کعبہ پر حملہ — پانچ سو مسلح افراد اور ایک جھوٹا مہدی
ہالینڈ(ڈٰلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک ایسا واقعہ جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
لیکن یہ کوئی پہلی بار نہیں تھا کہ کعبہ پر حملہ ہوا ہو۔ اس سے پہلے بھی کعبہ پر کئی حملے ہو چکے ہیں، اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ کعبہ پر سب سے زیادہ حملے خود مسلمانوں کے ہاتھوں ہوئے۔
کعبہ پر پہلا حملہ رسول اللہ ﷺ کی پیدائش سے پہلے عرب کے ایک بہت بڑے بادشاہ ابرہہ نے کیا۔ وہ ساٹھ ہزار کے لشکر کے ساتھ کعبہ کو گرانے کے لیے مکہ کی طرف بڑھا، اور اس کے لشکر میں بڑے بڑے ہاتھی بھی شامل تھے۔
لیکن پھر ایک عظیم معجزہ ہوا، اللہ تعالیٰ نے ابرہہ کے پورے لشکر کو تباہ کر دیا اور کعبہ کو محفوظ رکھا، جیسا کہ ہم پہلے وضاحت کر چکے ہیں۔ ابرہہ کعبہ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکا۔
لیکن دوسرے حملے میں پہلی بار کعبہ کو آگ لگائی گئی، اور جس شخص نے یہ حملہ کیا، اسے ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں—اس کا نام یزید تھا۔
یزید کے بادشاہ بنتے ہی اس کی فوج نے کربلا کے میدان میں امام حسینؓ اور رسول اللہ ﷺ کے خاندان کو بے دردی سے شہید کر دیا۔
کربلا کے واقعے کے بعد بھی یزید نہ رکا۔ جیسے جیسے لوگوں کو امام حسینؓ کی شہادت کا علم ہوا، ہر طرف یزید کی بادشاہت کے خلاف بغاوتیں شروع ہو گئیں۔ سب سے بڑی بغاوت مدینہ میں ہوئی، جو رسول اللہ ﷺ کا شہر تھا۔
مدینہ کے لوگ، جن میں زیادہ تر صحابہؓ اور ان کی اولاد شامل تھی، انہوں نے بنو امیہ کے مرکز پر حملہ کیا اور انہیں شہر سے نکال دیا۔
جب دمشق میں بیٹھے یزید کو یہ خبر ملی تو اس نے فوراً اپنی فوج مدینہ پر چڑھائی کے لیے بھیج دی اور حکم دیا کہ اگر تین دن کے اندر مدینہ والے مجھے بادشاہ تسلیم نہ کریں تو شہر میں داخل ہو کر جسے چاہو قتل کرو اور گھروں کو لوٹ لو۔
یزید کی فوج جب مدینہ پہنچی تو انہوں نے دیکھا کہ مدینہ والوں نے وہی خندق دوبارہ کھود رکھی تھی جو رسول اللہ ﷺ نے جنگِ خندق میں کھودی تھی۔ لیکن وہ خندق کافروں سے بچنے کے لیے تھی، اور یہ مسلمانوں سے۔
اس بار خندق مدینہ والوں کو نہ بچا سکی، اور یزید کی فوج نے مدینہ میں داخل ہو کر تین دن تک صحابہؓ اور ان کے بیٹوں کا قتلِ عام کیا، گھروں کو لوٹا، اور بعض کتابوں کے مطابق عورتوں کی بے حرمتی بھی کی گئی۔
اس ظلم کے بعد کچھ لوگ جان بچا کر مکہ بھاگ گئے، جہاں اس وقت عظیم صحابی عبداللہ بن زبیرؓ یزید کے خلاف کھڑے تھے اور اسے خلیفہ ماننے سے انکار کر چکے تھے۔
مدینہ کو تباہ کرنے کے بعد بھی یزید کو شرم نہ آئی، اور اس نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ مکہ جا کر عبداللہ بن زبیرؓ کو قتل کر دو۔
مکہ پر قبضہ آسان نہ تھا۔ عبداللہ بن زبیرؓ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بہادری سے دفاع کر رہے تھے۔ چالیس دن تک حملے ہوتے رہے، پھر یزیدی فوج نے تلواریں چھوڑ کر منجنیقوں سے پتھر برسانا شروع کیے، اور تاریخ میں پہلی بار مسجدِ حرام پر بمباری ہوئی۔ یہاں تک کہ پتھر کعبہ سے ٹکرانے لگے۔
ایک رات آگ لگی، اور تیز ہواؤں کے باعث یہ آگ کعبہ تک پہنچ گئی، یوں تاریخ میں پہلی بار پورا کعبہ جلنے لگا۔
چند دن بعد یزید مر گیا، اور اس کی فوج بغیر قبضے کے واپس چلی گئی۔
کعبہ کی دیواریں جل چکی تھیں۔ عبداللہ بن زبیرؓ نے فوراً تعمیر نہ کروائی تاکہ دنیا دیکھ سکے کہ یزید نے اللہ کے گھر کے ساتھ کیا کیا۔ بعد میں انہوں نے کعبہ کو ازسرِ نو تعمیر کیا اور اس کا سائز بڑھا کر اسے حضرت ابراہیمؑ کے زمانے جیسا بنایا۔
یزید کی تین سالہ حکومت کے تین بڑے جرائم تھے:
کربلا، مدینہ پر حملہ، اور کعبہ کو آگ لگانا۔
بعد میں بنو امیہ اور عبدالملک بن مروان، پھر حجاج بن یوسف کا دور آیا۔ حجاج نے بھی مکہ کا محاصرہ کیا، مسجدِ حرام پر پتھر برسائے، عبداللہ بن زبیرؓ کو شہید کیا، ان کے جسد کو لٹکایا، اور ان کی والدہ اسماء بنت ابوبکرؓ سے گستاخی کی۔
اس کے بعد تقریباً تین سو سال تک کسی نے کعبہ پر حملے کی جرات نہ کی۔
پھر تقریباً تین سو سال بعد ایک انتہا پسند فرقے نے جھوٹے مہدی کا اعلان کیا، مکہ پر حملہ کیا، ہزاروں حاجیوں کو شہید کیا، حجرِ اسود چرا لیا، اور بائیس سال تک وہ حجرِ اسود کعبہ میں نہ رہا۔
آخرکار حجرِ اسود واپس لایا گیا۔
آخری بڑا حملہ 1979ء میں ہوا، جب جہیمان العتیبی نے مسجدِ حرام پر قبضہ کر کے ایک جھوٹے مہدی محمد بن عبداللہ کا اعلان کیا۔ پانچ سو مسلح افراد، اسنائپرز، ہزاروں یرغمالی—یہ سب تاریخ کا سیاہ ترین باب تھا۔
بالآخر سعودی فوج، علما کی اجازت، اور بیرونی مدد سے یہ فتنہ ختم ہوا۔
جھوٹا مہدی ایک دستی بم پھٹنے سے مارا گیا، جہیمان گرفتار ہوا، اور مسجدِ حرام آزاد کرائی گئی۔
#goodvibes#islam#story#urdu#kaba#post#poetry#love#trending#facebook#2026#islambad#aivideo#shari#urdupost#asifakram
#followers
![]()

