یہ کہانی ایک ماں یا باپ کی نہیں… یہ بچوں کے ٹوٹنے کی کہانی ہے۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک بہن بتاتی ہیں کہ اُن کے بھائی کے چار بچے ہیں۔ سب سے چھوٹا ابھی صرف ایک سال کا تھا، ماں کا دودھ پیتا تھا، جب بھابھی ناراضی میں میکے چلی گئیں۔
جھگڑا کوئی بہت بڑا نہیں تھا، وہی روزمرہ کی باتیں… موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال، بچوں پر توجہ کی کمی۔ اس لاپرواہی کی قیمت پہلے بھی ایک بچی جل کر ادا کر چکی تھی۔
بھائی نے حالات سنبھالنے کی پوری کوشش کی۔ قریبی گاؤں میں نوکری شروع کی تاکہ خود بچوں کو اسکول چھوڑے، خود لے آئے، خود تیار کرے۔ امی نے سہولت کے لیے آٹومیٹک واشنگ مشین لے دی، کام والی بھی آتی تھی، گھر میں نہ مہمانوں کا ہجوم تھا نہ نندوں دیوروں کی یلغار۔
بس بچوں کو سنبھالنا تھا، وقت پر کھانا بنانا تھا… مگر ماں کا دل بچوں کے بجائے اسکرین میں الجھا رہا۔
بار بار سمجھانے کے باوجود فون کم نہ ہوا۔ باتیں بڑھا چڑھا کر میکے پہنچیں۔ ایک معمولی جھگڑا ہوا اور ایک دن بھابھی کی ماں آئیں… اور چاروں بچوں کو، شیرخوار سمیت، چھوڑ کر بیٹی کو لے گئیں۔
وہ ننھا بچہ، جسے ماں کی گود اور دودھ کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، باپ کے کندھوں پر راتیں گزارنے لگا۔
سرد راتوں میں وہ ساری رات ماں کے لمس اور دودھ کے لیے بلکتا رہتا۔ میرا بھائی پوری رات بچے کو اٹھائے پھرتا، اور صبح کام پر چلا جاتا۔ امی دن بھر سنبھالتیں۔
چار مہینے بعد ماں واپس لوٹی… مگر تب تک بہت کچھ بدل چکا تھا۔
سب سے چھوٹا بچہ ماں کو پہچاننے میں ہچکچانے لگا۔
جڑواں بچے پہلے جیسے نہ رہے۔
بڑی بچی کا رویہ ماں کے ساتھ اجنبی سا ہو گیا۔
اب نانو کے گھر جاتے ہیں تو دو دن میں ہی فون آ جاتا ہے:
“آ کر بچوں کو لے جائیں۔”
وہ ماں کے بغیر بھی رہ لیتے ہیں…
مگر اُن کی شخصیت میں ایک گہرا خلا آ چکا ہے۔
وہ خاموش، سہمے ہوئے، گم سم سے رہتے ہیں۔
یہی اصل المیہ ہے۔
ماں باپ کے جھگڑے صرف اُن کے درمیان نہیں رہتے، یہ بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی دنیا کو تہس نہس کر دیتے ہیں۔
بچے لفظوں میں شکوہ نہیں کرتے، مگر اندر ہی اندر ٹوٹ جاتے ہیں۔
وہ سہولت نہیں مانگتے…
وہ توجہ مانگتے ہیں۔
وہ بس اتنا جانتے ہیں کہ جب وہ روئیں تو کوئی بانہوں میں بھینچ لے،
اور جب سوئیں تو کوئی گود اُن کے سر کے نیچے ہو۔
انہیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ بڑوں کا کمفرٹ زون، انا اور ضدیں
کیوں اُن کی محبت سے زیادہ قیمتی ہو جاتی ہیں۔
اگر ماں باپ صرف بچوں کا احساس کر لیں،
تو شاید بہت سی جدائیاں ٹل جائیں۔
کیونکہ بچوں کی اذیت… عمر بھر کا ٹراما بن جاتی ہے۔
یہ کہانی صرف ایک گھر کی نہیں،
یہ اُن ہزاروں گھروں کی کہانی ہے
جہاں ماں باپ کے جھگڑوں کی قیمت
ہمیشہ بچے ادا کرتے ہیں۔
اگر آپ کو یہ کہانی اچھی لگی ہو تو مجھے فالو ضرور کریں،
تاکہ ایسی اخلاقی اور سبق آموز کہانیاں آپ تک پہنچتی رہیں۔
![]()

