میکرو ارتقاء کے لیے ایسا سائنسی چیلنج اور سوال جس کا سائنسی جواب نہیں
تحریر: مفتی سید فصیح اللہ شاہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر: مفتی سید فصیح اللہ شاہ )اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ چونکہ انسان اور چمپینزی کے ڈی این اے میں تقریبا 98٪ مماثلت ہے اس لیے دونوں کس ی مشترکہ جد امجد Common Ancestor سے ارتقائی سفر طے کر کے یہاں تک پہنچے۔
یہ دعویٰ سننے میں اچھا لگتا ہے مگر HAR1 جین اس بیانیے کو علمی چیلنج دیتا ہے۔
وہ کیسے؟
تو پہلے سمجھتے ہیں کہ HAR1 کیا ہے؟ Human Accelerated Region 1 (HAR1) ایک مختصر مگر نہایت اہم جینیاتی خطہ ہے جو لمبائی میں 118 بیس پیئرز ہوتا ہے یہ انسانی دماغ کے نیوکورٹیکس (Cortex) کی تہہ بندی میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔
ارتقائی پروسز ہمیں بتاتا ہے کہ
مرغی اور چمپینزی تک 31 کروڑ سال میں صرف 2 تبدیلیاں ہوئیں جبکہ چمپینزی کے مقابلے میں انسانی دماغ میں 80 لاکھ سال 18 تبدیلیاں ہوئیں اس حساب سے مرغی سے چمپینزی کے اس جین میں ہر 15.5 کروڑ سال میں 1 تبدیلی ہوئی اور انسانی لائن میں
ہر 4.4 لاکھ سال میں 1 تبدیلی ہوئی یعنی انسانی HAR1 جین میں تبدیلی کی رفتار عام ارتقائی رفتار سے تقریباً 350 گنا زیادہ ہے
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض (Random Mutation) تھا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ Poisson Distribution کے مطابق
متوقع تبدیلیاں 0.27 ہے جبکہ اصل تبدیلیاں 18 ہیں ہر تبدیلی کا احتمال 10^{-15} سے بھی کم
یعنی عملی طور پر صفر ہے۔
یعنی چمپینزی اور انسان کا مشترکہ جد امجد (Common Ancestor) سے نکل کر انسانی دماغ کا موجودہ حالت پہنچنا صفر امکان رکھتا ہے۔
ممکن ہے ارتقائی احباب اس میں یہ تاویل کریں کہ مرغی اور چمپینزی پر کوئی ارتقائی دباؤ نہیں تھا مگر
انسان پر شدید ماحولیاتی دباؤ تھا اس لیے تبدیلی تیز ہوئی۔
اس کا جواب یہ ہے کہ کیا یہ تاویل سائنسی ہے؟ اس کا جواب ہے کہ نہیں۔ کیونکہ ارتقائی دباؤ ایک اندازہ (assumption) ہے۔ کوئی معیار اور پیمانہ نہیں کوئی قابل پیمائش ڈیٹا موجود نہیں کیونکہ
دباؤ کتنا تھا؟
کب تھا؟
کیوں صرف HAR1 پر؟
دباؤ کی وضاحت بعد از واقعہ (post hoc) ہے پیش گوئی نہیں۔
یعنی ہونا تھا تو ہوگیا اب ہوگیا تو دباؤ کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں دباؤ آیا ہوگا تو ہوا ہوگا
یہ سب اندازے اور تخمینے ہیں مشاہداتی اور تجرباتی سائنسی بیانیہ نہیں۔
تاویل نمبر 2:
ارتقائی دوست یہ تاویل کر سکتے ہیں کہ Positive Selection نے فائدہ مند تبدیلیوں کو محفوظ کیا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر مان لیا جائے مگر تب مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ Positive Selection تبدیلی پیدا نہیں کرتا وہ صرف پہلے سے موجود تبدیلیوں کو چنتا ہے تو سوال باقی ہے کہ وہ 18 مخصوص ہم آہنگ ساخت بدل دینے والی تبدیلیاں ایک ساتھ کہاں سے آئیں؟ اور کیونکر آئیں؟
تاویل نمبر 3:
ارتقائی احباب تیسری تاویل یہ کر سکتے ہیں کہ انسانی ذہانت بقا کے لیے ضروری تھی اس لیے تیز ارتقاء ہوا۔
اس جواب بھی یہ ہے کہ یہ سائنسی وضاحت نہیں بلکہ فعالی کہانی (adaptive narrative) ہے۔
فلسفۂ سائنس میں اسے کہتے ہیں Just-So Story یعنی نتیجہ پہلے معلوم ہے تو کوئی کہانی بنا دو۔ چونکہ انسانی دماغ موجودہ حالت میں موجود ہے تو کہانی بعد میں گھڑی گئی یہ وضاحت قابل آزمائش پیش گوئی نہیں دیتی۔
تاویل نمبر 4:
ارتقائی احباب چوتھی تاویل یہ کر سکتے ہیں کہ یہ سب ارتقاء کی غیر معمولی مگر ممکنہ مثال ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ سائنس میں انتہائی غیر محتمل واقعات تبھی قبول ہوتے ہیں جب ان کا احتمال قابل دفاع ہو یا متبادل وضاحتیں رد ہو چکی ہوں۔ جبکہ یہاں احتمال(Probability) صفر ہے پھر بھی متبادل وضاحتوں پر پابندی صرف فلسفیانہ تعصب ہے۔ سائنسی نہیں
دوسری گزارش یہ ہے کہ مسئلہ صرف تعداد کا نہیں بلکہ چمپینزی میں HAR1 سادہ لڑی ہے جبکہ انسان میں HAR1: Cloverleaf جیسی پیچیدہ ساخت ہے۔ یہ فرق نیورونل کنکشنز
دماغی تہہ بندی
اعلیٰ ادراکی صلاحیت
کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔
یہ درجہ بہ درجہ معمولی تبدیلی نہیں بلکہ ساختی جست (structural leap) ہے۔
لہٰذا ٪98 یا اس سے کم فیصد ڈی این اے مماثلت مشترکہ جد امجد کا فیصلہ کن ثبوت نہیں۔کیونکہ HAR1 جیسے جینز سادہ ارتقائی تسلسل کو توڑ دیتے ہیں۔
#muftisyedfaseehullahshah
![]()

