کامیاب بزنس مین بنئیے!
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔ کامیاب بزنس مین بنئیے! )میں ایک اکیس سالہ طالب علم ہوں۔ مجھے بزنس میں دلچی ہے۔ کوئی بزنس شروع کرنا اور اس میدان میں قسمت آزمائی کرنا میرا خواب ہے لیکن میں اپنے جذبے کو متحرک کرنے اور کسی بزنس کا انتخاب کرنے میں مشکل کا سامنا کر رہا ہوں۔
یہ سوال آج کل کے اکثر نوجوانوں کا ہے۔ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ جو کاروبار بھی شروع کیا جائے ۔ آغاز سے پہلے اس کاروبار سے منسلک لوگوں سے رائے لی جائے یا اپنا رجمان اور صلاحیتیں دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے۔ کاروبار شروع کرنے اور اسے وسعت دینے میں ہماری قوت فیصلہ بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انسان کو زندگی میں ہر قدم پر فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ بہت سے معاملات ایسے ہوتے ہیں جو فوری فیصلوں کا تقاضا کرتے ہیں۔ ہمیں غور و فکر اور منصوبہ بندی کی مہات نہیں دیتے۔ حقیقی کامیابی کا راز یہ ہے کہ ہم وقت کو مین چوٹی سے پکڑ لیں اور اسے ضائع نہ ہونے دیں۔ عموما فوری لیے گئے فیصلے خاصے اہم ہوتے ہیں اور ان کے نتائج ہماری اور ہمارے ساتھ منسلک لوگوں کی زندگی پر بہت گہرا اثر مرتب کرتے ہیں۔ ہر شخص کو زندگی میں متعدد بار ایسے حالات سے دو چار ہونا پڑتا ہے جن میں وہ صحیح فیصلہ کرنے میں دقت محسوس کرتا اور قطعی رائے قائم نہیں کر سکتا۔ تذبذب یا پس و پیش کی یہ حالت قوت فیصلہ کے فقدان کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یہ اگر طبیعت کا خاصا بن جائے تو اس آدمی کی انفرادیت مجروح ہوتی ہے اور وہ ہر بات میں دوسروں کا منہ دیکھنے کا عادی ہو جاتا ہے۔ ایسا تربیت کی خرابیوں کے نتیجے میں بھی ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی بچہ بہت لاڈلا ہو اس کی ہر ضرورت دوسرے پوری کرتے ہوں تو وہ اپنے آپ پر اعتماد کرنے، اپنی قوت فیصلہ کی نشو و نما کرنے اور اسے آزمانے کا خیال تک نہیں کرتا۔ کامیاب لوگوں کے حالات زندگی کا جائزہ لیں تو میں پتہ چلتا ہے کہ ان سب میں آزادانہ فیصلے کرنے اور اپنے فیصلوں پر جوش و خروش اور جرات و حوصلہ کے ساتھ عمل پیرا ہونے صلاحیت تھی۔ یہ صلاحیت ان سے بروقت فیصلہ کرا کر انہیں اعلیٰ کامیابیوں سے ہمکنار کرتی رہی۔ کسی دانا کا قول ہے کہ جتنا وقت تم یہ فیصلہ کرنے میں گزارتے ہو کہ تمہارا بچہ کون کی کتاب پہلے پڑھے اور کون سی بعد میں، اتنی دیر میں ایک دوسرا بچہ دونوں کتا ہیں ختم کر لیتا ہے۔
امریکہ کے معروف فٹ بال کھلاڑی ایموس لارنس نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ”ہماری تمام کامیابی کا راز یہ تھا کہ ہم نے عجلت سے یعنی وقت پر کام کر لینے کی عادت ڈالی تھی اور ہم وقت کو مین چوٹی سے پکڑ لیتے تھے لیکن دوسروں کی عادت یہ تھی وہ قیمتی وقت میں ڈھیل ڈھال کرتے رہتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ ان کا کام خراب ہو جاتا تھا۔
اگر زندگی میں آپ خود کو منوانے کی کوشش نہیں کرتے یا آپ میں قوت فیصلہ کی کمی ہے تو گویا آپ نے اپنے اندر کے آدمی کو کبھی ابھرنے ہی نہیں دیا ہے دوسروں کو یہ موقع دینا کہ وہ اپنی رائے آپ پر مسلط کر دیں یا آپ کو اپنے مقاصد حاصل کرنے سے روک دیں، ایک طرح کی خود بر بادی والی بات ہے۔ غور و فکر کی آخری منزل قوت فیصلہ ہے لیکن غور و فکر کے بعد فیصلہ نہ کر سکنا خود کو اور اپنے منصوبوں کو اپنے ہی ہاتھوں تباہ کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ انسان گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہو کر عمل کرنے کی قوت سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
ہم آپ کو ایک ایسے کاروبار کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے ہیں جو آپ کے بہتر قوت فیصلہ کی بدولت بآسانی شروع ہو سکتا ہے۔ یہ آن لائن بزنس ہے۔ آن لائن دنیا ایک بہت ہی وسیع جہاں ہے۔ صرف اسی لحاظ سے نہیں کہ یہاں آپ کو ہر قسم کی معلومات میسر آتی ہیں، بلکہ اس لحاظ سے بھی کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ بھی ہے۔
دنیا کی کل آبادی کا تقریباً پچاس فیصد حصہ اس وقت انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے۔ لیکن ہمیں اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کتنے لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں ….؟ ہمیں دراصل غرض اس بات سے ہے کہ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد اگر ایک جگہ جمع ہو جائے تو کون سا ایسا کام ہے جو ممکن نہیں …. ؟ کون سی ایسی چیز ہے جو یہاں بیچی نہیں جاسکتی ….؟ کون سا ایسا ہنر ہے جس کے بدلے میں اجرت اور معاوضہ حاصل نہیں کیا جا سکتا ….؟ اگر فہرست ترتیب دی جائے تو غالبا یہی بہت کم ہی چیزیں مل سکیں گی جنہیں انٹرنیٹ پر نہیں بیچا جا سکتا۔
اگر آپ اس بات کو سمجھ جائیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ہماری آف لائن دنیا کے مقابلے میں آن لائن انٹرنیٹ کی دنیا کا پھیلاؤ کس قدر زیادہ ہے اور آمدنی کو فروغ دینے یا آمدنی کی نئے سرے سے شروعات کرنے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کیا اہمیت رکھتا ہے۔
کئی لوگ آن لائن پیسہ کمانے کی طرف آنا بھی چاہتے ہیں تو وہ ایک ویب سائٹ بنا کر سمجھتے ہیں کہ بس اب پیسے کی بارش ہونا شروع ہو جائے گی۔ وہ اس حقیقت سے بے خبر ہوتے ہیں کہ درست مارکیٹنگ کے لیے کیا کچھ کرناضروری ہے۔ بہر حال اس وقت کا موضوع یہ ہے کہ آخر آن لائن کاروبار شروع ہی کیوں کیا جائے ….؟
ذیل میں چند بنیادی اور انتہائی اہم وجوہ کا ذکر کیا جارہا ہے جو کسی بھی کاروبار کے لیے آن لائن موجودگی کو ضروری بناتی ہیں۔
کاروبار کا وسیع پھیلاؤ:یہ سب سے پہلا اور سب سے اہم فائدہ ہے جو آپ کو روایتی طرز کار و بار سے کبھی بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ کسی دکان کے مالک ہیں، یا دکان کھولنے کا سوچ رہے ہیں تو ایک لمحے کے لیے تصور کیجیے کہ ایک دکان کی رسائی کہاں اور کس حد تک ہو سکتی ہے….؟
ایک بات تو طے ہے کہ آپ کی دکان ایک محدود علاقے کے خریداروں کی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔ اب فرض کیجیے کہ اگر آپ کی دکان کسی بڑے اور چلتے ہوئے علاقے میں ہے، اور علاقے کی آبادی پانچ لاکھ ہے۔ آپ کیا گمان کر سکتے ہیں کہ ان پانچ لاکھ میں سے آپ کے ماہانہ خریدار کتنے ہو سکتے ہیں ….؟
ایک بہت ہی معمولی ساعد د فرض کریں تو جواب آتا ہے ایک فیصد “ جو کہ پانچ ہزار افراد پر مبنی ہو گا۔ لیکن یہ ایک آئیڈیل حالت ہے جو ہزاروں میں سے کسی کامیاب دکان کو بھی نصیب نہیں ہوتی۔ تاہم جب آپ آن لائن مارکیٹ میں آتے ہیں تو آپ کے خریدار اب کسی علاقے تک محدود نہیں رہتے۔ اس لیے خریداروں کی شرح کئی گنا تک بڑھ جاتی ہے۔ اسے یوں سمجھیے کہ آپ کی کاروباری ویب سائٹ پر ایک ماہ میں دس لاکھ لوگ آتے ہیں ، اب اگر ان دس لاکھ لوگوں میں سے پانچ فی صد لوگ آپ کے خریدار بنتے ہیں تو یہ کسٹمر کنورژن کی شرح کہلائے گی۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ آف لائن کاروبار چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو جائے، اس کی رسائی بہت محدود ہوتی ہے۔
منافع کے تناسب میں حیران کن اضافه
آن لائن کار و بار کا دوسرا اور اتنا ہی اہم تر فائدہ یہ ہے کہ آف لائن کاروبار کے مقابلے میں منافع کا تناسب سینکڑوں گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔اگر آپ ایک آف لائن کاروبار کرتے ہیں کہ جو کہ ماہانہ قریب دس لاکھ روپے کے سرمائے سے ایک لاکھ روپے کا منافع دے رہا ہے تو اس میں سرمایہ کاری کا معمولی سے معمولی حساب کیجیے۔ سب سے پہلی چیز دکان کا خرچہ جو یا تو کرائے پر ہوگی یا اپنی ہو گی۔ دونوں صورتوں میں یہ ایک مستقل اور بڑی سرمایہ کاری ہے۔
وقت کی قید سے آزادی یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے کہ آن لائن کاروبار میں وقت کی آزادی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ آپ کے کاروبار کے لیے کوئی مخصوص وقت
مقرر نہیں ہوتا۔
آپ گھر بیٹھ کر بھی کاروبار چلا سکتے ہیں، اور کہیں کسی ہوٹل یاریسٹورنٹ سے بھی۔
رات کو دو بجے بھی آپ کے گاہک آپ کو ڈھونڈتے ہوئے آپ کے آن لائن کاروبار تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور صبح ناشتے سے پہلے بھی۔ گویا چوبیس گھنٹے کا کاروبار اور کسٹمر کنورژن کے انتہائی موثر طریقے آن لائن مارکیٹ میں آپ کے کاروبار کے لیے موثر ہیں، جنہیں اگر آپ نظر انداز کر رہے ہیں تو یقینا آپ خود ہی اپنے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔ آخر میں گزارش صرف اتنی ہے کہ جو لوگ ابھی تک اپنے کاروبار کو آن لائن جہاں میں نہیں لائے وہ لوگ اب جلد از جلد آن لائن دنیا سے استفادہ کا سوچیں تا کہ آمدنی اور وسائل کے وسیع تر امکانات علم میں آئیں۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ نومبر2017
![]()

