پیشاب کے بعد نکلنے والے قطروں کا تفصیلی حکم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) پیشاب کا قطرہ نکلنے کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے:
شریعت کا عام اصول یہ ہے کہ پیشاب ان چیزوں میں سے ہے جو کہ وضو کو توڑ دیتی ہیں، اس لیے وضو کرنے کے بعد جب بھی پیشاب کا قطرہ نکل آئے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
🌻 نماز کے دوران پیشاب کا قطرہ نکلنے کا حکم:
نماز کے دوران بھی اگر کوئی پیشاب کا قطرہ نکل آئے تو اس سےوضو ٹوٹ جاتا ہےچاہے انفرادی نماز ادا کررہا ہو یا جماعت کے ساتھ، اس لیے اس کو چاہیے کہ وہ دوبارہ وضو کرکے نماز میں شامل ہوجائے، اگر باجماعت نماز میں وضو کے لیے جانے کا راستہ نہ ہو تو نمازی حضرات کے سامنے سے بھی گزرنا درست ہے۔
🌻 پیشاب کے قطروں کی روک تھام کے لیے تدابیر:
جس شخص کو پیشاب سے فارغ ہوجانے کے بعد بھی وقتًا فوقتًاچند قطرے آنے کا مرض ہو تو وہ پیشاب کے بعد کچھ انتظار کرے اور ایسی تدابیر اختیار کرے کہ جس سے جسم ڈھیلا پڑے اور وہ قطرے نکل جائیں، جیسے کھانس لے، چل پھر لے یا لیٹ جائے، پھر اس کے بعد وضو کرے، اور ہونا یہ چاہیے کہ نماز سے اتنی دیر پہلے پیشاب کرلیا کرے کہ نماز تک وہ بقیہ قطرے بھی نکل جائیں اور وضو کرکے جماعت میں بھی شامل ہوا جائے۔
🌻 پیشاب کے قطروں کا مریض معذور کب بنتا ہے؟
بہت سے لوگ اس بات سے بھی ناواقف ہیں کہ پیشاب کے قطروں کا مریض معذور کب بنتا ہے؟ چنانچہ لوگ اپنے خود ساختہ قیاسات کی بنیاد پر فیصلہ کرتے رہتے ہیں اور اپنی نمازیں بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ ذیل میں یہ مسئلہ تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے تاکہ یہ غلط فہمی دور ہوسکے۔
جس شخص کو پیشاب کے قطرے کثرت سے آتے ہوں تو اس کی دو صورتیں ہیں:
1⃣ اگر نماز کا وقت ختم ہوجانے تک اس کے قطرے اتنے وقت کے لیے رُک جاتے ہوں کہ جس میں وہ وضو کرکے فرض نماز ادا کرسکتا ہے تو ایسا شخص شرعی طور پر معذور نہیں ہے بلکہ وہ قطرے رکنے کا انتظار کرے پھر اس کے بعد وضو کرکے نماز ادا کرے۔
2⃣ اگر اس کو قطرے اس کثرت سے آتے ہوں کہ نماز کا وقت ختم ہونے تک اتنے وقت کے لیے بھی نہ رکتے ہوں کہ جس میں وضو کرکے فرض نماز ہی ادا کرسکےتو اس صورت میں عذر ثابت ہوجاتا ہے اور ایسا شخص شریعت کی نظر میں معذور ہے، پھر جب تک یہ صورتحال رہے گی تو وہ معذور ہی کہلائے گا، اور یہ بھی واضح رہے کہ عذر برقرار رہنے کے لیے نماز کے پورے وقت میں صرف ایک بار بھی یہ عذر پایا جانا کافی ہے کہ اگر ایک بار بھی یوں ہی پیشاب کے قطرے نکل آئے تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ عذر برقرار ہے، اور یہ معذوری تب ختم ہوگی جب نماز کے مکمل وقت میں ایک بار بھی یہ عذر نہ پایا جائے۔
🌻 معذور کا حکم:
ما قبل کی تفصیل کے مطابق شرعی طور پر جو شخص معذور ہو اس کا حکم یہ ہے کہ وہ فرض نماز کا وقت داخل ہوجانے کے بعد ایک بار وضو کرلے پھر اسی وضو کے ذریعے وہ جو بھی عبادت کرے چاہے فرض نماز ادا کرے، نفلی نماز ادا کرے، تلاوت کرے؛ سب جائز ہے اگرچہ اس کے قطرے بہے جاتے ہوں، البتہ جیسے ہی اس فرض نماز کا وقت ختم ہوجائے تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا،اب مزید عبادت کے لیے نیا وضو کرنا پڑے گا۔
🌼 وضاحت 1:
معذور کا وضو فرض نماز کا وقت نکل جانے سے ٹوٹ جاتا ہے، جیسے اگر کسی معذور شخص نے ظہر کی نماز کے لیے وضو کیا تو ظہر کا وقت ختم ہوتے ہی اس کا وضو ٹوٹ جائے گا۔
🌼 وضاحت 2:
اگر کسی معذور شخص نے سورج طلوع ہوجانے کے بعد اشراق کی نماز یا کسی اور نماز کے لیے وضو کیا، پھر ظہر کا وقت داخل ہوگیا تو وقت داخل ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹتا، اس لیے اس کا وضو برقرار رہے گا کیوں کہ ماقبل میں بیان ہوا کہ وقت داخل ہونے سے نہیں بلکہ وقت نکل جانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ اس صورت میں وقت داخل ہوا ہے، نکلا نہیں ہے۔
🌼 وضاحت 3:
معذور شخص جس عذر کی وجہ سے معذور بنا ہے اس عذر کی وجہ سے تو وضو نہیں ٹوٹے گا البتہ اگر وضو توڑنے والی کوئی اور چیز پائی جائے تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا۔
🌼 وضاحت 4:
ماقبل میں جو معذور کا حکم بیان ہوا وہ ہر اس شخص کے لیے ہے جس کا وضو نہ ٹھہرتا ہو جیسے کسی کو خروجِ ریح کا مرض ہے یا کسی کے زخم سے نکلنے والا خون نہیں رکتا یا اس جیسا کوئی اور مرض ہے؛ تو ایسے تمام حضرات مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق عمل کریں، اور مزید تفصیلات کے لیے مستند اہلِ علم سے رابطہ فرمائیں۔
🌻 پیشاب کے بعد قطرے نکلنے کا وسوسہ اور اس کا حکم:
بعض حضرات کو شک ہوجاتا ہے کہ وضو کے بعد پیشاب کا کوئی قطرہ نکل گیا حالانکہ وہ محض وہم ہوا کرتا ہے، یاد رہے کہ جب تک یقینی طور پر قطرہ نہ نکلے اس سے وضو پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔ شک دور کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جب محسوس ہو کہ قطرہ نکل گیا ہے تو فورًا کسی مناسب جگہ جا کر دیکھ لیا جائے: اگر واقعی قطرہ نکلا ہےتو ٹھیک ہے، ورنہ تو مطمئن ہوکر آئندہ کے لیے اس شک کی طرف ہرگز توجہ نہ دی جائے۔
بعض احادیث میں قطرے کے وسوسے میں مبتلا شخص کے لیے وسوسہ دور کرنے کا ایک علاج یہ بھی تجویز کیا گیا ہےکہ وہ استنجا یا وضو کے بعدشرمگاہ کے مقام پر کچھ پانی چھڑک دے تاکہ بعد میں اگر قطرہ نکلنے کا وسوسہ آئے بھی تو یہ خیال کرلیا جائے کہ یہ تو وہ پانی ہے نہ کہ پیشاب کے قطرے۔
🌼 مسئلہ:
یہ بھی یاد رہے کہ بسا اوقات چھوٹی پیشاب گاہ سے ہوا خارج ہوجاتی ہے جس سے لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید قطرہ نکل گیا حالانکہ وہ ہَوا ہوتی ہے اور اس ہوا سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(رد المحتار)
☀ نور الایضاح میں ہے:
حكم الاستحاضة وما يشابهها:
ودم الاستحافة كرعاف دائم لا يمنع صلاة ولا صوما ولا وطأ وتتوضأ المستحاضة ومن به عذر كسلس بول واستطلاق بطن لوقت كل فرض ويصلون به ما شاءوا من الفرائض والنوافل، ويبطل وضوء المعذورين بخروج الوقت فقط.
متى يثبت العذر ؟
ولا يصير معذورا حتى يستوعبه العذر وقتا كاملا ليس فيه انقطاع بقدر الوضوء والصلاة، وهذا شرط ثبوته، وشرط دوامه وجوده في كل وقت بعد ذلك ولو مرة، وشرط انقطاعه وخروج صابحه عن كونه معذورا خلو وقت كامل عنه.
☀ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
وَالرِّيحُ الْخَارِجَةُ من الذَّكَرِ وَفَرْجِ الْمَرْأَةِ لَا تَنْقُضُ الْوُضُوءَ على الصَّحِيحِ، إلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَرْأَةُ مُفْضَاةً فإنه يُسْتَحَبُّ لها الْوُضُوءُ، كَذَا في «الْجَوْهَرَةِ النَّيِّرَةِ».
☀ مستدرک حاکم میں ہے:
608- عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ الْحَكَمِ أَوِ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا بَالَ تَوَضَّأَ وَيَنْتَضِحُ. هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا.
تعليق الذهبي في «التلخيص»: على شرطهما.
#viralpost2025 #fypシ゚viralシ #viralpost2026 #fypシ #shortsvideos #foryoupage #foryouシ #relationship #akhirat #islam
![]()

