Daily Roshni News

۔ فلسفہ تنقید۔۔۔ تحریر۔۔۔خلیل جبران۔۔قسط نمبر1

فلسفہ تنقید

تحریر۔۔۔خلیل جبران

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ فلسفہ تنقید۔۔۔ تحریر۔۔۔خلیل جبران)مشرق کے رہنے والے ، ہر مفکر سے یہی سننے کے خواہش فلسفة تنقيع مند ہیں کہ بیدما، ابن رشد افرام سریانی اور یوحنا د مشقی نے کیا کہا تھا۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے مضامین میں بے کار نصیحتوں اور ارشادات اور ان میں استعمال ہونے والے ان مواعظ و نصائح کے سوا اور کچھ نہ لکھے۔

وہ اپنے انتہا پسندانہ خیالات میں جنون کی حد تک میر اخیال ہے وہ اس لیے لکھتارہتا ہے کہ لوگوں کے اخلاق خراب ہوں ….

اگر شادی شدہ اور غیر شادی شدہ مرد اور عورتیں شادی کے معاملے میں جبران کے افکار کی پیروی کرنے لگیں تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ خانہ داری کے ستون گر جائیں گے۔ انسانی جماعت کی بنیادیں بل جائیں گی اور یہ دنیا ایسے جہنم کی شکل اختیار کرلے گی جس میں شیطان لیتے ہوں…..

اس کے اسلوب صحافت کی آرائش و زینت خاک میں مل جائے وہ تو انسانیت کا دشمن ہے.”

وہ اشتراکی ملحد اور کافر ہے۔ ہم اس پاک سر زمین کے باشندوں کو نصیحت کے طور پر کہتے ہیں کہ اس کی تعلیمات سے دور رہیں اور اس کی کتابوں کو جلا ڈالیں تاکہ ان کا کوئی اثر ان کے نفوس پر باقی نہ رہے…

“ہم نے اس کی کتابیں پڑھ ڈالیں اور دیکھا کہ وہ میٹھے زہر کی مثال رکھتا ہے …”یہ میرے متعلق بعض لوگوں کی رائے ہے اور ٹھیک ہے۔ اس لیے کہ میری انتہا پسندی جنون کی حد تک پہنچ چکی ہے۔ میں تعمیر کی نسبت تخریب کے زیادہ درپے ہوں۔ میرا دل ان چیزوں سے منظر ہے جن کی لوگ تعظیم کرتے ہیں اور میرے دل میں ان چیزوں کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے جن سے لوگ متفر ہیں۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ میری کتابیں میٹھے زہر کی مانند ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میں زہر کو کسی اور چیز میں ملا کر نہیں دیتا بلکہ خالص زہر پلاتا ہوں۔ فرق اتنا ہے کہ زہر کے پیالے صاف و شفاف ہو ا کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے دلوں کو میری طرف سے یہ عذر پیش کر کے اطمینان دلاتے ہیں کہ وہ ل جبران ایک خیالی آدمی ہے جو بادلوں کی دنیا

میں اڑنا چاہتا ہے۔ وہ وہی لوگ ہیں جن کی نظر صرف ان شفاف پیالوں پر پڑتی ہے اور ان کے اندر بھری ہوئی شراب یاز ہر تک ان کی رسائی نہیں۔ اس لیے کہ ان کے کمزور معدے اس کو ہضم کرنے کے قابل نہیں۔

یہ تمہید ایک کر مخت بے حیائی ظاہر کرتی ہے لیکن کیا یہ واقعہ نہیں کہ دل کو چھیدنے والی بے حیائی، شیریں الفاظ سے ادا ہونیوالی خباثت سے بہتر ہے۔ بے حیائی اپنے اصلی رنگ میں اپنے آپ کو پیش کرتی ہے لیکن خیالت اور بے ایمانی ایسے لباس میں ظاہر ہونے کی کوشش کرتی ہیں جو اس کے لیے سلایا نہیں گیا۔ مشرق کے باشندے ہر مضمون ایسا چاہتے ہیں کہ وہ شہد کی مکھی کی طرح باغات میں پھر پھر کر کلیوں کا رس چوسے جمع کرے اور اس سے شہد کے چھتے تیار کرے۔ مشرق کے باشندے شہد ہی کو پسند کرتے ہیں اور اس کے علاوہ کوئی طعام ان کو اچھا نہیں لگتا۔ مشرق کے باشندے ہر شاعر سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو ان کے بادشاہوں افسروں اور پادریوں کے سامنے دھونی کی طرح جلادے۔ مشرق کی فضا اس دھوئیں سے جو شاہی محلوں، قربان گاہوں اور مظہروں سے اٹھتا ہے مکدر ہو چکی ہے لیکن وہ اس فضا کو اور مکدر کرنا چاہتے ہیں۔ مشرق کے باشندے ہر مفکر سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کے آباؤ اجداد کی تاریخ کی چھان بین کرے۔ وہ انہیں کے آثار و معتقدات کی تعلیم دیتار ہے، وہ اپنے قیمتی اوقات کی ہر گھڑی صرف انہیں کی طول طویل لغات، الفاظ کے ہیر پھیر اور اس کے معانی و بیان میں صرف کر دے۔

مشرق کے رہنے والے ، ہر مفکر سے یہی سنے کے خواہش مند ہیں کہ بید ما، ابن رشد افرام سریانی اور یوحنا دمشقی نے کیا کہا تھا۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے مضامین میں بے کار نصیحتوں اور ارشادات اور ان میں استعمال ہونے والے ان مواعظ و نصائح کے سوا اور کچھ نہ لکھے۔

مختصر یہ کہ مشرق کے باشندے گزرے ہوئے زمانے کے خیالات میں زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ وہ دل کو لبھانے والی اور ہر قسم کے فکر و غم سے آزاد کر دینے والی لایعنی باتوں کو پسند کرتے ہیں۔ وہ افکار انہیں پسند نہیں آتے جو تعمیری ہوں، جو ان کو جھنجھوڑ کر اس گہری نیند کے شمار سے بیدار کر دیں جن میں غافل پڑے ہوئے میٹھے اور پر سکون خواب دیکھنے میں وہ مست ہیں۔

مشرق آج وہ مرد بیمار ہے جس پر باری باری ہر مرض حملہ آور ہوا اور وہائی امراض اس سے چھٹے رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس بیماری کا عادی بن گیا۔ اسے مصیبتوں سے محبت ہو گئی۔ وہ اپنے مصائب و تکالیف کو نہ صرف یہ کہ اپنی طبعی کیفیات لکھنے لگا بلکہ ان کو ایسے اچھے اخلاق کا رتبہ دے دیا جو اچھی روحوں اور صحیح جسموں میں پائے جاتے ہیں۔ اس لیے جب وہ دیکھتا کہ کوئی فردان امراض کا مریض نہیں تو اسے خدا کے عطا کر وہ کمالات و احسانات سے محروم کھنے لگتا۔ مشرق کے بے شمار ڈاکٹر اس مریض کے بستر کے گرد پھرتے ہیں۔ اس کے علاج کے لیے آپس میں مشورے کرتے ہیں لیکن افسوس ان میں سے کوئی بھی اس کا صحیح علاج نہیں کرتا۔ بس وقتی طور پر سکون پیدا کرنے والی دوائیں پلا کر مرض کو دور کرنے کی بجائے اسے طول دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ مدہوش کرنے والی دوائیں مختلف طرح کی مختلف شکل کی اور مختلف رنگ کی ہیں۔ یہ ایک دوسرے کی ملاوٹ سے ہی بنتی ہیں۔ جس طرح کہ ایک مرض سے دوسر ا مرض پیدا ہوا کرتا ہے جب بھی مشرق میں کوئی جدید مرض نمودار ہوتا ہے۔ مشرق کا طبیب اس کے لیے بے ہوشی کی ایک نئی دوا تجویز کر دیتا ہے۔ اسی طرح وہ اسباب بھی بے شمار ہیں جن کی وجہ سے مرض اس قسم کی دواؤں کی آڑ لیتا ہے۔ ان میں سب سے اہم۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اکتوبر 2016

Loading