Daily Roshni News

ہجرت کی وہ رات…تاریخِ انسانیت کی سب سے خاموش مگر سب سے عظیم رات تھی۔🌹❤️🔥

ہجرت کی وہ رات…تاریخِ انسانیت کی سب سے خاموش مگر سب سے عظیم رات تھی۔🌹❤️🔥

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مکہ مکرمہ کی گلیاں اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھیں، مگر آسمان پر تقدیر کا چراغ روشن ہو چکا تھا۔ رسولِ اکرم ﷺ اپنے وفادار ساتھی حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ساتھ اللہ کے حکم پر مکہ سے رخصت ہو چکے تھے۔ یہ سفر صرف شہر بدلنے کا نہیں تھا، یہ حق کے غلبے کی بنیاد رکھنے کا سفر تھا۔

ادھر قریشِ مکہ آگ بگولا تھے۔ ہر طرف اعلان، ہر سمت تلاش، قدموں کے نشان ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ غارِ ثور تک آن پہنچے۔ غار کے دہانے پر کھڑے ہو کر کہنے لگے:

“اللہ کی قسم! اگر محمد ﷺ کہیں گئے ہیں تو یہیں ہوں گے، اس سے آگے نہیں گئے۔”

یہ لمحہ انتہائی نازک تھا۔ حضرت ابو بکرؓ کے دل میں فطری گھبراہٹ پیدا ہوئی۔ دشمن اتنا قریب تھا کہ اگر نیچے دیکھ لیتا تو سب کچھ ظاہر ہو جاتا۔ مگر اسی لمحے نبی کریم ﷺ نے وہ جملہ فرمایا جو قیامت تک اہلِ ایمان کے لیے حوصلہ بن گیا:

“غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔”

اور پھر… اللہ کی مدد نے وہ منظر بدل دیا جسے دشمن آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود نہ دیکھ سکا۔

ناکامی کے بعد قریش نے اعلان کر دیا:

“جو محمد ﷺ اور ابو بکر کو قتل کر دے یا زندہ پکڑ لائے، اس کے لیے سو اونٹ انعام ہیں!”

یہ اعلان سننا تھا کہ لالچ کے مارے بہت سے لوگ نکل کھڑے ہوئے۔ انہی میں ایک نام تھا سراقہ بن مالک کا۔

سراقہ اپنے قبیلے بنی مدلج کی مجلس میں بیٹھا تھا کہ ایک شخص نے آ کر کہا:

“میں نے ساحل کی طرف کچھ سائے دیکھے ہیں، شاید وہی ہوں۔”

سراقہ سمجھ گیا۔ دل نے گواہی دے دی، مگر زبان نے انکار کیا۔ لالچ غالب آ چکا تھا۔ اس نے بات ٹال دی، مگر دل میں فیصلہ کر چکا تھا۔ خاموشی سے مجلس سے اٹھا، گھر کے پچھلے راستے سے نکلا، تیز ترین گھوڑا تیار کروایا اور بجلی کی طرح تعاقب میں نکل پڑا۔

کچھ ہی دیر میں وہ قریب پہنچ گیا۔ انعام آنکھوں کے سامنے تھا۔ مگر جیسے ہی اس نے حملے کا ارادہ کیا، قدرت نے مداخلت کی۔

اچانک اس کا گھوڑا سخت زمین میں گھٹنوں تک دھنس گیا۔ سراقہ پر خوف طاری ہو گیا، آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ اس نے چیخ کر کہا:

“یہ تم دونوں کی بددعا کا اثر ہے! اللہ سے دعا کرو، میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا!”

نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی، زمین نے گھوڑے کو چھوڑ دیا۔

مگر آزمائش ابھی باقی تھی۔

لالچ نے ایک بار پھر سر اٹھایا۔ سراقہ نے دوبارہ حملہ کرنا چاہا…

اس بار گھوڑا اور زیادہ گہرائی میں دھنس گیا۔

اب سراقہ کا دل ٹوٹ چکا تھا۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ یہ کوئی عام انسان نہیں، یہ اللہ کے نبی ہیں۔ اس نے عاجزی سے عرض کیا:

“میرا سامان بھی لے لو، بس مجھے معاف کر دو۔ میں نہ صرف تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا بلکہ تمہاری طرف آنے والے ہر شخص کو واپس بھیج دوں گا۔”

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“ہمیں تمہارے سامان کی ضرورت نہیں، بس ہمارا راز کسی پر ظاہر نہ کرنا۔”

دعا ہوئی، گھوڑا آزاد ہوا، اور سراقہ کا دل ایمان کے دروازے پر کھڑا ہو گیا۔

جانے سے پہلے اس نے عرض کیا:

“جب آپ کو غلبہ حاصل ہو جائے، تو میرے لیے ایک امان نامہ لکھ دیں۔”

ایک معمولی سا چمڑے کا ٹکڑا…

مگر اس پر لکھی تقدیر صدیوں پر محیط تھی۔

اور پھر نبی کریم ﷺ نے وہ بات فرمائی جس نے سراقہ کے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیا:

“سراقہ! وہ دن کیسا ہوگا جب تیرے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن ہوں گے!”

سراقہ حیران رہ گیا۔

کہاں وہ ایک صحرا کا سوار، اور کہاں فارس کا شہنشاہ؟

اس نے کانپتی آواز میں پوچھا:

“کسریٰ بن ہرمز؟ شاہِ فارس؟”

فرمایا:

“ہاں، وہی۔”

سراقہ واپس پلٹا…

مگر اب وہ دشمن نہیں تھا۔

راستے میں ملنے والے ہر شخص کو کہتا جاتا:

“میں دور دور تک دیکھ آیا ہوں، ادھر کوئی نہیں۔”

وہ راز دار بن گیا، محافظ بن گیا۔

اور وقت نے ثابت کر دیا کہ نبی ﷺ کا ہر فرمان سچ ہے۔

ایک دن وہی سراقہ، وہی بدوی، واقعی کسریٰ کے کنگن پہنے کھڑا تھا۔

یہ ہے ایمان کی طاقت۔

یہ ہے توکل کا انجام۔

یہ ہے نبی ﷺ کی صداقت۔

اللہ ہمیں بھی ایسے یقین، ایسے ایمان اور ایسی وفا نصیب فرمائے۔

آمین 🤲

واللہ اعلم بالصواب

تحریری لغزش ہو تو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔

ہمارے واٹس ایپ چینل کو بھی لازمی فالو کریں 👇

https://whatsapp.com/channel/0029Vb7YgaxCcW4lvR2HbR3m

Info Planet #infoplanet

Loading