🌸 نواب آصف الدولہ کی غریب پروری 🌸
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک دن ایک غریب مگر باوقار شخص نواب آصف الدولہ کے دربار میں حاضر ہوا۔
چہرہ بتا رہا تھا کہ کسی اچھے خاندان سے تعلق رکھتا ہے، مگر حالات نے مجبور کر دیا تھا۔
اس نے عرض کیا:
“سرکار! میرا حسب نسب بیان کرنا آپ کی شان کے خلاف ہے، میں صرف ایک مجبور باپ ہوں۔ میری تین بیٹیاں ہیں، ان کی شادیاں سر پر کھڑی ہیں، اور میرے پاس کوئی وسیلہ نہیں۔”
نواب آصف الدولہ نے دل بڑا کیا اور ایک لاکھ روپے عطیہ کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ سن کر خوشامدی اور نکھٹو درباری تلملا اٹھے۔
ایک لاکھ روپے!
انہیں لگا نواب صاحب کو شاید اندازہ ہی نہیں کہ اتنی بڑی رقم ہوتی کیا ہے۔
چنانچہ افسرِ خزانہ اور دوسرے حاسدوں نے ایک چال چلی۔
خزانے سے ایک لاکھ روپے کے چاندی کے سکے نکلوا کر
نواب کے گزرنے والے راستے میں ایک ڈھیر کی صورت میں سجا دیے۔
لوگوں نے پوچھا:
“یہ کیا تماشا ہے؟”
جواب ملا:
“آج نواب صاحب کو دکھائیں گے کہ ایک لاکھ روپے دراصل کیسا دکھائی دیتا ہے،
تاکہ آئندہ خزانہ لٹانے سے پہلے سوچیں!”
دربار ختم ہوا۔
نواب آصف الدولہ ایوانِ خاص کی طرف بڑھے تو اچانک نگاہ چاندی کے انبار پر پڑی۔
چونک کر پوچھا:
“یہ کیا ہے؟”
افسرِ خزانہ نے عرض کیا:
“حضور! یہی وہ ایک لاکھ روپے ہیں جو آج آپ نے عطا کرنے کا حکم دیا تھا۔”
نواب صاحب چند لمحے خاموشی سے اس ڈھیر کو دیکھتے رہے…
پھر نہایت شرمندگی سے بولے:
“ہم تو سمجھتے تھے ایک لاکھ روپے بہت زیادہ ہوتے ہیں،
مگر آج احساس ہوا کہ ہم غلط تھے۔
ابھی وقت ہے…
اس شخص کو مزید ایک لاکھ روپے دے دو،
کیونکہ اس کی ضرورت زیادہ ہے
اور روپے کا ڈھیر کم!”
یہ کہہ کر وہ ایوانِ خاص میں داخل ہو گئے۔
اور پیچھے رہ گئے وہ حاسد…
جن کا شرم سے سر جھک گیا اور سازش خود انہی پر الٹ پڑی۔
واقعی…
کسی نے سچ کہا ہے:
جلنے والے کا منہ کالا 🔥
یہ تھے ریاستِ اودھ کے
نواب آصف الدولہ
جن کی سخاوت آج بھی مثال ہے۔
🤲🌼🌹♥️🌸
![]()

