معراجِ مصطفیٰ ﷺ: سمولیشن تھیوری عقل، سائنس اور ایمان کا ایک محتاط تجزیہ!
تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد )معراجِ مصطفیٰ ﷺ: سمولیشن تھیوری، ٹائم پیراڈوکس اور الوہی مشاہدات کی روشنی میں مادی کائنات کے پار: عقل، سائنس اور ایمان کا ایک محتاط تجزیہ! – بلال شوکت آزاد
انسانی تاریخ کے اس حیران کن ترین واقعے، جسے ہم “معراج” یا “اسریٰ” کے نام سے جانتے ہیں، نے صدیوں سے انسانی شعور کو جھنجھوڑ کر رکھا ہے۔
یہ سفر صرف مکہ سے یروشلم یا زمین سے آسمان کا سفر نہیں تھا، بلکہ یہ اس “مادی قید خانے” سے باہر نکلنے کا سفر تھا جسے ہم “کائنات” اور “وقت” کہتے ہیں۔
آج کے اس دور میں جب ہمارے پاس کوانٹم فزکس، اسٹرنگ تھیوری اور سمولیشن ہائپوتھیسز (Simulation Hypothesis) وغیرہ وغیرہ جیسے سائنسی و ریاضیاتی نظریات موجود ہیں، ہم ان واقعات کو ماضی کے مقابلے میں کچھ بہتر انداز میں “تخیل یا تصور” (Visualize/Imagine) کر سکتے ہیں۔
لیکن یہاں ایک بنیادی اصول کو “تزویراتی احتیاط” (Strategic Caution) کے طور پر سامنے رکھنا انتہائی ضروری ہے:
“سائنس نام ہے “مشاہدے اور تجربے” کا، جو ہر سو سال بعد بدل جاتا ہے۔ کل تک نیوٹن کی فزکس حتمی تھی، آج آئن اسٹائن کی ہے، کل شاید کوانٹم گریوٹی آ جائے۔ لہٰذا، ہم ان سائنسی نظریات کو قرآن و حدیث کی “حتمی تفسیر” یا “تشریح” نہیں کہہ سکتے، بلکہ انہیں صرف ایک “عقلی سیڑھی” کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں تاکہ بات ہماری محدود عقل میں سما سکے۔ اگر کل کو یہ تھیوریاں غلط ثابت ہو جائیں تو بھی قرآن کا بیان اٹل رہے گا، کیونکہ خالق کا علم مخلوق کی دریافت سے مشروط نہیں ہے۔”
سب سے پہلے اس سب سے بڑے اشکال کو لیتے ہیں جو “وقت” (Time) اور “مستقبل کے مشاہدے” سے متعلق ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر نبی کریم ﷺ نے جنت اور جہنم میں اپنی امت کے لوگوں کو (مثلاً غیبت کرنے والوں کو یا سود خوروں وغیرہ کو) عذاب میں دیکھا، تو کیا آپ ﷺ مستقبل میں چلے گئے تھے؟
کیونکہ وہ لوگ تو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے، نہ مرے، نہ ان کا حساب ہوا۔
یہاں جدید سائنس کا ایک مقبول نظریہ “دی میٹرکس” (The Matrix) یا “سمولیشن تھیوری” (Simulation Theory) ہماری مدد کر سکتا ہے۔
بہت سے جدید فزکس دان (جیسے نک بوسٹروم) یہ کہتے ہیں کہ ہماری یہ مادی کائنات دراصل ایک بہت بڑے “پروگرام” یا “سمولیشن” کی طرح ہے جو “کوڈز” (Mathematics) پر چل رہی ہے۔
اگر ہم ایک لمحے کے لیے (محض سمجھنے کی خاطر) اس نظریے کو سامنے رکھیں، تو جو ہستی (خالق) اس سمولیشن کو چلا رہی ہے، وہ اس کے اندر (System) کے وقت کی پابند نہیں ہے۔
ایک پروگرامر کے لیے، اس کا بنایا ہوا سافٹ ویئر یا گیم ایک “مکمل فائل” کی صورت میں اس کی ہارڈ ڈسک پر موجود ہوتا ہے۔
گیم کے اندر موجود کردار کے لیے “لیول 1” حال ہے اور “لیول 10” مستقبل ہے جو ابھی نہیں آیا۔ لیکن پروگرامر (جو سسٹم سے باہر ہے) کے لیے لیول 1 اور لیول 10 دونوں بیک وقت “موجود” ہیں۔
معراج کی رات، اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو اس “کائناتی سمولیشن” (Universe) کے اندرونی ٹائم فریم سے نکال کر اس مقام پر بلا لیا جسے ہم “ایڈمنسٹریٹو زون” یا “عالمِ امر” کہہ سکتے ہیں۔
جب آپ سسٹم سے باہر نکلتے ہیں، تو آپ “بلاک یونیورس” (Block Universe) کو دیکھتے ہیں۔
جدید فزکس کے مطابق ماضی، حال اور مستقبل کوئی الگ الگ خانے نہیں ہیں بلکہ ایک “ٹھوس بلاک” (Space-time Block) کی طرح ہیں۔
اللہ کے علم میں کائنات کا آغاز اور انجام دونوں “ہو چکے” ہیں۔ لہٰذا نبی کریم ﷺ نے جب جہنم کو دیکھا، تو وہ “ٹائم ٹریول” کر کے مستقبل میں نہیں گئے تھے، بلکہ انہیں اس “بلندی” (Higher Dimension) پر کھڑا کیا گیا جہاں سے پوری کائنات کی ٹائم لائن ایک کھلی تصویر کی طرح نظر آ رہی تھی۔
وہ مناظر جو آپ ﷺ نے دیکھے، وہ اللہ کے علم میں “طے شدہ” (Accomplished Facts) تھے۔ اسے ہم “مستقبل” کہتے ہیں، اللہ کے ہاں وہ “ابدی حال” (Eternal Now) ہے۔
لہٰذا، ممکنہ طور پر یہ منظر “فیصلہ شدہ حقیقت” کا کشف تھا، جس میں تبدیلی کی گنجائش نہیں ہوتی۔
دوسرا پیچیدہ ترین سوال “وقت کے گزرنے” یا “تھم جانے” کا ہے۔
معترضین قرآن کی آیت
“إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ”
(اللہ کا ایک دن تمہارے ہزار سال کے برابر ہے)
کو بنیاد بنا کر کہتے ہیں کہ اگر نبی ﷺ وہاں چند گھنٹے (آدھا دن) بھی رہے تو زمین پر صدیاں گزر جانی چاہیے تھیں (جیسے فلم انٹرسٹیلر میں ہوتا ہے)۔
یہاں “نظریہ اضافیت” (Theory of Relativity) کا اطلاق کرنے میں ایک بڑی غلطی کی جاتی ہے۔
آئن اسٹائن کا نظریہ کہتا ہے کہ اگر آپ روشنی کی رفتار (Speed of Light) سے سفر کریں یا کسی بھاری کششِ ثقل (Black Hole) کے پاس جائیں، تو آپ کے لیے وقت سست ہو جائے گا اور زمین پر تیزی سے گزرے گا۔ اس حساب سے تو واپسی پر 500 سال گزر جانے چاہیے تھے۔ لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے۔ یہاں “ٹائم ڈائلیشن” (Time Dilation) نہیں، بلکہ “ٹائم اسٹاپ” (Time Stop) کا مظاہرہ نظر آتا ہے۔
اگر ہم دوبارہ “سمولیشن” کی مثال لیں:
جب آپ ویڈیو گیم کھیل رہے ہوتے ہیں اور آپ کو پانی پینا ہو، تو آپ گیم کو “Pause” کر دیتے ہیں۔ گیم کے کردار وہیں جم جاتے ہیں، دریا کا پانی تھم جاتا ہے، پرندے ہوا میں رک جاتے ہیں۔
آپ (پلیئر) کمرے میں چلتے ہیں، پانی پیتے ہیں، 10 منٹ گزارتے ہیں اور واپس آ کر “Play” کا بٹن دباتے ہیں۔ گیم کے کرداروں کے لیے “صفر سیکنڈ” گزرا، جبکہ آپ کے لیے 10 منٹ گزر گئے۔
معراج کی رات، خالقِ کائنات نے, جو وقت کا خالق ہے نہ کہ وقت کا پابند, زمینی وقت (Earth Time) کو “منجمد” (Freeze) کر دیا۔
نبی کریم ﷺ نے عالمِ بالا میں طویل مشاہدات کیے، اربوں کھربوں کلومیٹر کا سفر طے کیا، انبیاء سے ملاقاتیں کیں، لیکن یہ سب کچھ “لازماں” (Timelessness) کے زون میں ہوا۔ اس دوران زمین اپنی جگہ رکی رہی، بستر کی گرمائش وہیں تھمی رہی، اور لوٹے کا پانی گرتے گرتے رک گیا۔
جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے اور نظام دوبارہ “Play” ہوا، تو بستر ابھی گرم تھا۔ یہ آئن اسٹائن کی فزکس نہیں، یہ “کن فیکون” کی طاقت ہے۔
سائنس ہمیں یہ بتا سکتی ہے کہ وقت “نسبتی” (Relative) ہے، لیکن وقت کو روکنا فی الحال سائنسی حدود سے باہر ہے، مگر خالق کے لیے یہ ایک معمولی بات, بہت ہی معمولی بات ہے۔
اس سفر کی “جسمانی یا روحانی” نوعیت پر جو سوال اٹھایا گیا ہے، اس کا جواب بھی انتہائی لطیف ہے۔
اگر ہم اسے صرف “روحانی” یا “خواب” کہہ دیں تو سائنسی اور عقلی الجھنیں ختم ہو جاتی ہیں، لیکن پھر قرآن کا اعجاز بھی ختم ہو جاتا ہے۔
لفظ “عبد” (بندہ) جسم اور روح کے مجموعے کو کہتے ہیں۔ اگر یہ خواب ہوتا تو کفارِ مکہ شور نہ مچاتے، کیونکہ خواب میں تو کوئی بھی اڑ سکتا ہے۔
قریش کا انکار اس بات کی دلیل ہے کہ دعویٰ “جسمانی بیداری” کا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ مادی جسم اتنی بلندی پر کیسے گیا؟
مادی جسم کو تو خلا میں آکسیجن چاہیے، تابکاری (Radiation) سے بچاؤ چاہیے اور روشنی کی رفتار سے چلنے پر وہ بکھر کر انرجی بن جاتا ہے۔
یہاں ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ جس طرح حضرت ابراہیمؑ کے لیے آگ کی “جلانے والی خاصیت” ختم کر دی گئی تھی، اسی طرح معراج کی رات نبی کریم ﷺ کے جسمِ اطہر کے لیے فزکس کے قوانین (جیسے Inertia, Friction, Radiation) کو معطل (Suspend) کر دیا گیا تھا۔
یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ آپ ﷺ کے جسمِ اطہر کو “نورانی کثافت” میں تبدیل کر دیا گیا ہو (جیسے E=mc² کے تحت مادہ انرجی بن سکتا ہے)۔
رہی بات انبیاء سے ملاقات کی، تو یہ “عالمِ تمثل” (Holographic Reality) کا مظاہرہ ہو سکتا ہے۔ انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں، لیکن عالمِ بالا میں ان کی ارواح کو “مثالی اجسام” عطا کیے گئے۔
اسے سمجھنے کے لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایسے ہی ہے جیسے “میٹا ورس” (Metaverse) میں آپ کا “اواٹار” (Avatar) ہوتا ہے۔ وہ اواٹار دیکھنے میں بالکل آپ جیسا ہوتا ہے، چلتا پھرتا ہے، ہاتھ ملاتا ہے، لیکن وہ گوشت پوست کا نہیں ہوتا۔
انبیاء کے وہ اجسام لطیف تھے، اسی لیے آسمانوں پر ان کی موجودگی ممکن ہوئی۔ یہ ملاقاتیں “ورچوئل” نہیں تھیں، بلکہ روحانی دنیا کی “حقیقت” تھیں جو مادی دنیا سے زیادہ ٹھوس ہے۔
“مسجد اقصیٰ” کے مقام پر جو اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ وہاں تو کوئی مسجد تھی ہی نہیں، وہ عمارت تو بنو امیہ نے بنائی، یہ اعتراض لغت اور تاریخ سے لاعلمی کا نتیجہ ہے۔
عربی میں “مسجد” کسی عمارت (Building) کو نہیں کہتے، بلکہ “سجدہ گاہ” (Place of Prostration) کو کہتے ہیں۔ قرآن نے لفظ “مسجد” استعمال کیا، “عمارت” نہیں۔
یروشلم کا وہ پہاڑی احاطہ (Temple Mount) حضرت آدمؑ سے لے کر سلیمانؑ اور عیسیٰؑ تک تمام انبیاء کا قبلہ اور مرکز رہا ہے۔
وہاں سلیمانؑ کی تعمیر کردہ ہیکل کے کھنڈرات اور بنیادیں موجود تھیں۔ اللہ کے نزدیک وہ “پلاٹ” اور وہ “زمین” تا قیامت مسجد ہے۔
نبی کریم ﷺ کا سفر اس سنہری گنبد (Dome of the Rock) کی طرف نہیں تھا جو آج نظر آتا ہے، بلکہ اس “مقامِ مقدس” کی طرف تھا جسے قرآن نے “بَارَكْنَا حَوْلَهُ” (جس کے گرد ہم نے برکت رکھی) کہا۔
وہ برکت والا خطہ فلسطین ہی ہے۔ مدینہ یا جیعرانہ کو مسجد اقصیٰ کہنا قرآن کی صریح نصوص کو توڑنے کے مترادف ہے۔
“صریف الاقلام” (قلموں کے چلنے کی آواز) کے بارے میں جو سوال ہے کہ اگر تقدیر 50 ہزار سال پہلے لکھی جا چکی ہے (تقدیرِ مبرم) تو وہاں کیا لکھا جا رہا تھا؟
اسے ہم کمپیوٹر کی زبان میں یوں سمجھ سکتے ہیں:
ایک ہوتا ہے “Source Code” (جو پروگرامر نے لکھ دیا اور لاک کر دیا، یہ لوحِ محفوظ ہے) اور ایک ہوتا ہے “Runtime Execution” (پروگرام کا چلنا)۔
جو آواز نبی کریم ﷺ نے سنی، وہ ان فرشتوں (ایڈمنسٹریٹرز) کے قلموں کی تھی جو “ہیڈکوارٹرز” (لوحِ محفوظ) سے “آج کا ڈیٹا” (Daily Task List) کاپی کر رہے تھے تاکہ اسے زمین پر نافذ (Execute) کریں۔
قرآن کہتا ہے:
“كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ”
(ہر روز وہ ایک نئی شان میں ہے)۔
یعنی بارش کہاں برسانی ہے، کس کو رزق دینا ہے، کس کی موت واقع ہونی ہے۔
یہ “تقدیر لکھنے” کا نہیں بلکہ “انتظامی احکامات جاری کرنے” کا مقام تھا۔ ماں کے پیٹ میں جو لکھا جاتا ہے وہ فرد کی “پروفائل” ہے، جبکہ معراج میں جو سنا گیا وہ “کائنات کا آپریٹنگ سسٹم” چلنے کی آواز تھی۔
50 نمازوں کی فرضیت اور پھر کمی کا واقعہ، جس پر کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ کیا (معاذ اللہ) خدا کو علم نہیں تھا کہ امت نہیں پڑھ سکے گی، اور موسیٰؑ زیادہ سمجھدار نکلے؟
یہ دراصل “لاعلمی” کا مسئلہ نہیں، بلکہ “تربیت” اور “رحمت” کا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ پہلے سے جانتا تھا کہ حتمی تعداد 5 ہی ہوگی (جیسا کہ آخر میں فرمایا: “یہ پانچ ہیں اور اجر میں پچاس ہیں”)۔ یہ مکالمہ دراصل “Negotiation Protocol” کا حصہ تھا۔
اگر اللہ شروع میں ہی 5 نمازیں دے دیتا، تو انسان کو ان کی “قدر و قیمت” (Value) کا اندازہ نہ ہوتا۔ 50 سے شروع کر کے 5 پر لانا یہ بتانے کے لیے تھا کہ
“اے انسان! تیرا ٹارگٹ 50 کا تھا، لیکن تیری کمزوری کی وجہ سے تجھے 90 فیصد ڈسکاؤنٹ دیا گیا ہے۔ اب ان 5 کو ضائع مت کرنا۔”
موسیٰؑ کا کردار یہاں ایک “تجربہ کار مینٹور” (Mentor) کا تھا، جنہوں نے بنی اسرائیل کی نفسیات دیکھی تھی۔ یہ اللہ کی حکمت تھی کہ اس تخفیف کا ذریعہ ایک جلیل القدر پیغمبر کو بنایا۔
احادیث میں بظاہر نظر آنے والا تعارض (مثلاً کہیں گھر سے روانگی، کہیں حطیم سے، کہیں شقِ صدر کا ذکر کہیں نہیں) دراصل “تضاد” نہیں بلکہ “تنوعِ بیان” (Variation in Narration) ہے۔
واقعہ معراج ایک طویل ترین واقعہ ہے جو رات کے ایک حصے میں پیش آیا۔ نبی کریم ﷺ نے یہ واقعہ مختلف مجلسوں میں صحابہ کو سنایا۔
کسی مجلس میں آپ نے سفر کی شروعات (ام ہانی کے گھر سے) بیان کیں، کسی میں درمیانی حصہ (حطیم کعبہ) بیان کیا۔ جس راوی نے جو ٹکڑا سنا، وہ بیان کر دیا۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک بڑے ایونٹ کی رپورٹنگ چار الگ الگ صحافی کریں۔ ایک صحافی “انٹری” کی بات کرے گا، دوسرا “کھانے” کی، تیسرا “خطاب” کی۔
ان کی باتوں میں فرق ضرور ہوگا مگر وہ جھوٹ نہیں بول رہے، بلکہ تصویر کے مختلف رخ دکھا رہے ہیں۔
محدثین (جیسے ابن حجرؒ) نے ان تمام ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک مکمل ٹائم لائن (Timeline) مرتب کی ہے جس میں کوئی تضاد نہیں رہتا۔
آخر میں، اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور گفتگو کی نوعیت۔
کیا اللہ نے مصافحہ کیا؟
کیا کسی خاص لہجے میں بات کی؟
یہاں ہمیں “تشبیہ” (Anthropomorphism) سے ہر صورت بچنا ہوگا, گریز اور پرہیز کرنا ہوگا۔
کیوں؟
کیونکہ, اللہ تعالیٰ مادہ نہیں ہے معاذ اللہ، اس کا کوئی جسم نہیں، نہ ہاتھ ہیں نہ ووکل کارڈز۔ وہ روایات جن میں مصافحہ کرنے یا کندھے پر ٹھنڈک محسوس کرنے کا ذکر ہے، محدثین کی تحقیق کے مطابق وہ اکثر “رویا” (نیند کے خواب) کے واقعات ہیں جو معراج (بیداری) کے ساتھ خلط ملط ہو گئے ہیں, یا صحیح احادیث ہی نہیں ہیں۔
معراج میں جو دیدار ہوا، وہ صحیح مسلم کی حدیث “نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ” (وہ نور ہے) کے مصداق “تجلیِ نور” کا دیدار تھا۔
اللہ کا حجاب “نور” ہے اور نبی ﷺ نے اسی تجلی کا مشاہدہ کیا۔
گفتگو کا طریقہ “وحی” یا “براہِ راست القاء” (Direct Revelation) تھا جو آواز اور الفاظ کی محتاج نہیں۔
یہ ڈیٹا کا ایسا “Direct Transfer” تھا جو قلبِ مصطفیٰ ﷺ پر اتارا گیا۔ یہ خالق اور مخلوق کے درمیان ایک ایسا لطیف ترین رابطہ تھا جسے انسانی زبان بیان کرنے بلکہ سمجھنے اور تصور کرنے سے بھی قاصر ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ معراج کا واقعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہ کائنات ایک “بند سسٹم” (Closed System) نہیں ہے، بلکہ اس کا ایک “ایگزٹ ڈور” (Exit Door) بھی ہے جو صرف اللہ کے حکم سے کھلتا ہے۔
یہ واقعہ عقل کو عاجز کرنے کے لیے ہے، اسے چیلنج کرنے کے لیے نہیں۔ ہم سائنس کی موجودہ تھیوریز کی روشنی میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ
“ہاں! ایسا ہونا عقلی طور پر ممکن ہے”،
لیکن حتمی حقیقت (Absolute Reality) کیا تھی، وہ صرف اللہ اور اس کا رسول ﷺ جانتے ہیں۔
ہمارا کام ایمان لانا اور اس “غیب” کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے, جیسا حضرت ابوبکر صدیق اکبر نے کیا۔
واللہ اعلم بالصواب
(اور اللہ ہی حق کو بہتر جانتا ہے)۔
#سنجیدہ_بات
#آزادیات
#بلال #شوکت #آزاد
![]()

