Daily Roshni News

وہ سلطان جو انصاف کے خوف سے سو نہ سکا…

وہ سلطان جو انصاف کے خوف سے سو نہ سکا…

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جب ایک مظلوم کی آہ، سلطان کی نیند چھین لے!

ایک رات سلطان محمود غزنوی کو بہت کوشش کے باوجود نیند نہ آئی۔ بےچینی بڑھتی گئی تو اپنے غلاموں سے فرمایا:

“میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ آج میری سلطنت میں کسی مظلوم پر ظلم ہوا ہے۔ تم لوگ شہر کی گلیوں میں جاؤ، اگر کوئی فریادی ملے تو فوراً میرے پاس لے آؤ۔”

کچھ دیر بعد سب واپس آئے اور عرض کیا:

“سلطان! ہمیں کوئی فریادی نہیں ملا، آپ آرام فرمائیں۔”

لیکن سلطان کی بےچینی کم نہ ہوئی۔ آخرکار وہ خود سادہ لباس پہن کر محل سے باہر نکل آئے۔ محل کے پیچھے حرم سرا کے قریب ایک شخص کی فریاد سنائی دی:

“اے اللہ! تیرا یہ بندہ ظلم کا شکار ہے، اور سلطان محمود اپنے محل میں آرام کر رہا ہے!”

سلطان فوراً آگے بڑھے اور فرمایا:

“میں ہی محمود ہوں، مجھے بتاؤ تمہارے ساتھ کیا ظلم ہوا ہے؟”

اس شخص نے عرض کیا:

“آپ کے درباریوں میں سے ایک شخص ہر رات میرے گھر آتا ہے اور میری بیوی پر ظلم کرتا ہے۔”

سلطان نے پوچھا:

“وہ اس وقت کہاں ہے؟”

اس نے کہا:

“شاید اب جا چکا ہے۔”

سلطان نے فرمایا:

“جب وہ دوبارہ آئے تو فوراً مجھے اطلاع دینا، چاہے میں نماز ہی میں کیوں نہ ہوں۔”

اگلی رات اطلاع ملی کہ وہ شخص پھر گھر میں موجود ہے۔ سلطان فوراً تلوار لے کر اس شخص کے ساتھ چل پڑے۔ گھر کے قریب پہنچ کر فرمایا:

“گھر کے چراغ بجھا دو۔”

اندھیرے میں اندر داخل ہو کر سلطان نے اس ظالم کو قتل کر دیا۔ پھر فرمایا:

“اب چراغ روشن کرو۔”

جب چہرہ دیکھا تو فوراً سجدۂ شکر ادا کیا۔

اس کے بعد سلطان نے گھر کے مالک سے فرمایا:

“اگر کچھ کھانے کو ہو تو لے آؤ، مجھے بہت بھوک لگی ہے۔”

وہ حیران ہو کر بولا:

“آپ جیسا عظیم سلطان میرے غریب گھر کا کھانا کھائے گا؟”

سلطان نے فرمایا:

“جو کچھ ہے لے آؤ۔”

وہ ایک سوکھی روٹی لے آیا جسے سلطان نے رغبت سے کھایا۔ پھر اس شخص نے عرض کیا:

“چراغ بجھانے، سجدہ کرنے اور روٹی مانگنے کی کیا وجہ تھی؟”

سلطان محمود غزنوی نے جواب دیا:

“جب میں نے تمہاری فریاد سنی تو مجھے خیال آیا کہ میری سلطنت میں ایسا ظلم شاید میرا اپنا بیٹا ہی کر سکتا ہے۔ اسی لیے چراغ بجھانے کا حکم دیا تاکہ باپ کی محبت انصاف کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے۔ جب چراغ روشن ہونے پر دیکھا کہ وہ میرا بیٹا نہیں تو میں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔

اور کھانا اس لیے مانگا کہ جب سے تمہاری مصیبت کا علم ہوا تھا، میں نے اللہ سے قسم کھائی تھی کہ جب تک تمہیں انصاف نہ دلوا دوں، میں نہ کچھ کھاؤں گا نہ پانی پیوں گا۔”

یہ تھا ایک سچے حکمران کا انصاف…

جو مظلوم کی فریاد کو اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا، نہ کہ ایک خبر۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو کمنٹ ضرور کریں، پوسٹ کو شیئر کریں اور مزید ایسی تاریخی، اصلاحی اور سبق آموز تحریروں کے لیے مجھے فالو ضرور کریں۔ 📚✨

The story of Sultan ❤️🥰

Fakhre Alam Yasir Habib Muna Bahi Mohsin Raza Nawaz Fadi Pst Sarkar Zeeshan Iqbal

#story #urdu #inspiration #islam #zeeshaniqbal

Loading