Daily Roshni News

۔12 جنوری….. آج احمد فراز کا 95 واں یوم پیدائش ہے۔

12 جنوری….. آج احمد فراز کا 95 واں یوم پیدائش ہے۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )احمد فراز ایک پاکستانی اردو شاعر تھے۔ وہ پچھلی صدی کے بہترین جدید اردو شاعروں میں سے ایک کے طور پر بڑے پیمانے پر سراہے جاتے ہیں۔ فراز ان کا قلمی نام ہے

احمد فراز کوہاٹ میں سید محمد شاہ برق کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کے بھائی سید مسعود کوثر ہیں۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ پشاور منتقل ہو گئے۔ انہوں نے مشہور ایڈورڈز کالج پشاور سے تعلیم حاصل کی اور پشاور یونیورسٹی سے اردو اور فارسی میں ماسٹرز کیا۔

کالج کی زندگی کے دوران ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض اور علی سردار جعفری ان کے بہترین دوست تھے جنہوں نے انہیں متاثر کیا اور ان کے رول ماڈل بن گئے۔ احمد فراز نے پشاور یونیورسٹی سے فارسی اور اردو کی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں وہ پشاور یونیورسٹی میں لیکچرار بن گئے۔ احمد فراز نے اسلام آباد، پاکستان میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔

فراز کا تقابل فیض احمد فیض سے کیا جاتا ہے جو کہ ایک عمدہ لیکن سادہ طرز تحریر کے ساتھ موجودہ دور کے بہترین شاعروں میں سے ایک کے طور پر منفرد مقام رکھتے ہیں۔ عام لوگ بھی ان کی شاعری کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔

فراز کو جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان میں فوجی حکمرانوں پر تنقید کرنے والی نظمیں لکھنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اس گرفتاری کے بعد، وہ خود ساختہ جلاوطنی میں چلے گے۔ پاکستان واپس آنے سے پہلے وہ برطانیہ، کینیڈا اور یورپ میں 6 سال رہے، جہاں وہ ابتدائی طور پر پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے چیئرمین اور بعد ازاں اسلام آباد میں قائم نیشنل بک فاؤنڈیشن کے کئی سالوں تک چیئرپرسن مقرر ہوئے۔ انہیں متعدد قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ 2006 میں انہوں نے ہلال امتیاز کا ایوارڈ واپس کر دیا جو انہیں 2004 میں دیا گیا تھا۔

انہوں نے فلم محبت کا ایک گانا لکھا جو بہت مقبول ہوا

رنجش ہی سہی دل دکھانے کے لیے آ۔ اس گانے کو سن کر راج کپور نے ان سے فرمائش کی تھی کہ ان کی بھی کسی فلم میں رنجش ہی سہی جیسا گانا لکھیں تو احمد فراز نے کہا کہ میں لکھ تو دوں گا لیکن مہدی حسن کہاں سے لاؤ گے۔ ان کا ایک اور غیر فلمی گانا طاہرہ سید کی آواز میں بھی کافی مقبول ہوا یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے ۔

ان کی مشہور شاعری میں سے کچھ یہ ہیں:

اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم

یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملے

دل بھی پاگل ہے کے اس شخص سے وابستہ ہے

جو کسی اور کا ہونے دے نا اپنا رکھے

ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام تیرا۔

کوئی تجھے سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے

اس سے پہلے کے ہم بے وفا ہو جائیں

کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں

رنجش ہی سہی دل دکھانے کے لیے آ

آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ ۔

ان کا انتقال 25 اگست 2008 کو اسلام آباد میں ہوا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز اور ہلال پاکستان سے نوازا گیا۔

ان کی مشہور شاعری میں سے کچھ یہ ہیں

زندگی سے یہ گلہ ہے مجھے

تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

چلو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

دنیا میں کون کرے وفا کسی سے فراز

دل کے دو حروف وہ بھی جدا جدا

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں

کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں۔

Loading