Daily Roshni News

گھوڑے کو آزادی مل گئی

گھوڑے کو آزادی مل گئی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ :ہجرت کی رات جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ  بخیرو عافیت رات کے اندھیرے میں مکہ مکرمہ سے رخصت ہو گئے تو قریش مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے کے لیے ہر طرف آدمی دوڑائے آخر کار قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے غار ثور تک پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  غار کے اندر موجود تھے ان کے کھوجی کہہ رہے تھے کہ اللہ کی قسم آپ کا مقصود اس غار سے آگے نہیں گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کو دیکھ کر اور ان کی باتیں سن کر پریشان ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ جب مشرکین کو اپنے مقصد میں ناکامی ہوئی تو انہوں نے اعلان کروا دیا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم  اور ابوبکر کو نعوذ باللہ قتل کر دیگا یا انہیں زندہ پکڑ لائے گا اس کو سو اونٹ انعام دیا جائے گا۔ اس اعلان کا ہونا تھا کہ بہت سارے قبائل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ سراقہ اپنے قبیلہ بنی مدلج کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آکر ان سے کہا کہ میں نے ابھی ساحل کی طرف کچھ سیاہی دیکھی ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  اور ان کے ساتھی تھے۔ سراقہ کو یقین ہو گیا لیکن انعام کی طمع میں انہوں نے تردید کی کہ نہیں وہ لوگ نہیں ہیں۔ تم نے فلاں فلاں شخص کو دیکھا ہوگا جو ابھی ہمارے سامنے گئے ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد سراقہ بڑی ہوشیاری اور رازداری کے ساتھ مجلس سے اٹھا اور اپنی باندی سے کہا کہ میرا فلاں تیز ترین گھوڑا تیار کرکے فلاں ٹیلے پر لے جاکر کھڑا کرو اور خود اپنا نیزہ وغیرہ لے کر گھر کے پچھلے راستے سے نکل کر وہاں پہنچ گیا اور گھوڑے کو سرپٹ دوڑا کر چند گھنٹوں کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا۔ سراقہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کی مدد و نصرت طلب فرمائی اور اس کے لئے بد دعا فرمائی۔ اسی وقت اس کا گھوڑا پتھریلی زمین میں گھٹنوں تک دھنس گیا اور اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا سراقہ نے پکار کر عرض کیا یقینا تم دونوں کی بددعا سے ایسا ہوا ہے آپ دونوں حضرات اللہ تعالی سے دعا کیجئے کہ میرے گھوڑے کو آزادی ملے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ سے تعرض نہ کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تو اسی وقت زمین نے گھوڑے کو چھوڑ دیا۔ لیکن دوسری دفعہ اس نے اتنے بڑے انعام کا تصور کرتے ہوئے حملہ کرنا چاہا اب پہلے کی نسبت اس کا گھوڑا زمین میں زیادہ دھنس گیا اور پھر دعا کی درخواست کی اور کہنے لگا کہ آپ میرا زادراہ اور سامان وغیرہ بھی لے لیں میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کو کچھ نہ کہوں گا بلکہ آپ کے تعاقب میں آنے والے ہر شخص کو واپس بھیج دوں گا اور نہ ہی کسی کو آپ کے متعلق اطلاع دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیں سامان وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے البتہ ہمارا حال کسی پر ظاہر نہ کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا فرمائی اور اس کے گھوڑے کو آزادی مل گئی۔ سراقہ سمجھ گیا کہ یقینا اللہ تعالی کی مدد ونصرت آپ کے ساتھ ہے یقینا ایک نا ایک دن آپ کو غلبہ نصیب ہوگا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے مطالبہ کیا کہ جب اللہ تعالی آپ کو غلبہ دے گا اس وقت کے لئے مجھے امن نامہ یا معافی نامہ لکھ دیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک چمڑے یا ہڈی پر امن نامہ لکھ کر دے دیا۔

سراقہ جب یہ تحریر لے کر واپس جانے لگا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سراقہ کا وہ منظر بڑا دیدنی ہوگا جب تیرے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن ہونگے۔ سراقہ حیرت و استعجاب میں ڈوب گیا کے کہاں میں اور کہاں سپر پاور  فارس کا بادشاہ اور اس کے کنگن۔ بڑی حیرانی کے ساتھ سوال کیا کہ کیا آپ کسریٰ بن ہرمز شاہ فارس کی بات کر رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہاں اس دین کو اللہ تعالی اتنا غلبہ دے گا کہ کسریٰ بن ہرمز کے کنگن تجھے پہنائے جائیں گے۔ یہ پیشن گوئی سن کر سراقہ اپنے خیالوں میں گم واپس چلا گیا بلکہ راستے میں ملنے والے تمام لوگوں کو بتاتا چلا گیا کہ ادھر کوئی نہیں۔ ادھر سے میں دور دور تک تلاش کر کے واپس آ رہا ہوں۔ سراقہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خبر کو چھپائے رکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بخیروعافیت مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ اقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی یہ پیش گوئی حرف بحرف سچ ثابت ہوئی اور سراقہ کو کسرہ بن ہرمز  کے کنگن پہنائے گئے

واللہ اعلم بالصواب۔ ۔

جزاک اللہ خیرا کثیرا۔

  1. صحیح بخاری

  2. صحیح مسلم

  3. سیرت ابن ہشام

  4. تاریخ الطبری

  5. البدایہ والنہایہ

  6. سیرۃ النبویہ لابن ہشام

  7. کتاب المغازی للواقدی

#IslamicHistory #Seerat #ProphetMuhammad #

Loading