Daily Roshni News

۔2جنوری 1492 یوم سقوط غرناطہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )دو جنوری 1492 کی صبح غرناطہ کے آسمان پر سردی اور دھند کی لپیٹ تھی، اور شہر کے گلی کوچوں میں ایک خوفناک خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ الحمراء کے شاندار محل کے دروازے کھل گئے، اور غرناطہ کے آخری بادشاہ ابو عبداللہ محمد بن حسن نے شہر کی چابیاں فرڈینینڈ اور ازابیلا کے حوالے کیں۔ یہ محض دھات کی چابیاں نہیں تھیں، بلکہ ایک سلطنت کا جنازہ تھیں، آٹھ صدیوں کی مسلم حکمرانی کا اختتام تھا۔ 711 میں طارق بن زیاد کے لشکر کے بعد اندلس میں قائم ہوئی یہ سلطنت یورپ کی سب سے علمی، فوجی اور تجارتی طاقت بن چکی تھی۔

قرطبہ، غرناطہ اور المورصّر میں علم، فن اور ثقافت کے ایسے مراکز قائم تھے جن کی مثال یورپ کے بڑے شہروں میں نہیں ملتی تھی۔ قرطبہ کی لائبریری میں لاکھوں کتابیں موجود تھیں، فلسفے، طب، ریاضی، نجوم اور ادب کے علوم میں مہارت رکھنے والے علماء یہاں تربیت پاتے تھے۔ المورصّر کی سڑکیں روشن، عوام خوشحال اور تجارت کا نظام مضبوط تھا۔ لیکن 11ویں صدی کے بعد مسلم حکمرانوں کی داخلی کمزوری اور تقسیم نے سلطنت کی بنیادوں کو کمزور کرنا شروع کر دیا۔

اندلس کی سلطنت چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گئی، جنہیں ملوک الطوائف کہا جاتا تھا۔ یہ ریاستیں آپس میں لڑائی اور سازش میں مبتلا ہو گئیں۔ اپنی طاقت بچانے کے لیے بعض نے عیسائی حکمرانوں سے مدد لینا شروع کر دی۔ داخلی انتشار نے دشمن کو طاقتور کر دیا۔ شمال سے آنے والے کیتھولک بادشاہ فرڈینینڈ اور ملکہ ازابیلا نے متحد ہو کر ری کنکیستا کی مہم شروع کی۔

1482 میں غرناطہ پر محاصرہ شروع ہوا، جو تقریباً دس سال تک جاری رہا۔ محاصرہ ایک ذہنی اور جسمانی عذاب بن چکا تھا۔ شہر کی گلیاں بھوک، بیماری اور غربت کی لپیٹ میں تھیں۔ لوگ گھوڑے، بکریوں، حتیٰ کہ چمڑے اور خشک جانوروں کی چیزیں ابال کر کھانے پر مجبور تھے۔ شہر کی دفاعی دیواریں کیتھولک فوجوں کے مسلسل حملوں کے باوجود برقرار تھیں، لیکن اندرونی کمزوری اور بھوک نے شہریوں کی طاقت کمزور کر دی تھی۔

غرناطہ کے اندر ہر گھر ایک قید خانے کی مانند تھا۔ بچے دن بھر ماتم کرتے، والدین بچوں کے لیے خوراک کی کمی سے پریشان، بوڑھے اپنے خاندان کی بقا کے لیے خوفزدہ، اور خواتین اپنی نسل کو محفوظ رکھنے کے لیے انتھک محنت کر رہی تھیں۔ لوگ محاصرہ برداشت کرتے، لیکن ہر دن موت اور بیماری کے خوف کے ساتھ گزرتا۔ محل کے اندر بادشاہ اور وزراء اپنی کرسیوں کی حفاظت میں مصروف تھے، عام شہریوں کی حالت نظر انداز کی جا رہی تھی۔

1491 کے آخر تک کیتھولک فوجوں نے شہر کے اہم حصوں کو گھیر لیا۔ پانی اور خوراک کی رسد تقریباً ختم ہو گئی۔ اندرونی کمزوری اور بھوک نے مسلمانوں کی قوت برداشت ختم کر دی۔ آخرکار، ابو عبداللہ نے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ دو جنوری 1492 کو غرناطہ کے الحمراء محل کے شاندار دروازے کھل گئے اور شہر کی چابیاں کیتھولک حکمرانوں کے حوالے کر دی گئیں۔ معاہدے کے تحت مسلمانوں کو مذہبی آزادی اور جان و مال کا تحفظ دیا جانا تھا، لیکن یہ وعدے محض کاغذ کے ٹکڑے ثابت ہوئے۔

غرناطہ کے سقوط کے بعد مسلمانوں کی زندگی ایک صدیوں پر محیط دردناک جلاوطنی میں بدل گئی۔ لاکھوں مسلمان شمالی افریقہ، مراکش، الجزائر، سلطنت عثمانیہ اور یورپ کے مختلف علاقوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ جو لوگ کبھی اندلس کی روشنی میں پل کر بڑے ہوئے تھے، اب اجنبی زمینوں میں اپنی بقا، مذہب اور شناخت کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ سفر میں سردی، بھوک، بیماری اور دھوکے نے ان کی زندگی کو عذاب بنا دیا۔ کئی خاندان تقسیم ہو گئے، کچھ لوگ اپنے بچوں اور بزرگوں کے بغیر سفر کرنے پر مجبور ہوئے۔

نسلوں کی اس جلاوطنی نے علم اور ثقافت کے میدان میں بھی گہرا نقصان پہنچایا۔ غرناطہ اور قرطبہ کی عظیم علمی لائبریریاں، فلسفے، طب، نجوم، ریاضی اور ادب سے بھرپور، اب چھوٹے چھوٹے دستاویزات کی صورت میں محفوظ رہیں۔ بعض خاندان اپنی نسلوں کو علم سکھانے کی کوشش کرتے، لیکن وسائل کی کمی نے اسے مکمل فروغ نہیں دیا۔ علم کی روشنی اب صرف یادوں اور محدود کتابوں میں زندہ رہی۔

سماجی اور نفسیاتی نقصان بھی گہرا تھا۔ بچے اپنی آبائی زمین کی یاد میں آنسو بہاتے، بزرگ اپنے گھرانے کے نقصان اور وطن کی جدائی پر مسلسل غمگین رہتے، اور خواتین اپنی نسلوں کو محفوظ رکھنے کے لیے سخت جدوجہد میں مصروف رہیں۔ ہر خاندان کے اندر ایک نفسیاتی زخم چھوڑ گیا، جو کئی نسلوں تک برقرار رہا۔ نئے ماحول میں مسلمانوں کو اپنی اصلی شناخت اور مذہبی آزادی کے لیے چھوٹے گروہوں میں رہنا پڑا، اور ہر نیا شہر ایک نئے امتحان کی مانند تھا۔

لیکن ان مشکلات کے باوجود، یہ نسلیں اپنی ثقافت، زبان اور مذہب کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتی رہیں۔ یورپ میں چھوٹے مسلم مراکز قائم کیے گئے، مساجد بنائیں گئیں، اور علمی حلقے قائم ہوئے تاکہ اندلس کی یاد اور علم زندہ رہے۔ کچھ خاندان طب، فنون، سائنس اور تجارت میں مہارت دکھا کر یورپی معاشرے میں اہم کردار ادا کرنے لگے۔ یہ جدوجہد نہ صرف اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے تھی بلکہ اپنی آبائی زمین اندلس کی عظمت کی یاد دلانے کے لیے بھی۔

غرناطہ کے سقوط اور بعد کی جلاوطنی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اتحاد، مقصدیت اور ذمہ داری کی کمی ایک عظیم قوم کو چند صدیوں میں زمین بوس کر سکتی ہے۔ داخلی کمزوریاں، عیاشی اور آپس کی لڑائیاں دشمن کو ضرورت سے زیادہ طاقتور کر دیتی ہیں۔ علم، ثقافت اور طاقت کی حفاظت صرف محنت، اتحاد اور مستقل کوشش سے ممکن ہے۔ غرناطہ کے سقوط کے بعد آنے والی صدیوں کی جلاوطنی، غربت، نفسیاتی صدمات اور ثقافتی نقصان ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی اور قومیں جو اپنی ذمہ داریوں سے غافل رہتی ہیں، ان کا انجام ہمیشہ دردناک اور تباہ کن ہوتا ہے۔

یہ داستان آج بھی ہمارے لیے عبرت ہے کہ عظمت اور عروج ہمیشہ محنت، اتحاد اور مقصدیت کے ساتھ رہتا ہے، اور غفلت اور داخلی کمزوری صرف زوال کی راہ ہموار کرتی ہے۔ غرناطہ کے الحمراء کے محل کی دیواروں پر کندہ “لا غالب الا اللہ” آج بھی یاد دلاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی غالب نہیں، اور انسان کی سب سے بڑی آزمائش اس کی خود کی کوشش، اتحاد اور مقصدیت ہے۔

حوالہ جات: “نفح الطیب” از احمد بن محمد المقری، “تاریخِ اندلس” از مولانا ریاست علی ندوی، “دی مورز اِن سپین” از اسٹینلے لین پول، “بلڈ اینڈ فیتھ” از میتھیو کار، واشنگٹن ارونگ، “ٹیلز آف دی الحمرا”

Loading