Daily Roshni News

کیا آپ جانتے ہیں کہ پینگوئن کا فضلہ انٹارکٹیکا کو ٹھنڈا رکھتا ہے؟️

کیا آپ جانتے ہیں کہ پینگوئن کا فضلہ انٹارکٹیکا کو ٹھنڈا رکھتا ہے؟️

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ سن کر آپ کو شاید یقین نہ آئے، لیکن یہ ایک حیرت انگیز سائنسی حقیقت ہے! حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں نے انٹارکٹیکا کے انتہائی سرد موسم کے پیچھے ایک بہت ہی غیر متوقع راز دریافت کیا ہے: اور وہ ہے پینگوئن کا فضلہ۔

کیا ہوا؟

فِن لینڈ کی ہیلسنکی یونیورسٹی کے محققین نے یہ پایا کہ جہاں لاکھوں پینگوئنز کی کالونیاں موجود ہیں، وہاں کے فضائی اجزاء میں امونیا گیس کی مقدار عام سطح سے ہزار گنا زیادہ ہوتی ہے۔ یہ امونیا پینگوئن کے فضلے سے خارج ہوتی ہے۔

پھر کیا ہوتا ہے؟

یہ امونیا گیس فضا میں جا کر دوسرے ذرات سے ملتی ہے اور نئے باریک ذرات (Aerosol particles) بناتی ہے۔ ان ذرات پر نمی اکٹھی ہوتی ہے اور یوں گھنے بادل بن جاتے ہیں۔ یہ بادل سورج کی روشنی کو واپس خلا میں منعکس کر دیتے ہیں، جس سے زمین تک گرمی نہیں پہنچ پاتی اور اس طرح درجہ حرارت مزید کم ہو جاتا ہے۔

کیوں اہم ہے؟

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پینگوئنز کی بڑی تعداد کی وجہ سے ان علاقوں میں اتنے زیادہ بادل بنتے ہیں کہ یہ صرف درجہ حرارت کو کم نہیں کرتے، بلکہ بارش کا سبب بھی بنتے ہیں جو ٹھنڈ کو مزید برقرار رکھتی ہے۔ مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ اثرات اس علاقے سے پینگوئنز کے چلے جانے کے بعد بھی فضا میں باقی رہتے ہیں۔

سبق کیا ہے؟

یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ فطرت میں ہر چیز کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔ پینگوئن کا یہ بظاہر عام فضلہ انٹارکٹیکا کے سخت ماحول میں ایک بڑا ماحولیاتی کردار ادا کرتا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی جاندار، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا ہو، اپنے ماحول پر کتنا گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

Loading