Daily Roshni News

مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی

صدر مملکت نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق آئین کے آرٹیکل 48 اور 101 کے تحت گورنر سندھ کی تقرری کی سمری صدر مملکت کو بھجوائی گئی تھی جسے منظور کر لیا گیا۔ اس منظوری کے بعد نہال ہاشمی کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

نامزد گورنر سندھ نہال ہاشمی اسلام آباد سے کراچی پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے اپنی نئی ذمہ داری کے حوالے سے ابتدائی ردعمل بھی دیا۔

کراچی پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ وہ ان تمام کارکنوں اور لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ان کے لیے دعائیں کیں اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جلد ان کی ٹیم اس بات کا اعلان کرے گی کہ وہ کب گورنر سندھ کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حلف اٹھانے کے بعد وہ اپنی ترجیحات طے کریں گے اور آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کریں گے۔

نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ وہ ایک آئینی گورنر کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں گے اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے کام کریں گے۔

دوسری جانب گورنر سندھ کی تبدیلی کے فیصلے پر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان مسلم لیگ ن کی اتحادی جماعت ہے اور گورنر سندھ کا عہدہ روایتی طور پر ایم کیو ایم کے پاس رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عہدے سے ایم کیو ایم کو محروم کیا جا رہا ہے جو پارٹی کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ ماضی میں یہ روایت رہی ہے کہ سندھ کا گورنر ایم کیو ایم پاکستان سے ہوتا ہے، اس لیے موجودہ فیصلہ پارٹی کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت اس طرح کے یکطرفہ فیصلے کرتی ہے تو پھر حکومت میں رہنے کا جواز بھی ختم ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایم کیو ایم کو فوری طور پر وفاقی حکومت سے علیحدگی پر غور کرنا چاہیے۔

ادھر ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان نے بھی ایک بیان میں کہا کہ انہیں گورنر سندھ کی تبدیلی کے فیصلے کے بارے میں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا۔ ترجمان کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر ایم کیو ایم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پارٹی اس فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے اور جلد اپنی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔

واضح رہے کہ نہال ہاشمی کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ طویل عرصے سے پاکستان مسلم لیگ ن کی سیاست سے وابستہ ہیں۔ سیاسی حلقوں کے مطابق وہ سندھ میں پارٹی کے اہم اور سینئر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔

2015 میں نہال ہاشمی پنجاب سے جنرل نشست پر مسلم لیگ ن کے امیدوار کے طور پر سینیٹ آف پاکستان کے لیے منتخب ہوئے تھے۔

ان کی سیاسی خدمات کی بات کی جائے تو نہال ہاشمی 1997 سے 1999 تک اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے قانون، انصاف اور انسانی حقوق بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مختلف ادوار میں پارٹی کے تنظیمی عہدوں پر بھی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

سن 2012 میں انہیں کراچی میں پاکستان مسلم لیگ ن کا صدر مقرر کیا گیا تھا جبکہ 2014 میں اگست اور اکتوبر کے دوران انہیں مسلم لیگ ن سندھ کا جنرل سیکرٹری بھی تعینات کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 2015 میں وہ پنجاب سے جنرل نشست پر مسلم لیگ ن کے امیدوار کے طور پر سینیٹ آف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے۔

اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما کامران ٹیسوری 10 اکتوبر 2022 سے گورنر سندھ کے عہدے پر فائز تھے۔ نہال ہاشمی کی تقرری کے بعد صوبے کی گورنری میں تبدیلی آ گئی ہے۔

Loading