Daily Roshni News

کبھی سوچا ہے بلندی پر جا کر سانس لینا مشکل کیوں ہو جاتا ہے؟ ایک 1400 سال پرانا سائنسی معجزہ

کبھی سوچا ہے بلندی پر جا کر سانس لینا مشکل کیوں ہو جاتا ہے؟ ایک 1400 سال پرانا سائنسی معجزہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ہم میں سے بہت سے لوگوں نے یہ محسوس کیا ہوگا کہ جب ہم پہاڑی علاقوں میں اوپر کی طرف جاتے ہیں، یا اگر کبھی ہوائی جہاز میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا ہو، تو ایک عجیب سا احساس ہوتا ہے۔ سانس پھولنے لگتا ہے اور سینے میں ایک گھٹن سی محسوس ہوتی ہے۔

آج کل کے پائلٹ اور کوہ پیما (پہاڑوں پر چڑھنے والے) اس حقیقت کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ اسی لیے ہوائی جہازوں کے اندر مصنوعی ہوا کا انتظام کیا جاتا ہے اور کوہ پیما اپنے ساتھ آکسیجن کے سلنڈر لے کر جاتے ہیں۔

لیکن ذرا رکیں اور سوچیں!

آج سے 1400 سال پہلے کا دور۔۔۔ عرب کا صحرا۔۔۔ نہ کوئی ہوائی جہاز تھا، نہ کوئی اتنے اونچے پہاڑوں پر چڑھتا تھا، اور نہ ہی آکسیجن سلنڈر ایجاد ہوئے تھے۔ اس زمانے کے لوگوں کا تو عام خیال یہ تھا کہ انسان جتنی بلندی پر جائے گا، ہوا اتنی ہی تازہ اور فرحت بخش ہوگی۔

لیکن اس دور میں، قرآن مجید نے ایک ایسی بات کہہ دی جو اس وقت کے لوگوں کی سوچ سے بالکل الٹ تھی، مگر آج کی سائنس نے اسے سو فیصد سچ ثابت کر دیا ہے۔

قرآن کا حیران کن دعویٰ (سورۃ الانعام: 125)

اللہ تعالیٰ قرآن میں ایک مثال دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ جس شخص کو ہدایت نصیب نہ ہو، اس کی حالت کیسی ہو جاتی ہے:

“اور جسے وہ (اللہ) گمراہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے، اُس کا سینہ تنگ اور گھُٹا ہوا کر دیتا ہے، گویا وہ زبردستی آسمان پر چڑھ رہا ہے۔”

غور کریں! قرآن نے صاف صاف بتا دیا کہ آسمان کی طرف (بلندی پر) چڑھنے سے سینہ کھلتا نہیں، بلکہ “تنگ اور گھٹ” جاتا ہے۔

سائنس کیا کہتی ہے؟ (آسان الفاظ میں)

آج جدید سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

دراصل، ہماری زمین کے گرد ہوا کا ایک غلاف ہے۔ ہم زمین پر نیچے رہتے ہیں، جہاں ہوا کا دباؤ (Pressure) زیادہ ہوتا ہے۔ یہ دباؤ آکسیجن کو آسانی سے ہمارے پھیپھڑوں کے اندر دھکیلتا ہے اور ہم آرام سے سانس لیتے ہیں۔

لیکن جیسے جیسے ہم اوپر بلندی کی طرف جاتے ہیں، یہ ہوا کا دباؤ کم ہوتا جاتا ہے۔ ہوا “پتلی” ہو جاتی ہے۔

کیا ہوتا ہے؟ جب آپ بہت بلندی پر پہنچتے ہیں، تو ہوا میں آکسیجن تو موجود ہوتی ہے، لیکن اسے آپ کے پھیپھڑوں میں دھکیلنے والا دباؤ نہیں ہوتا۔

سینے کی گھٹن: آپ کا جسم آکسیجن مانگتا ہے، آپ کا دل تیزی سے دھڑکتا ہے، اور آپ کے پھیپھڑے ہوا حاصل کرنے کے لیے زور لگاتے ہیں لیکن ناکام رہتے ہیں۔ اس کیفیت میں انسان کو شدید گھٹن محسوس ہوتی ہے، اور سینہ بالکل تنگ ہو جاتا ہے۔

خطرناک بلندی: سائنسدان بتاتے ہیں کہ اگر کوئی انسان تقریباً 25 ہزار فٹ کی بلندی پر بغیر آکسیجن ماسک کے پہنچ جائے، تو چند منٹوں میں اس کا دم گھٹ سکتا ہے اور موت واقع ہو سکتی ہے۔

نتیجہ:

اب آپ خود فیصلہ کریں!

چودہ سو سال پہلے، جب سائنس کا نام و نشان نہیں تھا، جب کوئی آسمان پر چڑھنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا، اس وقت اتنی بڑی سائنسی حقیقت کا بیان کر دینا، اور بالکل ٹھیک ٹھیک یہ بتانا کہ بلندی پر “سینہ تنگ” ہو جاتا ہے، کیا یہ کسی عام انسان کا کام ہو سکتا ہے؟

یقیناً نہیں! یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ قرآن مجید اسی خالق کا کلام ہے جس نے زمین و آسمان بنائے اور جو انسانی جسم کے نظام کو سب سے بہتر جانتا ہے۔

#QuranAndScience #HighAltitude #MiracleOfQuran #SimpleScience #FaithAndReason #IslamAndScience #AyatOfAllah #قرآن_اور_سائنس #بلندی_پر_سانس #معجزات_قرآن #اسلام_اور_سائنس #آسان_سائنس

Loading