یہ واقعہ عام نہیں
انتخاب ۔ میاں عمران
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ یہ واقعہ عام نہیں ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔میاں عمران) یہ انسان کی پوری زندگی سمجھا دیتا ہے۔ کیسے کبھی دکھ کے پیچھے رحمت ہوتی ہے۔
کیسے نقصان دراصل حفاظت ہوتا ہے، کیسے انتظار میں خیر چھپی ہوتی ہے، اور کیسے اللہ کی حکمت ہماری نظر سے کہیں آگے ہے۔
یہ واقعہ وہ سفر ہے. جس میں اللہ نے حضرت موسیٰؑ کو ظاہری علم سے باطنی علم تک لے جانے کا فیصلہ کیا۔
آغاز۔ جب موسیٰؑ نے جاننے کی خواہش کی
ایک دن حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا:
“زمین پر مجھ سے زیادہ علم والا کوئی نہیں۔”
یہ بات اللہ کو پسند نہ آئی۔ اللہ نے وحی فرمائیں :
“موسیٰ، ہمارا ایک بندہ ہے جس کے پاس وہ علم ہے جو تیرے پاس نہیں۔” موسیٰؑ حیران ہوئے۔ دل میں طلب جاگی۔ مجھے وہ بندہ ملنا چاہیے۔ مجھے اس علم کو سمجھنا ہے ۔
اللہ نے فرمایا:
“وہ بندہ خضر ہے۔ تم دونوں کا ملاپ دریا کے کنارے ہو گا۔” یوں موسیٰؑ اپنے خادم یوشع بن نون کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئے۔
حضرت خضرؑ سے ملاقات۔ ایک انوکھا استاد
سمندر کے کنارے ایک پتھر پر دونوں نے خضرؑ کو دیکھا آنکھوں میں نور، چہرے پر گہری خاموشی، اور وجود میں ایک ایسا رعب جو بتاتا تھا کہ یہ کوئی عام انسان نہیں۔
موسیٰؑ نے ادب سے کہا:
“کیا میں آپ کے ساتھ چل سکتا ہوں، تاکہ آپ مجھے وہ علم سکھائیں جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے؟”
خضرؑ نے موسیٰؑ کی طرف دیکھا۔ اور ایک عجیب بات کہی:
“تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے۔ جس بات کی حقیقت تم نہیں جانتے، اس پر کیسے صبر کرو گے؟”
موسیٰؑ نے وعدہ کیا: “ان شاء اللہ، آپ مجھے صابر پائیں گے۔”
خضرؑ نے فرمایا: “پھر میرے ساتھ چلو، مگر شرط یہ ہے کہ جو میں کروں، اس کے بارے میں سوال نہ کرنا۔ جب تک میں خود نہ بتاؤں۔”
یہ تھا باطنی علم کا پہلا اصول۔
“پہلے دیکھو، پھر سیکھو، پھر سمجھو۔”
سفر کا پہلا واقعہ۔ کشتی میں سوراخ
دونوں ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی والے غریب تھے، محنت سے روزی کماتے تھے۔ خضرؑ نے کشتی میں سوراخ کر دیا۔
موسیٰؑ چونک گئے:
“آپ نے یہ کیا کیا؟ یہ تو غریبوں کی کشتی ہے! وہ ڈوب جائیں گے۔
خضرؑ نے نرم لہجے میں کہا:
“میں نے تم سے کہا تھا۔ صبر نہیں کر سکو گے۔”
موسیٰؑ نے معزرت کیا
لیکن دل میں سوال ابھی بھی جل رہا تھا: یہ کیسا عمل تھا؟
دوسرا واقعہ۔ لڑکے کو قتل کرنا
چلتے چلتے خضرؑ کو ایک نوجوان لڑکا ملا۔ خضرؑ نے اسے قتل کر دیا۔
موسیٰؑ چیخ اٹھے:
“یہ تو بہت بڑی زیادتی ہے۔ ایک بے گناہ کو کیوں قتل کیا؟”
خضرؑ نے پھر کہا:
“میں نے کہا تھا
جو چیز تمہاری نظر میں حیبت ہے، اس کی حکمت ابھی تم نہیں جانتے۔”
موسیٰؑ دل تھام کر خاموش ہو گئے، لیکن اندر سے لرز رہے تھے۔
تیسرا واقعہ۔ ٹوٹی ہوئی دیوار بنانا
تین دن سفر کے بعد وہ ایک ایسے گاؤں پہنچے جہاں لوگوں نے انہیں کھانا تک نہ دیا۔
پھر بھی خضرؑ نے وہاں ایک گرنے والی دیوار سیدھی کر دی۔
موسیٰؑ نے کہا:
“یہ نا مہربان لوگ ہیں۔ کم از کم آپ محنت کا معاوضہ تو مانگ سکتے تھے۔
خضرؑ نے کہا:
“یہ وہ مقام ہے جہاں ہم جدا ہوں گے۔ اب میں تمہیں وہ حقیقتیں بتاؤں گا جو تمہاری آنکھوں سے چھپی تھیں۔”
باطنی حکمت۔ وہ راز جو دل بدل دے
پہلی حکمت: کشتی
“وہ کشتی غریب لوگوں کی تھی۔ سامنے بادشاہ غصب کے لیے ہر اچھی کشتی کو چھین لیتا تھا۔ میں نے سوراخ کر دیا تاکہ بادشاہ اسے لے نہ سکے اور وہ کشتی غریبوں کے پاس محفوظ رہے۔”
یعنی: نقصان بھی کبھی کبھی حفاظت ہوتا ہے۔
دوسری حکمت: لڑکا
“وہ لڑکا بڑا ہو کر کفر اور سرکشی اختیار کرتا، اپنے والدین کے لیے آزمائش بنتا۔ اللہ انہیں اس سے بہتر اور پاکیزہ اولاد دے گا۔”
یعنی: اللہ بعض چیزیں اس لیے لے لیتا ہے تاکہ بہتر عطا کرے۔
تیسری حکمت: دیوار
“اس دیوار کے نیچے دو یتیم بچوں کا خزانہ چھپا تھا۔ ان کا باپ نیک آدمی تھا۔ اللہ چاہتا تھا کہ خزانہ محفوظ رہے، اس لیے میں نے دیوار کھڑی کر دی۔”
یعنی: برائی کرنے والوں کے بھی درمیان اللہ اپنی حکمت چلتا ہے۔ وہ اپنی رحمت کے دروازے ہر جگہ کھول سکتا ہے۔
آخر میں خضرؑ نے موسیٰؑ سے کہا:
“اے موسیٰ، اللہ کا علم سمندر ہے۔ ہمیں صرف ایک قطرہ دیا گیا ہے۔ جس بات کو تم سمجھ نہ پاؤ، اس پر بد گمانی نہ کرو۔
موسیٰؑ کا دل روشن ہو گیا۔ انہوں نے جان لیا کہ زندگی صرف وہ نہیں جو نظر آتی ہے۔
اللہ کی حکمت اس سے کہیں وسیع ہے۔
اس واقعے کا بڑا سبق۔ زندگی بدل دینے والی حکمتیں
ہر دکھ کے پیچھے کوئی بھلائی ہوتی ہے
صبر وہ چابی ہے جو بند تقدیریں کھول دیتی ہے
اللہ اپنی رحمت چھپا کر کام کرتا ہے
ہماری نظر کمزور، اللہ کی حکمت بے مثال
جو بھروسہ کرتا ہے۔ وہ کبھی اکیلا نہیں ہوتا
سب سے بڑی حقیقت:
جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اسے وہاں سے راستہ دیتا ہے جہاں راستہ ہوتا ہی نہیں۔
#منقول
![]()

