثة المذكورة بالاسناد الواحد غريب ( لا نعرفه إلا من حديث رشدين بن سعد ) وهو ضعيف .(تحفة الاحوذي : ج 7 ص 240 / اندین ایڈیشن)

یہ حدیث غریب ہے، یعنی ان تینوں احادیث مذکورہ میں سے ہر ایک حدیث کی سند غریب ہے ، ( بقول امام ترمذی / ہم اسے رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں ) اور یہ حدیث ضعیف ہے ۔

  علامہ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کے دو راوی ، رشدین بن سعد اور دراج ابو السمح ، کے بارے میں لکھا ہے ۔

           کلاهما ضعيف

  ( مشكاة المصابيح : ج 3 ، رقم الحديث)

      وہ دونوں ضعیف ہیں ۔

      مزید یہ کہ اس روایت کے متن میں بھی مبالغہ اور غرابت کا پہلو پایا جاتا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض خطباء اس طرح کی کمزور روایات کو بیان کرتے وقت ان کی علمی حیثیت واضح نہیں کرتے، بلکہ انہیں یقینی اور قطعی بات کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

     ہمارے یہ خطیب حضرات اکثر مردوں کے لئے 72 حوروں کا چرچا کرتے رہتے ہیں ، لیکن اس روایت میں اسی ہزار خادموں اور بہتر حوروں کا ذکر ادنیٰ جنتی مرد کے بارے میں آیا ہے ، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو جنتی مرد حضرات اعلی مقامات پر ہوں گے ، ان کے خادموں کی تعداد لاکھوں اور حوروں کی تعداد ہزاروں کی ہوں گی ، تو ظاہر ہے کہ اس طرح کی عجیب و غریب باتیں اور اس طرح کی ضعیف روایتیں ناقابل فہم ہوتی ہیں ۔

           لیکن اس تحقیق کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جنت میں حوریں نہیں ہوں گی ، بلکہ یقیناً وہاں حوریں ہوں گی ، اور صحیح احادیث میں ان کا ذکر موجود ہے ، مثال کے طور پر صحیح بخاری میں یہ خوبصورت حدیث آئی ہے ۔

 عَنْ أَنَسِ بْنَ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَرَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ غَدْوَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ أَوْ مَوْضِعُ قِيدٍ – يَعْنِي سَوْطَهُ – خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا وَلَمَلَأَتْهُ رِيحًا، وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا .

(البخارى : كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ : بَابُ الْحُورِ الْعِينِ. رقم الحديث 2796)

 سیدنا انس بن مالک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام بھی گزار دینا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ، سب سے بہتر ہے اور تم میں سے کسی کے لئے جنت میں ایک ہاتھ برابر جگہ یا کوڑا رکھنے کی جگہ دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے ، اس سب سے بہتر ہے ، اور اگر جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت ( دنیا کی) زمین کی طرف ( لمحہ بھر کے لئے) جھانک لے ، تو زمین و آسمان اپنی وسعتوں کے ساتھ روشن ہوجائیں ، اور فضا کو خوشبو سے بھر دے ، اور اس کے سر کا ڈوپٹہ دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے ۔

  قرآن کے مطابق ان کا نکاح جنتیوں کے ساتھ کر دیا جائے گا ۔ جیساکہ ارشاد خداوندی ہے ۔

حُوْرٌ مَّقْصُوْرَاتٌ فِى الْخِيَامِ ۔

         ( الرحمٰن : 72)

 حوریں خیموں میں ٹھہری ہوں گی ۔

    اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پردہ نشیں ہوں گی ، چنانچہ ان کا جنتیوں کے ساتھ ہوگا ، جس کا ذکر اس آیت میں آیا ہے ۔

وَ زَوَّجْنَاهُـمْ بِحُوْرٍ عِيْنٍ ۔

      ( الدخان :54)

 اور ہم ان کا نکاح بڑی آنکھوں والی حوروں سے کر دیں گے۔

  اس آخر الذکر آیت کی تفسیر میں مولانا شمس پیرزادہ تحریر فرماتے ہیں ۔

” حور عربی میں گوری رنگت والی غزالی چشم عورتوں کو کہا جاتا ہے ، یہاں جنت کی حسین و جمیل عورتیں مراد ہیں ، جو متقیوں سے بیاہ دی جائیں گی ، قرآن میں یہ کہیں نہیں کہا گیا ہے کہ یہ کوئی اور مخلوق ہوگی ، اس لئے اس کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ انسانوں میں سے ہوں گی ، اور عجب نہیں کہ جو باکرہ لڑکیاں فوت ہوگئیں ، ان کو حور بنا کر متقیوں کی زوجیت میں دے دیا جائے ، قرآن کے بیان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کو ان کے مومن بیویاں تو جنت ملیں گی ہی مزید یہ کہ حوروں سے بھی ان کا بیاہ کر دیا جائے گا ۔ و العلم عند اللہ “

       آگے مزید لکھتے ہیں ۔

” رہا یہ عام خیال کہ جنت میں ایک ایک آدمی کو ستر ستر بلکہ اس سے بھی زیادہ تعداد میں حوریں ملیں گی ، تو اس کی کوئی اصل نہیں ، نہ قرآن میں کہیں یہ بات کہی گئی ہے ، اور نہ کسی صحیح حدیث سے یہ بات ثابت ہے ، ایسی باتیں قصہ گو لوگ بیان کرتے ہیں ، اور جنت ان کا مذاق اڑانے والے ، اس کو موضوع بحث بنا لیتے ہیں “

( دعوۃ القرآن : ج 3 ، ص 1799/ ایڈیشن 1994ء ممبئی)

یہاں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ خواتین کو جنت میں کیا ملے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید نے اس بارے میں کسی ایک خاص نعمت کو مخصوص کرنے کے بجائے ایک جامع اور اصولی قاعدہ بیان کیا ہے، جو مرد و عورت دونوں کو شامل ہے۔ یعنی ہر اہلِ ایمان کو جنت میں وہ سب کچھ عطا ہوگا جس کی وہ خواہش کرے گا۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ

(حم السجدہ: 31)

ہم تمہارے دنیا میں بھی دوست تھے اور آخرت میں بھی، اور تمہارے لئے اس (جنت ) ہر چیز موجود ہے ، جسے تمہارا جی چاہے اور تمہارے لئے اس میں وہ تمام چیزیں موجود ہوں گی ، جو تم مانگو گے ملے گا۔

  مطلب یہ کہ جنت کی نعمتیں کسی ایک جنس یا ایک خاص صورت تک محدود نہیں، بلکہ ہر مومن ، خواہ مرد ہو یا عورت ، اپنی خواہش اور پسند کے مطابق کامل نعمتوں سے بہرہ مند ہوگا۔ یہی قرآن کا جامع اور منصفانہ اصول ہے، جو ہر قسم کے اشکالات کو خود بخود ختم کر دیتا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید یا صحیح احادیث میں حوروں کی کسی متعین تعداد کا ذکر نہیں ملتا۔ تاہم بعض خطباء کمزور اور غیر مستند روایات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں دین کا سنجیدہ اور اصل پیغام پس منظر میں چلا جاتا ہے، اور لوگوں کی توجہ مقاصدِ دین ، یعنی اصلاحِ نفس، خدمتِ دین اور دعوتِ حق ، سے ہٹ کر غیر اہم اور جذباتی موضوعات کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ یوں اصلاحِ معاشرہ اور دعوت الی اللہ کی بنیادی ذمہ داریوں سے غفلت پیدا ہونے لگتی ہے۔

پھر بعض آزاد خیال لوگ انہی قصہ گو خطیبوں کی باتیں سن کر جنت اور اس کی نعمتوں کا مذاق اڑانے لگتے ہیں، اور مرزا غالب کا یہ معروف شعر دہراتے ہیں ؛

       ہم   کو   معلوم  ہے  جنت   کی  حقیقت   لیکن

      دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

         خلاصہ یہ ہے کہ “72 حوروں” کا تصور نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ کسی صحیح حدیث سے، بلکہ یہ ایک ضعیف روایت پر مبنی ایک مفروضہ بات ہے، جسے بلا تحقیق بیان کرنا درست نہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی غیر مستند روایات کو نمایاں کرنے سے دین کی اصل روح اوجھل ہو جاتی ہے اور سنجیدہ دینی فکر کو نقصان پہنچتا

         لیکن اہل ایمان اس طرح کی بیہودہ باتوں پر دھیان نہیں دیتے ہیں ، بلکہ وہ جنت کی سچائی پر کامل ایمان رکھتے ہیں ، اور ایسے ہی اہل ایمان کے بارے میں قرآن میں یہ ارشاد آیا ہے ۔

وَبَشِّرِ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اَنَّ لَـهُـمْ جَنَّاتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ ۖ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْـهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّـذِىْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ ۖ وَاُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا ۖ وَلَـهُـمْ فِيْـهَآ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ۖ وَّهُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ ۔

          ( البقرہ : 25)

اور ان لوگوں کو خوشخبری دے دو ، جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام کئے کہ ان کے لئے ایل باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، جب بھی انہیں وہاں کا کوئی پھل کھانے کو ملے گا ، تو وہ کہیں گے ، یہ تو وہی ہے ، جو ہمیں اس سے پہلے دیا گیا تھا ، اور ان کو ملتا جلتا پھل دیا جائے گا ، اور ان کے لئے وہاں پاکیزہ عورتیں ہوں گی، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

خلاصہ یہ ہے کہ “72 حوروں” کا تصور نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ کسی صحیح حدیث سے، بلکہ یہ ایک ضعیف روایت پر مبنی بات ہے جسے بلا تحقیق بیان کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ دینِ اسلام کا اصل مقصد انسان کی اصلاح، کردار کی تعمیر اور اللہ کی رضا کا حصول ہے، نہ کہ ایسی غیر مستند اور جذباتی باتوں کو موضوعِ خطاب بنایا جائے جن سے دین کی سنجیدگی مجروح ہو۔

        لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ خطباء اور اہلِ علم منبر و محراب کی ذمہ داری کو سمجھیں اور دین کو اس کی اصل روح کے ساتھ پیش کریں، تاکہ لوگوں کی توجہ فضول مباحث کے بجائے ایمان، عملِ صالح اور دعوتِ حق کی طرف مبذول ہو۔ یہی طرزِ عمل فرد کی اصلاح اور معاشرے کی بہتری کا حقیقی ذریعہ بن سکتا ہے، اور اسی میں دین کی عزت و وقار بھی مضمر ہے۔

                   و ما علینا الا البلاغ

                                  ______________________

Loading