ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ والدین کی نافرمانی کا انجام۔۔۔ انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی)بیوی نے شوہر کو کال کی ماں بیمار ہے جلدی گھر آجاؤ ۔ شوہر : اہ کیا ہوا امی کو ؟ اچھا روکو میں آتا ہوں۔ شوہر گھر پہنچا تو دیکھا ماں چارپائی پے بے بس پڑی تھی ۔ بیٹا: کیا امی آپ کو کتنی دفعہ بولا ہے ادھر ادھر مت جاؤ ، دیکھ اب ہوگئی نہ بیمار ۔
بیوی: ذرا ادھر آؤ بات سنو ۔اس کو اولڈ ہاؤسز میں چھوڑ آتے ہیں۔ شوہر نہیں لوگ کیا کہیں گے۔ بیوی: ارے ماں ہماری ہے تو لوگوں کو کیا ہم جو مرضی کریں کبھی ہم نے لوگوں کو بولا کیا کر رہے ہو ۔ شوہر دیکھ لو ، بیوی ارے چھوڑو یار سب ڈاکٹروں سے بات ہوگئی ہے میری وہ رپوٹ بنا دیں گے کہ یہ پاگل ہے اسے گھر میں رکھنا خطرہ ہے بچوں کے لیے۔ شوہر اوکے ٹھیک ہے چلو۔ دونوں نے مل کر اٹھایا اور گاڑی میں بیٹھاکر ہسپتال لے گے وہاں سب ویسا ہی ہوا جو طے ہوا تھا۔ ماں کو پاگل خانے بھیج دیا گیا۔
کچھ عرصہ بعد عید آئی۔ کچھ لوگ پاگل خانے کا وزٹ کرنے آئے تو دیکھا اک بوڑھی عورت ایک کونے میں الگ بیٹھی ہے پوچھا یہ کیوں الگ بیٹھی ہے۔ انتظامیاں کا ایک بندہ بولا یہ پاگل ہے اسے الگ رکھا ہے کیونکہ بہت ڈینجرس ہے ۔ وزٹ کرنے والوں میں کچھ عورتیں بھی تھیں ان میں سے ایک عورت نے کہا مجھے اس سے ملنا ہے سب نے کہا یہ ڈنجرس ہے مت جائیے ادھر ۔ مگر وہ نہ مانی اور اندر داخل ہو گئی ۔
اس نے بولا کیسی ہیں آپ۔ اس بوڑھی عورت نے روتی آنکھوں اور حسرت بھرے لہجے میں کہا۔ بیٹا بس زندہ ہوں اور زارو قطار روتے ہوئے گلے سے لپٹ گئی۔ سب دیکھ کر بہت حیران ہوئےکہ یہ کیا آپ سب تو بولے تھے کہ یہ تو ڈینجرس ہے پاگل ہے مگر یہ تو پاگل نہیں ہے۔ ماں نے سب کچھ بتا دیا۔ اس نیک عورت نے اس بوڑھی ماں کو کہا میں آپ کو اپنے گھر لے جانا چاہتی ہوں پلیز انکار مت کرنا۔ ماں تھی انکار کہاں آتا ہے ماں کو بول دی ٹھیک ہے۔
ماں اک بڑے سے بنگلے میں رہنے لگی اک عرصہ گزر گیا۔ پھر اک دن اچانک ایک مانگنے والا اس بنگلے کے سامنے مانگنے کے لیے رکا۔ گھر کے سب لوگ کہیں گے ہوئے تھے تو ماں نے دروازہ کھولا سامنے اک پھٹے کپڑے ٹوٹے جوتے بدحواس سی شکل کا آدمی کھڑا تھا بولا اے مائی دے دے اللہ تعالیٰ کے نام پے کئی دنوں سے بھوکا هوں۔ اب یہ تو ماں تھی اس نے جھٹ سے پہچان لیا کہا تم فلاں فلاں جگہ سے آئے ہو نا?? فقیر بولا ہاں جی!! ماں بولی تمہاری ماں فلاں پاگل خانے میں ہے?? فقیر بولا ہاں!!
مگر آپ یہ سب کسے جانتیں ہیں?? ماں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور اس نے وہیں پے اسے اپنے گلے سے لگالیا اور بولی میں وہی تیری ماں ہوں جیسے توں پاگل خانے چھوڑ آیا تھا ۔ بیٹا بھی رونے لگاسب گھر والے بھی آ گئے سب کچھ دیکھ کر ماں کو روتا دیکھ کر سب رونے لگے ماں نے بیٹے کے ساتھ رہنے کی خواہش کی پھر سب نے کہا اب تیرے ساتھ تیرا بیٹا بھی ادھر ہی رہے گا۔ اور یوں اک بدبخت شخص اپنے بخت کو جا پہنچا۔۔۔۔ماں کی قدر کرو تاکہ لوگ آپ کی قدر کریں۔ پلیز پڑھ کر شیئر ضرور کریں تاکہ کوئی بیٹا یا بیٹی اپنے ماں اور باپ کی نا قدری نہ کریں….!!!
اچھی باتیں کوئی بھی شیئر نہیں کرتا ناچ گانے اور گناہ کی باتیں شیئر کرتے ہیں برائے مہربانی لائک شیئر اور فالو کر لیں شُکریہ
![]()

