31 جنوری 2005 ,عشرت ہاشمی کراچی میں انتقال کرگئی تھیں.
آج ہی کےدن 31 جنوری 2005 کو اپنے تمام ہم عصروں سے الگ فطری اداکاری کرنے والی عشرت ہاشمی کراچی میں انتقال کرگئی تھیں.
انہیں آپ نے کبھی ایک پیاری ماں کا کردار ادا کرتے، کبھی ساس کا کردار نبھاتے یا کبھی لڑاکا نند کے روپ میں بھی دیکھا مگر ہر روپ میں, ہر کردار میں عشرت ہاشمی نے حقیقت کا رنگ بھردیا۔
عشرت ہاشمی 1948 میں کراچی، پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے جامعہ کراچی سے اپنی تعلیم مکمل کی.
ریڈیو پر ڈرامہ آرٹسٹ کے طور پر اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے کے بعد، انہوں نے ٹیلی ویژن کارخ کیا۔
ان کا پہلا ٹیلی ویژن ڈرامہ ‘زیر، زبر، پیش’ تھا جسکی کامیابی کے بعد جلد ہی، عشرت ہاشمی کا نام تقریباً ہر دوسرے ڈرامے کا لازمی حصہ بن گیا.
ان کے مقبول ترین ڈراموں میں ‘شمع, افشاں, دھوپ کنارے, با ادب با ملاحظہ, عروسہ، آہٹ، فیملی93, آخری چٹان, ‘ٹیپو سلطان, عید ٹرین, نوکر کے اگے چاکر, خالہ خیراں اوربہادر علی سمیت بے شمار ڈرامے شامل ہیں۔
2000 کی دہائی میں عشرت ہاشمی نے شو بز کو خیر باد کہا اور اپنے خاندان کے ساتھ امریکہ چلی گئی۔
2004 میں وہ پاکستان واپس آگئیں اور31 جنوری 2005 کو کراچی میں انتقال کر گئیں تھیں۔ انہوں نے سوگواران میں دو بیٹے اور چار بیٹیوں کو چھوڑا تھا۔
عشرت ہاشمی کی ہر ادا میں سچائی اور جذبہ جھلکتا تھا. ان کی اداکاری میں گہرائی اور سادگی کا حسین امتزاج تھا، جو انہیں پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں ایک منفرد مقام دیتا ہے۔ ان کا فن آج بھی زندہ ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔
ٹیم صدائے پشاور دعاگو ہے کہ الله پاک عشرت ہاشمی صاحبہ کی کامل مغفرت فرماِے۔ آمین۔
#ShowbizNews #ShowBiz #entertainment #actresses #Ishrat #ishrathashmi #lifestory
![]()

