یہ کہانی ھے آج سے 30 سالہ پرانی مگر سچی ابیٹ آباد سے برائے راستہ مری راولپنڈی کا سفر
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ کہانی ھے آج سے 30 سالہ پرانی مگر سچی ابیٹ آباد سے برائے راستہ مری راولپنڈی کا سفر اور اکیلا مسافر
سردیوں کی لمبی اور خوفناک سخت اندھیری راتیں تھی پت جڑ کا موسم تھا زیادہ تر درختوں سے پتے جھڑ چکے تھے ایک اکیلا مسافر جنکا نام تیمور شاہ تھا جو انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ اپنی منزل راولپنڈی کی جانب رواں دواں تھے جنکا تعلق ابیٹ آباد شہر سے تھا جنہیں رات گئے اطلاع ملی آپکی بہن راولپنڈی ہسپتال میں بے حد سیریس ہیں اور وہ بار بار آپکا نام پکار رہی ہیں
آپ جتنی جلدی ان کے پاس پہنچ سکتے ہیں تو پہنچ آئیں ڈاکٹر جواب دے چکے ہیں انکی موت کا وقت قریب ھے آدھی رات کا وقت اور نتھیا گلی کا ویران سنسان گھنا جنگل جسکے ویرانے کی اتنی وحشت آج بھی ھے جہاں موجودہ دور میں رات تو بہت دور کی بات جسکا ڈر و خوف دن کے وقت بھی آدم کی اولاد کہ دلوں میں کہیں
نا کہیں ضرور موجود رہتا ھے 100
نتھیا گلی جنگل کراس کرتے ہوۓ ایک موڑ پر جسکی دوسری جانب سے ڈرائیور تیمور شاہ کو کسی شخص نے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا تیمور شاہ نے گاڑی کی سپیڈ کو سلو کرتے ہوئے دل میں سوچا یہ بھی کوئی بیچاره مسافر ھے اسے ساتھ بٹھا لیتا ہوں ویسے بھی میں اکیلا ہوں گپ شپ کرتے سفر طے ہو جاۓ گا لیکن انہوں نے گاڑی روکنے کی بجائے یک دم سپیڈ کو دو گنا بڑھا دیا ابھی گاڑی چند ہی کلومیٹر کا فاصلہ بمشکل طے کر پائی تھی ایک انتہائی حسین اور خوبصورت نئی نویلی دلہن جس نے مکمل بار و سنگار کیے ہوۓ شادی کا سرخ جوڑا پہنا روڈ کی ایک سائیڈ پر کھڑی تھی جس نے ڈرائیور تیمور شاہ کو بازو پھیلا کر لفٹ مانگی تیمور شاہ نے گاڑی کو روکتے ہوئے فورا اسے گاڑی میں بیٹھنے کی اونچی آواز لگائی جلدی گاڑی میں بیٹھ جاؤ
نئی نویلی دلہن نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا اور یک دم سیٹ پر بیٹھ گئی تیمور شاہ نے گاڑی کو پھر سے بھگانہ شروع کر دیا ڈرائیور نے اس دلہن سے پوچھا آپ آدھی رات کو اس خوفناک اور گھنے جنگل میں اکیلی کیا کر رہی تھی ؟
دلہن نے جواب دیتے ہوۓ کہا میری شادی جس شخص سے طے پائی میں اسے پسند نہیں کرتی اس لیے بہت دور کا سفر پیدل طے کرتی ہوئی جہاں سے آپ نے مجھے گاڑی میں بٹھایا وہاں پہنچی میں اسے (شوہر) اور اسکے گھر والوں کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ آئی ہوں
تھوڑی ہی دیر بعد اس دلہن نے ڈرائیور سے سوال کیا آپ گاڑی اتنی تیز کیوں چلا رھے ہیں؟ آپکی گاڑی کبھی روڈ کی ایک طرف جا رہی ھے اور کبھی دوسری طرف اسکی کوئی خاص وجہ؟
ڈرائیور نے کہا جس جگہ سے آپکو گاڑی میں بٹھایا وہاں سے چند کلو میٹر پیچھے ایک شخص نے مجھے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا میں گاڑی روکنے ہی والا تھا کے اچانک میری نظر اس شخص کہ پاؤں پر پڑی جسکے بعد میں بے حد خوفزدہ ہوں اور مجھ پر کپکپی طاری طاری ھے وہ شخص جو گاڑی روک رہا تھا وہ انسان نہیں بلکہ الله تعالیٰ کی بنائی کوئی اور مخلوق تھی۔۔۔۔۔
دلہن آپ نے اسکے پاؤں میں اتنا کیا خاص دیکھا ؟ ڈرائیور اس کے پاؤں الٹے تھے وہ انسان نہیں بلکے سو فیصد جن یا اللہ تعالیٰ کی دوسری مخلوق تھی دلہن نے کہا کیا آپ نے میرے پاؤں نہیں دیکھے ؟
ڈرائیور نے کہا نہیں دلہن میرے پاؤں اب دیکھ لیں اور ڈرنا بالکل بھی نہیں میں تمارا دل نکال لوں گی
ڈرائیور نے تیز رفتاری میں یک دم بریک لگاتے ہوئے فورا گاڑی کی چھت پر لگی لائٹ کو آن کیا اور اس نئی نویلی دلہن کے پاؤں کو دیکھا اللہ اکبر
جسکے پاؤں بھی الٹے تھے دلہن بولی اصل میں جس شخص نے تمیں پہلے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا تھا وہ میں ہی تھی ایک بار بچ نکل آۓ میرے ہاتھوں پر اب کی بار نہیں
تم میرے جال میں پھنس چکے ہو اب تماری موت طے ھی نئی نویلی دلہن کے آخری الفاظ جو ڈرائیور نے ہوش میں آنے کے بعد بتائے تماری زندگی کے صرف تین دن باقی ہیں یہ الفاظ ڈرائیور نے سنتے ہی اس نے بتایا مجھے کوئی ہوش نا رہا میں بے ہوش ہو گیا اور صبع اسلام آباد پولی کلینک ہاسپٹل میں اسکی آنکھ کھلی
تیمور شاہ نے مکمل قصہ سناتے ہوئے بتایا میرے دل میں شدید تکلیف ھے اور بخار سے میرے جسم کی سبی ہڈیاں ٹوٹ رہی ہیں جسکے بعد انہیں بخار نے ایسا جکڑا گویا ان کے جسم سے آگ نکل رہی ہو ڈرائیور تیمور شاہ چڑیل ماسی کے بتاۓ ہوۓ ٹھیک تیسرے دن چل بسے اور مالک حقیقی سے جا ملے حضور پاک ﷺ کی حدیث مبارکہ ھے رات کی تاریکی میں گھر سے اکیلے باہر مت نکلو اگر جانا بے حد ضروری ہو تو دو ساتھی ساتھ سفر کریں آیت الکرسی سات مرتبہ پڑھ کر اپنی چاروں طرف دم کریں
![]()

