Daily Roshni News

گل پلازہ کی شاپ نمبر 144 کا شٹر آدھا گرا ہوا تھا۔

گل پلازہ کی شاپ نمبر 144 کا شٹر آدھا گرا ہوا تھا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بجلی بند ہو جانے کے باعث اندر اندھیرا تھا، کچھ لوگوں نے موبائل فون کی ٹارچ جلائی ہوئی تھی۔ مگر روشنی بھی زندہ نہیں لگتی تھی۔ میزنائن فلور کی چھت کے نیچے جمع دھواں آہستہ آہستہ سانسوں کو نگل رہا تھا۔ کراکری کے شیلف اب بھی اپنی جگہ کھڑے تھے، جیسے کسی عجیب خاموشی میں منجمد ہوگئے ہوں۔ پلیٹوں، پیالیوں اور ڈنر سیٹس کے درمیان  تقریبا دودرجن زندگیاں سمٹ کر کھڑی تھیں، ایک دوسرے سے لپٹی ہوئی، ایک دوسرے کے سہارے پر۔

دکان کے مالک حاجی صاحب ،  کانپتے ہاتھوں سے شٹر کو دوبارہ نیچے کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

“۔۔۔بس بند رکھو۔۔۔باہر آگ ہے، یہاں بچ جائیں گے ہم”

ان کی آواز میں خود اعتمادی کم اور خود کو تسلی زیادہ تھی۔

نوجوان سیلز مین ، جو روزانہ اسی دکان میں گاہکوں کو مسکرا کر برتن دکھاتا تھا، اب موبائل ہاتھ میں لیے نیٹ ورک تلاش کر رہا تھا۔

حاجی صاحب۔۔۔میڈیا والے آگئے ہوں گے نیچے۔۔۔ جیسے ہی خبرچلے گی، فائر بریگیڈ آجائے گی۔۔۔” وہ آگ بجھا دیں گے”۔

ایک کونے میں تین خواتین بیٹھی تھیں۔ جن میں ایک پچاس سالہ عورت اپنی بیٹی اور بھانجی کے ساتھ شاپنگ کے لیے آئے تھے ۔ ماں بار بار کہہ رہی تھی:

“ہم نے تو بس چائے کے کپ لینے تھے… اللہ ہمیں گھر واپس بھیج دے”

ان کی بیٹی خاموشی سے آنسو پونچھ رہی تھی، اور بھانجی کے ہونٹ مسلسل ہل رہے تھے، دعا میں، سسکی میں، شاید دونوں میں۔

قریب ہی باپ بیٹے کی جوڑی کھڑی تھی۔ باپ نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔

“ڈرنا نہیں، میں ہوں نا بیٹا”

بیٹا شاید دس یا گیارہ سال کا تھا، اس کی آنکھیں شاپ کے کونے پر جمی تھیں شاید اس کی آنکھیں محفوظ جگہ کی تلاش میں تھیں ۔

“بابا”۔۔۔آج نانو  کے گھر جانا تھا ، وہ انتظار کر رہی ہوں گی… انھوں نے آج میری پسند کے مٹر چاول بھی بنائے ہیں۔

یہ کہتے ہوئے اس کی آواز ٹوٹ گئی، اور وہ دکان کے کونے میں جا کر سہم گیا، جیسے وہاں چھپ کر آگ کو دھوکا دے دے گا۔

ایک جوان بہن اپنے چھوٹے بھائی کو سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔

“امی نے کہا تھا زیادہ دیر نہ کرنا کیا پتہ ان کو ہماری خبر ہو یا نہ ہو”

بھائی نے سر اٹھا کر کہا،

“آپ کو کچھ نہیں ہونے دوں گا آپا”

بہن مسکرانے کی کوشش میں رو پڑی۔

درمیان میں ایک پانچ افراد کی فیملی تھی۔ ماں، باپ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ فرش پر رکھے ڈنر سیٹس کے ڈبوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے ماں بولی:

“بس یہ آخری خریداری تھی۔۔۔عید کے بعد شادی ہے۔۔۔ میری بچی کا گھر بس جائے گا”

باپ نے آسمان کی طرف دیکھا، جیسے چھت کے پار کچھ نظر آ جائے۔

“اللہ کرے ہم سب سلامت باہر نکل جائیں”

قریبی دکان کا ایک سیلز مین بھاگتا ہوا اندر آیا تھا۔

“میری دکان پوری جل چکی ہے  میں ادھر چھپ رہا ہوں۔۔۔ یہ دکان  محفوظ ہے نا؟”

کسی کے پاس جواب نہیں تھا، مگر سب نے سر ہلا دیا، کیونکہ اس وقت جھوٹ بھی امید لگتا تھا۔

دروازے کے پاس ایک سیکیورٹی گارڈ کھڑا تھا۔ وردی پر کالک جم رہی تھی۔

“فورسز آتی ہی ہوں گی۔۔۔میں نے  دیکھا ہے، وہ سیلاب، زلزلہ سب  آفتوں میں پہنچ جاتی ہیں۔۔۔ ہمیں بھی نکال لیں گی”

اس کے الفاظ مضبوط تھے، مگر آنکھیں خالی۔

وقت گزرتا گیا۔ دھواں گاڑھا ہوتا گیا۔ سانس لینا مشکل ہونے لگا۔

کسی نے کہا،

“ہمیں ریسکیو والے بچالیں گے، بس تھوڑا صبر”

کسی نے میڈیا پر بھروسا کیا،

“کیمرے آن ہوں گے، حکمران مجبور ہو جائیں گے”

ایک آدمی نے دو سیاسی جماعتوں کا نام لیا،

“میں نے ماضی میں ووٹ دیا ہے انھیں… وہ شہر کی نمائندہ ہیں… وہ ہمیں نہیں مرنے دیں گے”

لیکن امید کا وزن دھوئیں سے ہلکا ہوتا جا رہا تھا۔

خواتین کی دعائیں بلند ہو گئیں۔

“یا اللہ۔۔۔یا اللہ”

ایک عورت نے روتے ہوئے کہا،

“میری بچی کی شادی رہ گئی ہے”

دوسری نے ہاتھ اٹھا کر کہا،

“یا اللہ، اگر یہاں سے نہیں نکالنا تو کم از کم آسانی دے دے”

بچہ کونے میں کان بند کیے بیٹھا تھا۔

“نانو پیاری نانو”

اس کی آواز اب صرف ہونٹوں کی حرکت تھی۔

گرمی بڑھنے لگی۔ ہوا جلنے لگی۔

سیلز مین  نے ہانپتے ہوئے کہا،

“حاجی صاحب۔۔۔شاید شٹر کھولنا پڑے”

حاجی صاحب نے سر ہلایا،

“باہر شدید آگ ہے۔۔۔اللہ سے دعا کرو شاید”

آخری لمحوں میں باتیں ٹوٹنے لگیں۔ جملے ادھورے۔

سیکیورٹی گارڈ نے وردی کے بٹن کھولتے ہوئے کہا،

“میرا فرض۔۔۔بس یہی تھا”

باپ نے بیٹے کو سینے میں بھینچا،

“آنکھیں بند کر لو میری جان اور مجھے معاف کردو”

دعا، امید، سیاست، میڈیا،سب دھوئیں میں گھل گئے۔

آخری دو لمحے چیخ نہیں تھے، وہ سرگوشیاں تھیں۔

“اللہ”

“امی”

“معاف کردیں”

اور گل پلازہ کی  شاپ نمبر 144، جو کبھی چمکتے برتنوں  کی دکان تھی، خاموشی کا ایک بند کمرہ بن گئی. جہاں یقین زندہ رہا، مگر زندگی نہ بچ سکی۔

واجد رضااصفہانی

منقول

Loading