گناہوں کا شہر پومپئی
جو ایک رات میں راکھ کا ڈھیر بن گیا۔۔۔
تحریر۔۔۔محمد عزیر بیگ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ گناہوں کا شہر پومپئی۔۔۔ تحریر۔۔۔محمد عزیر بیگ) اٹھارہویں صدی عیسوی کے ایک سال میں ایک کسان اٹلی کے ایک بنجر و ویران علاقے میں رہا کرتا۔ یہاں پانی ایک بڑی نعمت کا درجہ رکھتا تھا۔ ایک دن اس کسان نے بنجر زمین میں کنواں کھودنے کی ٹھانی۔ کسان کی طویل مشقت کے بعد کھودے گئے اس کنوئیں سے پانی تو نہ نکلا لیکن کچھ ایسا برآمد ہوا جس کی تلاش صدیوں سے جاری تھی…. ایک گمشدہ شہر، اپنے دور کی شاندار بستیوں میں سے ایک۔ اس شہر کی تلاش ماہرین کو 2000 سالوں سے تھی ۔ یہ شہر جس قدر حیرت انگیز ہے اسی طرح اس کی کہانی بھی نہایت حیرت ناک ہے۔ یہ شہر تھا پومپئی ۔
پومپئی (Pompeii) ایک قدیم رومی شہر تھا جو موجودہ ملک اٹلی کے علاقے کمپانیہ میں ناپولی (نیپلز )کے نزدیک واقع تھا ۔ یہ شہر 7 ویں صدی قبل مسیح کے دوران آباد ہوا۔ مختلف ادوار میں مختلف قوموں کے زیرنگیں رہنے کے بعد رومن ایمپائر کے تسلط میں آیا۔ پھر اس شہر نے ترقی کی ایسی منازل طے کیں کہ یہ اس وقت کی دنیا کے عظیم ترین شہروں میں شمار ہونے لگا۔
پانی کے تالاب، کلب، بیکریاں، کشادہ سڑکیں، واٹر سپلائی کی سکیم، لائبریری، کمیونٹی سنٹر، اسپتال، گھوڑے باندھنے کے جدید اصطبل، دو منزلہ مکانات اور مکانوں کے پیچھے چھوٹے چھوٹے لان اور ان میں نصب فواروں نے اس شہر کو جنت بنا دیا تھا۔
یہ دنیا کا پہلا شہر تھا جس میں زبیرا کراسنگ شروع ہوئی تھی۔ یہیں سے کریم کیک ایجاد ہوا تھا اور یہیں سے اجتماعی غسل خانوں یا حمام کے تصور نے جنم لیا تھا۔
یہ رومن ایمپائر کے بڑے تجارتی شہروں میں سے ایک تھا لیکن دولت کی فراوانی کے بعد رفتہ رفتہ اس شہر کی پہچان تبدیل ہونے لگے۔ اجتماعی غسل خانے یا اجتماعی حمام بے حیائی کے مراکز بننے لگے۔ چند دہائیوں بعد یہ بے حیائی اس شہر کا عام مزاج بن گئی۔ اب اس شہر کی پہچان زرعی، تجارتی یا صنعتی شہر کی نہ رہی بلکہ اب یہ ایک بڑے آزاد معاشرے (Free Society) کا شہر بن گیا۔ کسی پابندی، کسی روک ٹوک، ہر قسم کے قانونی و سماجی بندھنوں سے آزاد کھلے عام جنسی تعلقات اس شہر کی خاص پہچان بن گئے۔ یہاں کاروبار تھا جسموں کااور لذتوں کا۔
آپ نے حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی قوم کا واقعہ تو ضرور سن رکھا ہوگا جب وہ قوم ہم جنس پرستی کی لعنت میں مبتلا ہوگئی تو اس قوم پر پتھروں کی برسات کرکے انہیں نیست و نابود کردیا گیا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ پومپئی کے ساتھ بھی ہوا تھا، پومپئی جنسی سرگرمیوں اور غیر اخلاقیوں حرکتوں میں کہیں آگے نکل چکا تھا۔ یہاں عورتیں عورتوں سے، مرد، مردوں سے، یہاں تک کہ جانوروں کے ساتھ جنسی تعلقات بنانا بھی عام ہوگیا تھا۔ جسم فروشی اس شہر کا بنیادی پیشہ اور معیشت کا اہم ستون بن چکا تھا۔ صرف عورتیں ہی نہیں بلکہ کئی تندرست مرد بھی اس کام میں پیش پیش تھے۔ غلاموں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد اس پیشے سے وابستہ تھی ۔
عوام کے ساتھ ساتھ شہر کی اشرافیہ یعنی اس کے امراء، افسران اور اکثر وزراء یا۔۔۔جاری ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ مئی 2018
![]()

