🌼 قرآن کریم کی صداقت — خود کو قرآن میں تلاش کرنے کی سچی کہانی 🌼
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کیا آپ نے کبھی قرآن مجید پڑھتے ہوئے خود سے یہ سوال کیا ہے:
“کیا قرآن میں میرا بھی ذکر ہے؟”
یہ کوئی آج کا سوال نہیں…
صدیوں پہلے ایک عظیم انسان نے بھی یہی سوال کیا تھا۔
وہ تھے حضرت احنف بن قیسؒ
عرب کے بڑے سردار…
جن کے بارے میں کہا جاتا تھا:
“اگر احنف کو غصہ آ جائے تو ایک لاکھ تلواریں نیام سے باہر آ جاتی ہیں۔”
رسول اللہ ﷺ کی زیارت کا شرف تو حاصل نہ ہو سکا،
مگر صحابہؓ کی صحبت نصیب ہوئی،
خصوصاً حضرت علیؓ کے قریبی، معتمد اور مخلص ساتھی تھے۔
ایک دن کسی قاری نے قرآن کی یہ آیت تلاوت کی:
> لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
“ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟” (الأنبیاء: 10)
یہ سن کر احنفؒ چونک گئے…
کہنے لگے:
“میرا ذکر؟ ہمارا ذکر؟
قرآن لاؤ… میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ میں کن لوگوں میں ہوں!”
قرآن کھلا…
اور جیسے انسانوں کی زندہ تصویریں ان کے سامنے سے گزرنے لگیں۔
🌙 کچھ وہ لوگ تھے جو راتوں کو کم سوتے، سحر کے وقت استغفار کرتے اور محتاجوں کا حق ادا کرتے تھے۔
🤲 کچھ وہ تھے جن کے پہلو بستر سے الگ رہتے، خوف و امید کے ساتھ اللہ کو پکارتے۔
🕌 کچھ وہ جو راتیں سجدے اور قیام میں گزار دیتے۔
💖 کچھ وہ جو تنگی ہو یا آسانی، خرچ کرتے، غصہ پی جاتے اور معاف کر دیتے۔
🍞 کچھ وہ جو خود بھوکے رہ کر دوسروں کو ترجیح دیتے۔
احنفؒ دیکھتے رہے…
مگر آہستہ سے بول اٹھے:
“یا اللہ! میں ان میں کہیں نظر نہیں آتا…”
پھر قرآن کے اور ورق پلٹے گئے…
😔 کچھ وہ لوگ دکھائے گئے جو “لا إله إلا الله” سن کر اکڑ جاتے تھے۔
😡 کچھ وہ جن کے دل اللہ کے ذکر سے گھبرا جاتے تھے۔
🔥 اور کچھ وہ جو قیامت میں کہیں گے:
“ہم نماز نہیں پڑھتے تھے، مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، لغویات میں پڑے رہتے تھے…”
یہ دیکھ کر احنفؒ کانپ اٹھے:
“اے اللہ! میں ان سے تیری پناہ مانگتا ہوں…”
نہ وہ خود کو نیکوں میں گنتے تھے
نہ کافروں میں
انہیں اپنے ایمان کا یقین تھا
اور اپنی کمزوریوں کا بھی علم…
وہ ایک ایسی تصویر ڈھونڈ رہے تھے
جس میں ایمان بھی ہو
اور خطائیں بھی
شرمندگی بھی ہو
اور اللہ کی رحمت سے امید بھی
اور پھر…
قرآن نے وہ تصویر دکھا دی:
> وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا…
“اور کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا، نیک اور برے اعمال کو ملا دیا، امید ہے اللہ ان کی توبہ قبول فرما لے گا…” (التوبہ: 102)
احنفؒ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے…
بولے:
“بس! میں مل گیا…
یہ میں ہوں…
اور میرے جیسے لوگ!”
نہ اعمال پر گھمنڈ
نہ رحمت سے مایوسی…
اور یہی تو قرآن کی صداقت ہے 🌸
یہ کتاب صرف فرشتوں کے لیے نہیں
صرف اولیاء کے لیے نہیں
یہ ہم جیسے لوگوں کے لیے بھی ہے…
📖 اگر ہم خود کو قرآن میں تلاش کریں
تو ناکام واپس نہیں لوٹیں گے
افراد ہوں یا قومیں
ہر کوئی اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے…
حضرت احنفؒ ہمیں سکھا گئے:
قرآن پڑھنے کا صحیح طریقہ —
خود کو اس میں تلاش کرنا۔
🤲 اللہ ہمیں بھی یہ توفیق عطا فرمائے۔
آمین 🌸
![]()

