مرشد کی ضرورت کیوں
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ان صفحات پر ہم مراقبے کے ذریعے حاصل ہونے والے مفید اثرات مثلا ذ ہنی سکون، پر سکون نیند، بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت میں اضافہ وغیرہ کے ساتھ روحانی تربیت کے حوالے سے مراقبے کے فوائد بھی قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
میرا اچھا کاروبار ہے۔ بیگم اور پانچ بچوں کے ساتھ میری زندگی بہت اچھی طرح گزر رہی تھی۔ ایک دن میری تیسری بیٹی کے سر میں شدید درد اٹھا۔ ہم اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ ڈاکٹر نے سردرد کی دواؤں کے ساتھ چند ملٹی وٹامنز بھی تجویز کیں۔ بیٹی کو چند دن بعد دوبارہ سر میں شدید درد اٹھا۔ ایک بار پھر اسے لے کر ڈاکٹر کے پاس گئے۔ ڈاکٹر نے چند دوائیں دے دیں۔
درد بار بار ہونے لگا تو میں اسے شہر کے ایک بڑے اسپتال میں لے کر گیا۔ وہاں کئی ٹیسٹ ہوئے۔ آخر کار یہ قیامت خیز انکشاف ہوا کہ بیٹی کو برین میں ٹیومر ہے۔ یہ سن کر ہم میاں بیوی کی اور ہمارے بچوں کی جو حالت ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔ ہر وقت ہنستے مسکراتے رہنے والی یہ معصوم سکی ذتین و ہونہار بیٹی، پڑھائی میں بہت آگے تھی۔ اپنی سہیلیوں میں بہت زیادہ تھل مل جانے والی یہ معصوم بیٹی س بیماری کی وجہ سے بہت تکلیف میں تھی۔ یہ بہر حال …. اس کا علاج شروع ہوا لیکن چند ماہ بعد وہ ہم سب کو دو ہاتہ پتا چھوڑ کر دوسرے جہاں میں چلی گئی۔ اپنی بیٹی کے انتقال کے صدمے نے ہمیں جیسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ مجھے نہ اپنا ہوش رہا نہ کاروبار کا دھیان۔ میرے دفتر میں کام کرنے والے سب لوگ انتہائی مخلص اور دیانت دار ہیں۔ میری غیر موجودگی میں انہوں نے میرے کاروبار کو
متاثر نہیں ہونے دیا۔
بیٹی سے جدائی کے صدمے میں میری اور میری بیگم کی کی حالت بگڑتی ہی رہی۔ ایک رات میں دکھوں میں ڈوبا ہوا بیٹھا تھا کہ مجھے ایک نعتیہ کلام کی صدائیں سنائی دیں۔
تاج دار حرم ہو نگاہ کرم
ہم غریبوں کے دن بھی سنور جائیں گے
ایک نظر ہو بس اک نظر کا سوال ہے
مصطفی یا مجتبى ارحم لنا
غلام فرید صابری کی آواز میں یہ کلام میں پہلے بھی کئی بار سن چکا تھا۔ لیکن جب آدمی کا دل دکھی ہو۔ صدموں نے اسے توڑ دیا ہو۔ اسے کہیں کوئی جانے امان نظر نہ آتی ہو تو پھر پہلے سنی ہوئی کئی باتوں کے نئے معانی اس پر واضح ہونے لگتے ہیں۔
میں نے یہ کلام بار بار سنا۔ اس دوران میری زبان پر درود شریف کا ورد بھی خود ہی جاری ہو گیا۔ کان مجو سماعت تھے، زبان پر صل علیٰ کا درد تھا اور آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ حضور رحمت للعالمین کا اسم مبارک میرے دل کو ٹھنڈک اور سکون بخش رہا تھا۔ اگلے ہی روز دوسرے شہر میں رہنے والے میرے ایک دوست تعزیت کے لیے آئے۔ انہوں نے مجھے صبر کی تلقین کی۔ اس دوران اپنی مرحوم بیٹی کا چہرہ میری نظروں میں آیا اور میری آنکھوں سے دوبارہ آنسو بہنے لگے۔ میرے وہ دوست بہت دیر تک میرے ساتھ رہے۔ اس دوران باتوں باتوں میں انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم کسی بزرگ سے بیعت ہو …. ؟
میں نے اس دوست سے کہا کہ بیچ بات یہ ہے کہ میری اس شعبے میں کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ میں تو بابوں، فقیروں کے قصوں اور پیری مریدی کی باتوں کو بے پڑھے لکھے ، کم زور عقیدے والوں اور غریب و پس ماند ولوگوں کا پسندیدہ موضوع سمجھتا ہوں۔ میرے یہ دوست انجینئر ہیں اور ایک بڑے عہدے پر کام کرتے ہیں۔ ان کے تینوں بچوں نے اعلی تعلیم امریکی یونیورسٹیوں میں حاصل کی ہے۔ میر کی بات سن کر انہوں نے کہا۔
ہو سکتا ہے کہ تمہارا یہ خیال تمہارے مشاہدات کی وجہ سے ہو یا محض چند سنی سنائی باتوں پر۔ دراصل کئی معاملات میں ہم سنی سنائی باتوں پر ہی اپنے نظریات قائم کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ تم جائزہ لو…. زندگی کے کئی معاملات میں اکثر لوگوں کے نظریات کی بنیاد سوچی سمجھی رائے پر نہیں بلکہ عمومی تصورات (General Perceptions) پر ہوتی ہے۔ تھوڑی سی تحقیق کرلی جائے تو ایسے اکثر تصورات
خلاف حقیقت ہوتے ہیں۔
تمہاری بات بالکل درست ہے۔ یہ سن کر مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں نے اس انداز میں پہلے نہیں سوچا۔ میں ایک تعلیم یافتہ شخص ہوں اور ایک بڑے
بزنس کا مالک ہوں۔ اب مجھے خیال آرہا ہے کہ اپنے بزنس سے متعلق معاملات میں کوئی رائے قائم کرتے ہوئے میں بہت سوچ بچار کرتا ہوں لیکن دیگر کئی معاملات میں میری رائے اپنی سوچ اور تحقیق پر نہیں بلکہ محض دوسروں کی کہی سنی باتوں پر ہی بن جاتی ہے۔ میری یہ بات سن کر میرے دوست نے کہا کہ زندگی میں سامنے آنے والے مسائل یا مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے کوئی ایک لگا بندھا فارمولہ نہیں ہوتا۔ اپنی زندگی میں کئی مقامات پر ہمیں کسی کی رہنمائی کی کسی استاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں اس بات سے متفق نہیں تھا۔ اس لیے میں نے کہا کہ میں اور میرے بیوی بچے تو اپنی پیاری بیٹی اور بہن کی جدائی کے بعد سے بکھر گئے ہیں۔ ایسے میں کسی استاد کی تو نہیں بلکہ کسی غم گسار کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرے دوست نے کہا۔ تمہاری بات ٹھیک ہے۔ دکھ میں غم گسار کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن دکھ ، رنج اور غم کا سامنا کیسے کرتا ہے….؟
یہ ہر ایک کو معلوم نہیں ہوتا۔ دکھ ہوں یا خوشیاں ان لمحات کے لیے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ہمیں کسی استاد سے، کسی مرشد سے سیکھنا چاہیے۔
تمہاری بات ہے تو صحیح، مگر یہ ان لوگوں کے لیے ہے جنہیں معاملات کی سمجھ نہ آرہی ہو یا حالات جن کے قابو سے باہر ہوں۔ میرے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ دو ماہ سے میں اپنے دفتر باقاعدگی سے نہیں گیا لیکن میرا کاروبار بالکل ٹھیک چل رہا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مجھے کار و بار ٹھیک طرح چلانا اور معاملات کو اپنے قابو میں۔۔۔جاری ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجست جنوری 2026
مرشد کی ضرورت کیوں
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )رکھنا آتا ہے۔ میں کسی استاد یا کسی مرشد کے پاس کیا سیکھنے جاؤں ….؟
تم میرے پرانے دوست ہو۔ اس وقت بہت زیادہ دکھی ہو۔ میں تمہارے پاس تمہارا غم بانٹنے آیا ہوں اس لیے کوئی ایسی بات نہیں کہنا چاہتا جو تمہیں ناگوار گزرے۔
نہیں …. تم جس طرح چاہو مجھے بتاؤ …. اچھا۔ ٹھیک ہے۔ دیکھو….! ایک بات یاد رکھو ۔ کسی بڑے کاروبار کو کامیابی سے چلاتے رہنا اور دولت مند ہو نا کامیابی نہیں ہے۔ میری نظر میں تم ایک اچھے بزنس مین ہو لیکن کامیابی کیا ہے ….؟ اس سے تم ابھی واقف نہیں ہو……
اچھا…. ؟ اپنا ذاتی کاروبار جمانا، اچھی خاصی دولت کمانا۔ معاشرے میں اپنا ایک نمایاں مقام بنا لینا کامیابی نہیں تو پھر کیا ہے…..؟
میرے دوست ….! کامیابی اگر دولت مندی کا نام ہے تو پھر تو کم وسائل رکھنے والا ہر آدمی کامیابی سے محروم قرار پائے گا۔
ہاں تو اور کیا ….؟ ایک کم وسائل والا آدمی، ایک غریب شخص کامیابیوں کے مزے کیا جانے۔ کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس دولت کتنی ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ دنیا کا ہر عیش ، ہر آرام پیسے سے ہی ملتا ہے ….؟
میرے دوست نے میری طرف غور سے دیکھا۔ چند لمحے کے لیے وہ چپ رہاتو میں نے سوچا کہ میری اس دلیل نے اسے لاجواب کر دیا ہے۔ اس لیے اب وہ خاموشی سے بس مجھے دیکھے جارہا ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔ چند لمحوں بعد وہ بولا۔ تم نے ٹھیک کہا۔ دولت
سے عیش اور آرام خریدا جاسکتا ہے اور ایک غریب آدمی دولت سے خریدے گئے مزے کیا جانے…. لیکن تم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ خوشی اور عیش میں بہت فرق ہے۔ چھوٹی سی چھوٹی خوشی بڑی سے بڑی دولت سے نہیں خریدی جاسکتی۔ کوئی دکھ دولت کی
دد سے دور اور نہیں کیا جا سکتا ….
کیا مطلب …. ؟ مجھے اس بات سے کچھ جھٹکا سا محسوس ہوا تھا۔ میرے دوست نے کہا کہ تمہارے پاس دولت کی کمی نہیں ہے پھر اس دولت کے ذریعے تم اپنی بہت لاڈلی بیٹی کو موت کے منہ میں جانے سے کیوں نہ بچا سکے ….؟
یار میں نے ہر طرح کی کوشش تو کی نا…. اور یہ ساری کوششیں پیسے کی وجہ سے کر پایا۔
ہاں لیکن یہ دولت تمہاری بیٹی کو صحت نہ دے سکی۔ میری آنکھیں پھر بھر آئیں بلکہ اب تو زار و قطار رونے لگا۔ میرے دوست نے اٹھ کر مجھے اپنے سینے سے لگالیا اور مجھ سے معافیاں مانگنے لگا۔
یار….. مجھے معاف کرنا۔ میری باتوں سے تمہیں تکلیف پہنچی، میں تو تمہارے پاس دکھ بانٹنے آیا تھا لیکن میں نے تو تمہیں مزید دکھی کر دیا۔
تم سے باتیں کرتے ہوئے میراد کھ تازہ ہو رہا ہے لیکن تمہاری باتیں مجھے تکلیف نہیں دے رہیں۔ تم جو کہنا چاہتے ہو کہتے رہو۔
در اصل میری زندگی کا یہ پہلا موقع تھا کہ جب کوئی شخص مجھے درپیش حالات اور میری کیفیات کا میرے سامنے اس طرح تجزیہ کر رہا تھا۔ جب کسی پر کوئی دکھ آتا ہے تو رشتہ دار اور دوست اس کے پاس آکر چند الفاظ میں اسے تسلی دینا چاہتے ہیں۔ لیکن دیکھی شخص
کے درد کے درماں کی کو ششیں کم ہی لوگ کرتے ہیں۔ کبھی تو غم بنانے والا اس کی ہمت نہیں کر پاتا تو کبھی غم زدہ شخص کسی کو اپنے اتنے قریب نہیں آنے دیتا کہ وہ اس کی طرز فکر کی بنیادوں تک پہنچ سکے۔
آج میر اپرانا دوست میرے پاس بیٹھ کر میری بیٹی کے انتقال پر تعزیت بھی کر رہا تھا اور مجھے کئی لفظوں اور کئی جذبوں کے وہ معانی سمجھانا چاہ رہا تھا جن سے میں بالکل واقف نہیں تھا۔ اس کی باتوں سے مجھے سہارا ملتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
ہاں تو تم کہہ رہے تھے کہ دولت سے نہ خوشی خریدی جاسکتی ہے اور نہ ہی دکھ سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔
بال … میرا سہی نظریہ ہے۔ دیکھو….! خوشی کا تعلق ظاہر سے نہیں باطن سے ہے۔ خوشی کے نام پر جو کچھ ہم دولت سے خرید لیتے ہیں وہ خوشی نہیں محض تفریح (Entertainment) ہے۔ مزاح لیے ہوئے خاکے، شاعری، مزاحیہ گفتگو ہو یا جو کر ز کے تماشے …. انہیں دیکھ کر لوگ خوب بنتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے لیے تروتازہ ہو جاتے ہیں لیکن یہ کیفیت تو خوشی نہیں ہے۔ یہ تو محض چند مزاح جملوں یا حرکتوں کا ایک وقتی رد عمل ہے۔
یادر کھو….! حقیقی خوشی باہر سے نہیں ملتی۔ حقیقی خوشی اندر سے ہوتی ہے۔ جیسے پانی کا چشمہ کسی زمین میں سے پھوٹ پڑتا ہے۔
دوست کی بات سن کر میں نے کہا۔ تم بہت گہری باتیں کر رہے ہو۔ یہ سننے میں تو اچھی لگ رہی ہیں لیکن انہیں سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے۔
ہاں تم نے ٹھیک کہا۔ ان باتوں کو سمجھنے کے لیے اور خود اپنے جذبوں کی درست تفہیم کے لیے کچھ مراحل طے کرنا ضروری ہیں۔ اچھا …. وہ کیسے….؟
دیکھو …. ! تم مرزا غالب ، میر درد، اقبال یا فیض کا کلام پڑھتے ہو تو غالب کے کلام کی تفہیم کے لیے ان کے کلام کے کسی ماہر استاد سے رابطہ کرتے ہو۔ اقبال کو سمجھنا ہو تو اقبالیات کے ماہر کے پاس جاؤ گے۔ ہاں۔ بالکل ٹھیک۔
اسی طرح کئی گہری باتوں کو سمجھنے کے لیے، اور خود اپنے کئی جذبوں کی درست تفہیم کے لیے کچھ مراحل طے کر نالازمی ہیں۔
تمہاری بات سمجھ میں تو نہیں آرہی لیکن چلو ….
مان لیتا ہوں۔
اچھا ٹھیک ہے تو میری کچھ اور باتیں بھی فی الحال مان لو۔
….
مولانا رومی کو پڑھا کرو اور ان کے بیان کردہ نکات پر غور کیا کرو۔
مثلاً …. میں نے کسی خاص سکتے کی نشان دہی کے لیے پوچھا۔
مثلا یه
که آدمی دید است باقی پوست است
دید آن است آن که دید دوست است
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جنوری 2026
![]()

