یوتھونیزیا (Euthanasia) کیا ہے؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سال 2014 میں عالمی ادارہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں ہر 40 سیکنڈ بعد خودکشی کا ایک واقعہ رونما ہوتا ہے۔ یعنی جتنا وقت آپ یہ تحریر پڑھنے میں صرف کریں گے، اس دوران زمین پر 4 یا 5 افراد اپنی زندگی ختم کرچکے ہوں گے۔ یہ واحد قانونی جرم ہے جس میں “کامیابی” کی صورت میں دنیا کی کوئی طاقت مجرم کو سزا نہیں دے سکتی۔ خودکشی کی بہت سی وجوہات، اقسام اور طریقے ہیں۔لیکن یہاں ہم خودکشی کی اس قسم کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے جسےاخلاقی طور پر درست اور کئی ممالک میں قانونی تصور کیا جاتا ہے۔ اسے “یوتھونیزیا” (Euthanasia) یا پھر “معالج کی مدد سے خودکشی” کا نام دیا جاتا ہے۔
کیا “یوتھونیزیا” اخلاقی طور پر درست عمل ہے؟
بلاشبہ انسانی زندگی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، جان بچانا بہترین عمل ہے اور کسی کو جان سے مارنا بدترین جرم ہے۔ تاہم موت ایک تلخ حقیقت ہے،اسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ ہر انسان بالاٰخر موت کا شکار ہوتا ہے چاہے وہ پیدائش کے فوراً بعد ہو یا پھر 100 سال بعد۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کی زندگی آسان ہو تو پھر موت کو آسان بنانے میں کیا حرج ہے؟ پرسکون موت کا انتخاب ہر شخص کے اختیار میں نہیں ہوتا لیکن کئی مرتبہ ایسی صورتحال کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جب ایک طرف تکلیف دہ زندگی اور دوسری طرف آسان موت کا آپشن موجود ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ورکر بلند عمارت سے گر کر شدید زخمی ہوجاتا ہے۔ کمر اور گردن سمیت اس کی کئی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں، کھوپڑی فریکچر ہونے کی وجہ سے بہت سا خون ضائع ہوچکا ہے۔ ایسے میں اسے وینٹی لیٹر پر رکھ کر علاج شروع کیا جائے تو بھی اس کی جان بچنے کے بہت کم امکانات ہیں۔اگر بچ بھی جائے تو ٹھیک ہونے میں کئی ماہ کا عرصہ درکار ہوگا اور پھر وہ عمر بھر کیلئے مفلوج رہے گا، ممکن ہے کہ وہ اپنی گردن بھی نہ ہلا سکے۔ ایسے مفلوج مریضوں کی زندگی بہت مختصر ہوتی ہے، انہیں بار بار فلو اور نمونیا جیسے متعدی امراض کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پھر کسی انفیکشن کے بگڑ نے سے بالاٰخر ان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ اسی طرح بعض بیماریاں بھی موت کو سست اور تکلیف دہ بنا دیتی ہیں۔
اگر آپ تمام عمر ایسے حادثات اور بیماریوں سے بچ بھی نکلیں تو آخر میں بڑھاپے سے نہیں بچ سکتے۔ اس عمر میں انسان کی قوت مدافت بہت کم ہوجاتی ہے اور وہ بار بار مختلف بیماریوں کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ کچھ بوڑھے افراد کئی سال زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں۔ ہمارے پڑوس میں ایک 80 سال سے زائد عمر بزرگ تھا جو مہینے میں 10 دن گھر اور باقی وقت ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں گزارتا تھا، یہ سلسلہ ایک سال سے زائد عرصے تک چلا، پھر اسے اور اس کی فیملی کو تکلیف سے نجات مل ہی گئی۔ قصہ مختصر یہ کہ جان بہت قیمتی ہے لیکن بعض اوقات زندہ رہنا موت سے بدتر ہوجاتا ہے۔ اس صورتحال میں مریض کی رضامندی سےڈاکٹر اسے موت کی نیند سلا سکتا ہے۔میں خود یوتھونیزیا کا بہت بڑا حامی ہوں کیونکہ میں پرسکون زندگی کے بعد آسان موت چاہتا ہوں۔
“یوتھونیزیا” کی شرائط اور قانونی حیثیت:
اگرچہ دنیا کے بیشتر ممالک میں ابھی تک “یوتھونیزیا” یا پھر “معالج کی مدد سے خودکشی” غیر قانونی ہے لیکن اب تک کئی ممالک اسے باقاعدہ قانونی حیثیت دے چکے ہیں اور باقی دنیا میں بھی Right to Die کی تنظیمیں قانون سازی کیلئے سرگرم ہیں۔ تاہم یوتھونیزیا کی چند اخلاقی اور قانونی شرائط ہیں جنہیں پورا کئے بغیر کسی کو خودکشی میں مدد دینا قتل کے مترادف ہے:
1۔ خودکشی کرنے والا شخص شدید ذہنی اور جسمانی تکلیف میں مبتلا ہو
2۔ ماہر ڈاکٹر اس بات کی تصدیق کرے کے مریض کی صحت یابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں یا پھر اس کی زندگی بہت محدود اور تکلیف دہ ہوگی
3۔ مریض خود اپنی زندگی ختم کرنے کی باقاعدہ اجازت دے۔ (بعض صورتوں میں اگر مریض ہوش و حواس میں نہ ہو تو اس کے ورثاء شرط نمبر 1 اور 2 کو پورا کرنے کے بعد ڈاکٹر کو یہ اجازت دے سکتے ہیں)
2002 میں نیدرلینڈز دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے ڈاکٹر کی مدد سے خودکشی کو قانونی حیثیت دی تاہم اس کی سخت شرائط ہیں جنہیں پورا کئے بغیر مریض کو مارنا قتل کے زمرے میں آتا ہے۔ نیدر لینڈز کے بعد بیلجیئم نے بھی یوتھونیزیا کو قانونی حیثیت دی۔یہاں لاعلاج امراض میں مبتلا چھوٹے بچوں کو بھی والدین کی رضامندی سے موت دینے کی اجازت ہے۔سوئٹزرلینڈ میں نجی تنظیمیں شدید تکلیف میں مبتلا مریضوں کو”آسان موت” میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
گزشتہ سال کینیڈا میں یوتھونیزیا کو قانونی حیثیت مل گئی تاہم یہاں کا قانون یورپی ممالک سے کہیں زیادہ سخت ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے دیس ریاست متحدہ امریکہ کی ہر ریاست میں قانون مختلف ہوتا ہے۔ یہاں اوریگن وہ پہلی ریاست تھی جس نے 1997 میں معالج کی مدد سے خودکشی کو قانونی شکل دی۔ اب تک واشنگٹن ڈی سی، کیلی فورنیا، مونٹانا سمیت 5 امریکی ریاستوں میں یوتھونیزیا قانونی عمل ہے، دیگر ریاستوں میں بھی قانونی سازی کیلئے جدوجہد جاری ہے۔
آسان موت کے کیا طریقے ہیں؟
معالج کی مدد سے خودکشی 2 طریقوں سے ممکن ہے۔ پہلا طریقہ یہ کہ مریض کا علاج بند کرکے اسے صرف وہ ادویات دی جاتی ہیں جو درد کم کرتی ہیں۔ مصنوعی لائف سپورٹ سسٹم ختم کرنے اور زیادہ مقدار میں دافع درد دوائیں موت کا عمل تیز کردیتی ہیں، یوں جلد ہی آسان طریقے سے موت واقع ہوجاتی ہے۔ یہ طریقہ ان ممالک میں بھی خاموشی سے استعمال کیا جاتا ہے جہاں ابھی تک یوتھونیزیا کے خلاف سخت ترین قوانین موجود ہیں۔ تاہم بعض اوقات علاج ترک کرنے کے باوجود مریض فوراً نہیں مرتا، لہذا دوسرا طریقہ اس سے کہیں زیادہ آسان اور تیز ہے۔ یہاں ڈاکٹر لاعلاج مریض کو اس کی اجازت سے مہلک زہر کا انجکشن لگا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یوتھونیزیا کے حامی بعض ڈاکٹرز ہیلئم/نائٹروجن گیس کے ذریعے موت کو آسان ترین طریقہ قرار دیتے ہیں کیونکہ اس سے مریض کو بالکل بھی تکلیف نہیں ہوتی۔
اور آخر میں بات ہوجائے الباکستان الاسلامی المحدودہ کے قانون کی۔ یہاں کسی بھی صورت میں پہلے طریقے سے مریض کو خودکشی میں مدد دینا اعانت قتل اور دوسرے طریقے سے اسے (خواہ وہ مریض کی اجازت سے ہی کیوں نہ ہو) موت کی نیند سلانا قتل عمد (دفعہ 302) کے زمرے میں آتا ہے۔ لہذا اگر کسی ڈاکٹر پر یہ الزام ثابت ہوجائے کہ اس نے زندگی و موت کی کشمکش میں سسکتے ہوئے مریض کو جان بوجھ کر موت کی نیند سلادیا تو اسے عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
لیکن جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہاں قانون صرف کتابوں میں ملتا ہے، اس لئے یہاں ڈاکٹر کے ذریعے خودکشی ناممکن نہیں۔ اس ملک میں ایسے واقعات عام ہیں جہاں مریض پیٹ کا معمولی انفیکشن ہونے پر کلینک جاتا ہے اور غلط انجکشن لگنے سے اس کی لاش باہر آتی ہے۔ لیکن غفلت کا مرتکب ڈاکٹر/نرس کچھ “لے دے کر” قانون کے شکنجے سے بچ نکلتے ہیں۔
![]()

