Daily Roshni News

یہ کہانی ہے مہناز اختر کی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ کہانی ہے مہناز اختر کی…اور یہ کہانی نہیں، ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے۔مہناز اختر، چکوال کی رہنے والی، ایک غریب مگر غیرت مند عورت۔

شوہر کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوا تو گھر کی ساری ذمہ داری اس کے نازک کندھوں پر آ گئی۔

شوہر کے علاج، بچوں کی بھوک اور قرضوں کے بوجھ نے اسے توڑ کر رکھ دیا،

مگر اس نے ہار نہیں مانی۔

شوہر کے آخری دنوں میں اس نے اپنی ہر کمائی علاج پر لگا دی۔

شوہر کہتا تھا:

“مجھ پر خرچ نہ کرو، بچوں کے لیے بچا لو…”

مگر وہ کہتی تھی:

“میں آپ کو تکلیف میں کیسے چھوڑ دوں؟”

بالآخر شوہر دنیا سے رخصت ہو گیا…

اور مہناز قرض میں ڈوب گئی۔

مجبوراً وہ کراچی ایک بنگلے پر ملازمت کے لیے چلی گئی۔

دو بچے ساتھ تھے — ایک بیٹا، ایک بیٹی۔

امید تھی چند سال میں قرض اتر جائے گا،

مگر قسمت نے اس سے اس کا سب کچھ چھین لیا۔

ایک دن وہ گھر کے اندر کام کر رہی تھی،

بچہ باہر کھیل رہا تھا۔

مالکان گاڑی میں بیٹھ کر نکلے…

اور کسی کو نظر نہ آیا کہ ایک ڈیڑھ سالہ بچہ گاڑی کے نیچے آ گیا ہے۔

گاڑی رکی…

نیچے مہناز کا بیٹا تھا۔

انتڑیاں باہر تھیں…

جسم کے حصے ٹائروں سے چپکے ہوئے۔

ماں چیختی ہوئی دوڑی…

مگر اسے لاش کے قریب جانے سے روک دیا گیا۔

حکم ملا:

“پہلے گاڑی کے ٹائر صاف کرو، ہمیں دیر ہو رہی ہے!”

وہ آنسوؤں کے ساتھ ٹائر دھوتی رہی…

وہ ٹائر مٹی سے نہیں،

اس کی اولاد کے خون سے گندے تھے۔

ٹائر صاف ہوئے،

مالکان چلے گئے…

اور جاتے جاتے کہا:

“لاش اٹھا کر صفائی کر دو،

دفنا کر ایک ہفتے میں واپس آ جانا،

تمہارے بغیر گھر نہیں چلتا۔”

نہ ایمبولینس…

نہ کرایہ…

نہ مدد۔

وہ اپنے بچے کی لاش کو چادر میں لپیٹ کر،

سر پر رکھ کر،

ایک ہاتھ میں بیٹی کا ہاتھ تھامے،

پیدل نکل پڑی۔

لوگوں سے مانگنے کی ہمت بھی نہ تھی۔

بالآخر ایک ٹکٹ چیکر نے اس کی خاموشی کے پیچھے چھپا درد دیکھا۔

لاش دیکھ کر وہ خود رو پڑا۔

اپنی جیب کے سارے پیسے دیے،

ٹکٹ بنایا،

اور اسے اس کے گاؤں پہنچایا۔

گاؤں میں امام مسجد نے تدفین کا انتظام کیا،

لوگوں نے مدد کی،

اور بالآخر دباؤ ڈال کر

ان مالکان سے اس کا قرض معاف کروایا گیا۔

آج مہناز زندہ ہے…

مگر مکمل ہوش میں نہیں۔

آج بھی وہ اپنی جوان بیٹی کا بازو رسی سے باندھ کر پکڑتی ہے…

کہتی ہے:

“بچوں کو سمجھ نہیں ہوتی،

یہ گاڑیوں کے نیچے آ جاتے ہیں…”

یہ صرف ایک عورت کی کہانی نہیں…

یہ ہمارے معاشرے کا سچ ہے۔

جہاں غریب کی اولاد مر جائے

تو ہمیں غصہ اس بات پر آتا ہے

کہ ہماری گاڑی کے ٹائر گندے ہو گئے۔

میرا مالی طور پر مضبوط لوگوں سے صرف اتنا کہنا ہے:

غریب بھی انسان ہوتے ہیں۔

ان کی اولاد بھی اولاد ہوتی ہے۔

ذرا سا رحم، ذرا سا انصاف —

کسی کی پوری زندگی بچا سکتا ہے۔

✨ اگر آپ کو یہ کہانی اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں،

تاکہ ایسی اخلاقی کہانیاں آپ کو ملتی رہیں۔

Loading