*ویانا میں امام حسینؑ سیرت کانفرنس، اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کا مثالی اتحاد، ایک دوسرے کے پیچھے نمازِ مغرب ادا*
آسٹریا (ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔رپورٹ ۔۔۔ویانا محمد عامر صدیق)آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں حضرت امام حسینؑ کی سیرت، پیغامِ کربلا اور اتحادِ امت کو اجاگر کرنے کے لیے ایک پروقار امام حسینؑ سیرت کانفرنس کا امام سجاد اسلامک سینٹر ویانا 11 ڈسٹرکٹ میں انعقاد کیا گیا جس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام، سماجی و مذہبی شخصیات اور پاکستانی کمیونٹی نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
جبکہ ایران سے آئے ہوئے آغا منتظری مہندی علی مسجد ویانا مہمانِ خصوصی تھے۔ اس موقع پر علامہ غلام مصطفیٰ بلوچ، پروفیسر شوکت اعوان، مہمان خصوصی علامہ سید مرید حسین نقوی آف ڈنمارک اور سید شبیر نقوی سمیت دیگر مقررین نے اپنے خطابات میں حضرت امام حسینؑ کی سیرت، فلسفۂ کربلا اور ظلم کے خلاف حق و صداقت کی جدوجہد پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی قربانی صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے حق، صبر اور استقامت کی عظیم مثال ہے۔
تقریب کے دوران بین المسالک اتحاد اور بھائی چارے کی ایک خوبصورت مثال اس وقت دیکھنے کو ملی جب افطاری کے بعد اہل تشیع علامہ سید مرید حسین نقوی آف ڈنمارک نے اہلسنت والجماعت کے معروف عالمِ دین علامہ غلام مصطفیٰ بلوچ کو نمازِ مغرب کی امامت کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کیا۔ اس موقع پر اہلِ تشیع اور اہلِ سنت سے تعلق رکھنے والے تمام شرکاء نے متحد ہو کر علامہ غلام مصطفیٰ بلوچ کی امامت میں نمازِ مغرب ادا کی جس سے ویانا میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد، ہم آہنگی اور باہمی احترام کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں آیا جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
تقریب میں نعت و منقبت کا بھی اہتمام کیا گیا جبکہ معروف نعت خواں شہریار خان نے بارگاہِ رسالتؐ اور شہدائے کربلا میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔
آخر میں تقریب کے منتظمین سید غلام حسین نقوی، سید مظاہر حسین رضوی اور سید غالب حسین نقوی نے تمام معزز مہمانوں، علماء کرام اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ منتظمین نے بالخصوص اہل سنت والجماعت کے علماء اور کمیونٹی کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس کانفرنس میں شرکت کر کے اتحادِ امت اور بھائی چارے کا عملی پیغام دیا۔ تقریب کا اختتام اجتماعی دعا کے ساتھ ہوا جس میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، امن اور سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
![]()









