کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ مرغی کے جسم کے اندر انڈا کیسے بنتا ہے؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انڈے کی تخلیق ایک ایسا قدرتی عمل ہے جو نہایت ترتیب، توازن اور حکمت پر مبنی ہے۔
سب سے پہلے مرغی کے اووری (Ovary) میں موجود ہزاروں ننھے بیضوں میں سے ایک بیضہ پختہ ہو کر خارج ہوتا ہے۔ یہی زردی (Yolk) انڈے کا بنیادی حصہ بنتی ہے، جس میں غذائیت بھرپور ہوتی ہے۔
پھر یہ زردی اوویڈکٹ (Oviduct) کے مختلف مراحل سے گزرتی ہے:
انفنڈیبیولم میں زردی کو پکڑا جاتا ہے، جہاں تقریباً 15 منٹ قیام ہوتا ہے۔ اگر نطفہ موجود ہو تو یہیں بارآوری ممکن ہوتی ہے۔
میگنم کے حصے میں زردی کے گرد سفیدی (Albumen) کی تہیں چڑھتی ہیں، جو کئی گھنٹوں پر مشتمل عمل ہے۔
اس کے بعد استھمس میں انڈے کے گرد باریک اندرونی اور بیرونی جھلیاں بنتی ہیں۔
پھر رحم یا شیل گلینڈ میں انڈے پر کیلشیم کاربونیٹ سے بنی مضبوط خول تیار ہوتی ہے۔ یہ مرحلہ سب سے زیادہ وقت لیتا ہے، تقریباً 20 گھنٹے۔
آخر میں ایک شفاف حفاظتی تہہ (Cuticle) خول پر چڑھائی جاتی ہے، جو انڈے کو جراثیم سے محفوظ رکھتی ہے، اور یوں مکمل انڈا باہر آ جاتا ہے۔
پورا عمل 24 سے 26 گھنٹے لیتا ہے، اسی لیے مرغی ایک دن میں دو انڈے نہیں دے سکتی۔
یہ سب ہمیں یہ حقیقت یاد دلاتا ہے کہ کائنات میں کوئی چیز بے ترتیب نہیں۔ ہر مرحلہ ایک مقرر نظام کے تحت ہے، جو ایک عظیم خالق کی حکمت کا مظہر ہے۔
اور پھر انسان غرور میں کہتا ہے کہ سب کچھ خود بخود ہے؟
اب انکار کرنے والوں کے لیے بس اتنا کہنا کافی ہے: “میں جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔”
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿هَٰذَا خَلْقُ اللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ ۚ بَلِ الظَّالِمُونَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ﴾
(سورۃ لقمان: 11)
“یہ اللہ کی تخلیق ہے، اب مجھے دکھاؤ کہ اس کے سوا دوسروں نے کیا پیدا کیا ہے۔ بلکہ ظالم لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔”
#viralpost2025 #fypシ゚viralシ #viralpost2026 #fypシ #foryoupage #Parenting
![]()

