Daily Roshni News

10 سال تک جس مرض کی تشخیص ڈاکٹر نہیں کرسکے وہ چیٹ جی پی ٹی نے کردی، سوشل میڈیا صارف کا دعویٰ

چیٹ جی پی ٹی ایسا آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹ ہے جس کا استعمال دنیا بھر میں کروڑوں افراد کرتے ہیں۔

اس اے آئی ٹول کو متعدد کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے مگر کیا یہ ایسی بیماریوں کی تشخیص بھی کرسکتا ہے جس کو پکڑنے میں ڈاکٹر برسوں تک ناکام رہتے ہیں؟

ایسا انوکھا دعویٰ امریکا سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا سائٹ ریڈیٹ کے ایک صارف نے کیا ہے۔

ریڈیٹ صارف @Adventurous-Gold6935 نے دعویٰ کیا کہ چیٹ جی پی ٹی نے اس کے ایسے طبی مسئلے کا اسرار حل کر دیا جس نے ایک دہائی سے ڈاکٹروں کے ذہنوں کو گھمایا ہوا تھا۔

ریڈیٹ میں ایک پوسٹ میں اس صارف نے بتایا کہ چیٹ جی پی ٹی نے 10 سال پرانے اس طبی مسئلے کو حل کر دیا جس کی تشخیص کوئی ڈاکٹر نہیں کرسکا تھا۔

صارف کے مطابق 10 سال سے زائد برسوں سے وہ ایسی علامات کا سامنا کر رہا تھا جن کی وضاحت ڈاکٹر نہیں کرسکے جبکہ اس عرصے میں متعدد ایم آر آئی اسکینز، سی ٹی اسکینز، بلڈ ٹیسٹ اور دیگر ٹیسٹ کیے گئے مگر کوئی جواب نہیں مل سکا۔

متعدد طبی ماہرین سے مشاورت کرنے کے باوجود اس صارف کے مرض کی کوئی واضح تشخیص نہیں ہوسکی تھی۔

آخر ایک دن تنگ آکر اس نے اپنی علامات اور لیبارٹری نتائج سے چیٹ جی پی ٹی کو آگاہ کیا۔

اے آئی ٹول نے خیال ظاہر کیا کہ یہ پراسرار عارضہ ایک ممکنہ جینیاتی میوٹیشن کا نتیجہ ہوسکتا ہے، جس کے دوران خون کی سطح معمول پر ہونے کے باوجود وٹامن بی 12 کی پراسیسنگ متاثر ہوتی ہے۔

ریڈیٹ صارف نے چیٹ جی پی ٹی کے خیال کے ساتھ ڈاکٹر سے رجوع کیا اور اس وقت دنگ رہ گیا جب ڈاکٹر نے واقعی اسی مرض کی تشخیص کی، حالانکہ ڈاکٹر نے پہلے کبھی اس بارے میں سوچا نہیں تھا۔

صارف نے سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ ‘معلوم نہیں کہ ڈاکٹروں نے پہلے اس ٹیسٹ کے بارے میں کیوں نہیں سوچا’۔

مرض کی تشخیص کے بعد اس صارف نے ڈاکٹر کے تجویز کردہ سپلیمنٹس کا استعمال شروع کیا اور طرز زندگی میں کچھ تبدیلیاں کیں۔

اب اس کی حالت میں کافی بہتری آچکی ہے اور اس کے مطابق ایسا چیٹ جی پی ٹی کی وجہ سے ہوا۔

Loading