ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں !
تحریر۔۔۔ناز پروین
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں !۔۔۔ تحریر۔۔۔ناز پروین )اخبار میں خبر پڑھی تو ٹھٹک گئی۔ایک بار پھر ہمارے بیچارے صوبے کا نام بدلنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں ۔صوبہ سرحد سے خیبر پختون خواہ جسے اردو اور انگلش دونوں میں لکھنا ایک کڑی مشق ہے۔۔ اللہ اللہ کر کے اس کا درست نام بولنا اور لکھنا سیکھا تو ارباب اختیار میں شامل ہمارے سیاست دانوں کو خیال آیا کہ اس نام سے خیبر کو منہا کر دینا چاہیے اور صرف پختون خواہ ہونا چاہیے۔نئے سٹیڈیم بنانے کی بجائے موجودہ سٹیڈیم کا نام بدل کر اپنے لیڈر کے نام پر رکھ لینا ۔۔۔ان کا مشغلہ بن چکا ہے ۔کاش ان ارباب اختیار کو نام بدلنے سے زیادہ صوبے کے حالات بدلنے میں دلچسپی ہو ۔۔کاش وہ اس سلسلے میں بھی قراردادیں لائیں اور کام کریں ۔خیر کالم تو کسی اور سلسلے میں لکھنا تھا نام کے حوالے سے یہ خبر پڑھی تو لکھے بنا نہ رہ سکی ۔
حال ہی میں ایک بہت پیاری دوست کو اللہ تعالیٰ نے نواسے کی نعمت سے نوازا ۔مبارکباد دینے گئی تو بچے کا نام پوچھا ۔جواب ملا کہ پیر صاحب سے درخواست کی ہوئی ہے جو نام وہ تجویز کریں گے ہم رکھ دیں گے۔۔ کیونکہ ہمارے خاندان میں تمام بچوں کے نام ہمیشہ سے پیر صاحب ہی تجویز کرتے ہیں ۔۔۔سن کر حیرت زدہ رہ گئی کہ ہم تو نئی زندگی کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی ناموں کی لسٹ بنا لیتے ہیں ۔۔خالہ پھوپھی چاچو ماموں سب اپنی اپنی رائے دیتے ہیں لیکن یہاں پر تو پیر صاحب کو ہی اتنا اعزاز مل رہا تھا ۔۔بہرحال ہر خاندان کے اپنے رسم و رواج ہوتے ہیں۔۔ یہ سوچ کر میں خاموش ہو گئی ۔لیکن آپ کو سن کر حیرت ہوگی کہ پشاور میں ایک ہستی ایسی بھی ہے جن کے دوست احباب پرستار اپنی کتابوں کے نام ان سے رکھواتے ہیں ۔اور یہ ہستی خاندان سادات سے تعلق رکھتی ہے ۔ جی ناصر علی سید صاحب ۔عبادت ہسپتال کے حق بابا آڈی ٹوریم میں ایک خوبصورت ادبی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ڈاکٹر خالد مفتی نامور ماہر نفسیات ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ادب پرور شخصیت بھی ہیں ۔عبادت ہسپتال کی اوپری منزل پر جدید ترین سہولتوں اور فرنیچر سے آراستہ پیراستہ حق بابا آڈیٹوریم ان کی ادب دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے جہاں وقتاً فوقتاً ادبی اور ثقافتی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔۔اور آخر میں مہمانوں کی تواضع پرتکلف چائے سے کی جاتی ہے ۔ سردیوں کی ایک خوبصورت شام یہیں پر ناصر علی سید صاحب کی کتاب خیال خاطر احباب کی رسم پذیرائی کا اہتمام تھا ۔وہیں عقدہ کھلا جب دوران تقریب زیادہ تر مقررین نے بتایا کہ ان کی کتابوں کے نام ناصر صاحب تجویز کرتے ہیں۔۔۔ جن میں میرے شوہر نامدار امجد عزیز ملک صاحب بھی شامل تھے ۔یوں پشاور میں ایک پیر خانہ ہے جہاں پیر طریقت پیر ادب ناصر صاحب تشریف رکھتے ہیں اور احباب ان سے اپنی کتابوں کے نام تجویز کرواتے ہیں ۔اپنے آپ کو کوسا کہ دو کتابیں لکھیں۔۔ نام رکھنے میں بے حد مشکل پیش آئی ۔۔۔میں اس سعادت سے کیسے محروم رہ گئی ۔۔گرچہ ناصر علی سید صاحب سے تعلق بہت پرانا ہے لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ ان کے ادبی پیر خانے میں محافل کے ساتھ ساتھ کتابوں کے نام بھی تجویز کیے جاتے ہیں ۔اس کالم کو پڑھنے کے بعد بہت سے احباب اب اس سلسلے میں ان سے رجوع کریں گے ۔رسم پذیرائی طویل سے طویل تر ہوتی چلی گئی کہ وہ احباب جن کے نام فہرست میں نہ تھے وہ بھی ناصر علی سید کی محبت میں سرشار خوب کھل کر بولے اور ان سے محبت اور عقیدت کا اظہار کیا ۔۔سینیئر لکھاری نصرت نسیم صاحبہ جو واہ کینٹ میں رہائش پذیر ہیں۔۔۔ واکر کے سہارے چلتے ہوئے اس تقریب میں شریک ہوئیں جو عبادت ہسپتال کی سب سے اوپری منزل پر منعقد تھی اور یہ ان کی محبت اور عقیدت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔خالد سہیل ملک خراج تحسین پیش کرتے ہوئے جذبات سے مغلوب ہو کر۔۔۔ مائک چھوڑ کر ناصر صاحب سے بغل گیر ہو گئے ۔اسلام آباد اور کوہاٹ سے بھی ناصر صاحب کے پرستار تشریف لائے تھے ۔یوں سردی کی ایک خوبصورت شام ان احباب کی محبتوں اور عقیدتوں سے مزید سجتی سنورتی چلی گئی ۔ناصر علی سید صاحب سے گر چہ شوہر نامدار کا کئی دہائیوں پرانا تعلق ہے۔۔ لیکن مجھے ادبی دنیا میں وارد ہوئے ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا ہے اور میں بڑے فخر سے کہہ سکتی ہوں کہ مجھے ناصر علی سید اور ان کی شفیق بیگم رفعت بھابھی نے ہمیشہ اتنا پیار اور مان دیا ہے کہ مجھے لگتا ہے میں ان کے خاندان کا حصہ ہوں۔۔ ہمیشہ بچے اور بیٹو کہہ کر پکارتے ہیں۔۔ سر پر دست شفقت رکھتے ہیں۔۔ کبھی احساس ہی نہیں دلایا کہ وہ ادب کے اونچے سنگھاسن پر براجمان ایک دیوتا ہیں جن کو نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ پوری دنیا میں پوجا جاتا ہے۔۔ اور یہی عاجزی ان کی شخصیت کا خاصہ ہے ۔اس تقریب میں تھوڑی تاخیر سے شامل ہوئی لیکن رفعت بھابھی نے آگے بلایا اور میں ناصر علی سید اور ان کی بیگم کے درمیان بیٹھ گئی ۔۔۔اپنے نصیب پر رشک کرنے لگی۔۔ پوری تقریب میں دونوں کی خوبصورت گفتگو سے لطف اٹھاتی رہی ۔تقریب کے اختتام پر ناصر علی سید صاحب نے جب مائک سنبھالا تو سب احباب نشستوں پر سنبھل کر بیٹھ گئے اور پھر پتہ ہی نہ چلا کہ وقت کیسے گزرتا چلا گیا۔۔۔ انہوں نے اپنی کتاب پر بہت کم بات کی کہ اس سے پہلے احباب تفصیل سے اس بارے میں اظہار خیال کر چکے تھے ۔ناصر علی سید نے اپنے گزرے ہوئے ماہ و سال پر بات کرنا شروع کی تو گویا ایک سحر سا طاری ہو گیا ۔اپنی ادبی زندگی کے ابتدائی دنوں سے لے کر موجودہ دور تک کا سفر بیان کیا ۔نہ صرف ادب بلکہ آرٹ اور ثقافت کے سلسلے میں ایک طویل سفر کی منظر نگاری کرتے رہے۔۔۔ دوست احباب کے ساتھ گزارے ہوئے خوبصورت لمحات کا ذکر کیا۔۔جو ادبی دنیا کے نامور ستارے تھے ۔دل چاہ رہا تھا کہ ناصر صاحب بولتے جائیں اور ہم سنتے جائیں ۔۔۔گوگل پر ناصر علی سید صاحب کو سرچ کریں تو پہلا جملہ ”ناصر صاحب ایک مجلسی شخصیت کے حامل ہیں“ پڑھنے کو ملتا ہے ۔ریڈیو ٹی وی سٹیج ہر سطح پر ناصر صاحب ایک متحرک شخصیت تھے اور ہیں ۔ابھی بھی پی ٹی وی پر ان کے لکھے ہوئے ڈرامے ریکارڈ ہو رہے ہیں ۔پروگرام کے اختتام پر میں سوچنے لگی کہ ایسی شاندار شخصیت ہمارے صوبے اور ملک کے لیے ایک گراں مایا خزانے کی حیثیت رکھتی ہے ۔میں یوٹیوب پر اشفاق احمد کے پروگرام زاویہ کو بہت شوق سے دیکھتی رہی ہوں ۔بلیک اینڈ وائٹ دور میں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ فرشی نشست سجاتے تھے ان کے ارد گرد اس وقت کی نامور شخصیات بیٹھی ہوتیں۔۔ خوبصورت ادبی نشست کا اہتمام ہوتا۔۔ بے تکلف گفتگو چلتی اور ساتھ میں ایک گائک بھی ہوتا جو وقفے وقفے سے خوبصورت کلام لائیو پیش کرتا ۔۔حال ہی میں فروغ ہند کو کی ایسی ہی مجلس میں شرکت کا موقع ملا۔۔ فرشی نشست۔۔ چائے کا دور اور بے تکلف گفتگو۔۔۔ پی ٹی وی کے جی ایم ابراہیم کمال ۔۔ناصر علی سید اور نامور شخصیات کے ساتھ کمال کی مجلس کا اہتمام تھا۔۔ یاد رفتگاں کے سلسلے میں گزرے ہوئے دوستوں کو یاد کیا گیا۔انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا اس مجلس کی خوبصورت بات یہ تھی کہ نامور سینیئر شخصیات کے ساتھ ساتھ نو آموز افراد بھی بیٹھے۔۔ خواتین کی بھی شرکت تھی ۔دل میں ایک معصوم سی خواہش جاگی کہ ناصر علی سید صاحب اور رفعت بھابھی کے ساتھ بھی ایسی بے تکلف محفلوں کا اہتمام ہو ۔۔کلاسیقی موسیقی میں ناصر علی سید صاحب کا بہت اعلیٰ ذوق ہے۔۔ ان کے گھر جن احباب کو جانے کا اتفاق ہو انہیں خوبصورت کلاسیقی موسیقی سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا ہے۔سوشل میڈیا پر جو بھی ریل شیئر کریں اس کے پس منظر میں ماضی کے حسین گیت گونج رہے ہوتے ہیں۔۔ اس محفل میں بھی ایسی موسیقی کا اہتمام ہو ۔جہاں نامور شخصیات کے ساتھ ساتھ ہم جیسے نو آموز دوزانوں ہو کر بیٹھیں ۔ناصر صاحب سے احمد فراز٫ امجد اسلام امجد ٫خاطر غزنوی ٫محسن احسان اور عظیم شخصیات کے ساتھ ان کے گزارے ہوئے واقعات سنیں ۔ان کے تجربات اور ان کی زندگی کے نچوڑ سے فائدہ اٹھائیں ۔ساتھ میں خوبصورت موسیقی سے بھی لطف اندوز ہوں ۔اس پروگرام کو ”ناصر کی بیٹھک” کا نام دیا جائے ۔۔تو کیا ہی اچھا ہو ۔۔ماضی میں ایسے پروگرام حجرہ، قہوہ خانہ اور بیٹھک کے نام سے ہند کو ،پشتو میں ریڈیو اور ٹی وی پر چلائے جاتے رہے ہیں ۔ پی ٹی وی کے جنرل مینجر ابراہیم کمال صاحب۔۔ جو ایک ادب دوست شخصیت ہیں ۔۔ سے درخواست ہے کہ اس سلسلے کو دوبارہ شروع کیا جائے ۔موجودہ نسل کو اعلیٰ اقدار سے آگاہی اور ادب آداب سے روشناس کروانے کے ساتھ ساتھ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے یہ پروگرام ایک ایک نادر خزانہ ثابت ہوگا ۔
ناز پروین معروف کالم نگار ہیں ۔دو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔پشاور میں قائم چھینی ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو کی ڈائریکٹر ہیں
📧 nazpervin@hotmail.com
![]()

