حضرت عامر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کا عجیب و غریب واقعہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) ( کتاب ۔۔اَلرَّوْضُ الْفَائِق فِی الْمَوَاعِظِ وَالرَّقَائِق۔۔ مصنف۔۔ اَلشَّیْخ شُعَیْب حَرِیْفِیْش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اَلْمُتَوَفّٰی۸۱0ھ۔۔صفحہ 577 تا 580 مترجم میں یہ واقعہ منقول ہے)
حضرتِ سیِّدُنا عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاواقعہ اہلِ عقل ودانش کے لئے حیران کن ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام لانے سے قبل حضرتِ سیِّدُنا عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک بت کی پوجاکیا کرتے تھے ،آپ کی ایک بیٹی فالج و جذام کی بیماری میں مبتلا تھی اور چلنے پھرنے سے قاصر تھی،آپ اپنے بت کے پاس بیٹھ جاتے اور اپنی بیٹی کو بھی اس کے سامنے بٹھا لیتے اور پھر کہتے کہ میری یہ بیٹی بیمار ہے اس کا علاج کر دے، اگر تیرے پاس اس کی شفاء ہے تو اسے مصیبت و بیماری سے چھٹکارا دے دے ،کئی سال اس بت سے اپنی حاجت پوری کرنے کا مطالبہ کرتے رہے لیکن بے سود کچھ نہ ہوا۔ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر توفیق و ہدایت کی بادِ عنایت چلی توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زوجۂ محترمہ سے ارشاد فرمایا :” کب تک اس بہرے و گونگے پتھر کی عبادت کرتے رہیں گے جو نہ آواز نکالتا ہے، نہ بات کرتا ہے، میں اِسے دین ِ حق گمان نہیں کرتا۔”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی نے عرض کی : ”آپ ہمیں کسی راستے پر لے چلیں۔ اُمید ہے کہ ہم راہِ حق پا لیں گے ،یقینا اس مشرق و مغرب کا کوئی تو خدا ہو گا۔”
حضرتِ سیِّدُنا عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر کی چھت پر بت کے سامنے بیٹھے تھے کہ اچانک آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک نور دیکھا جس نے آفاق کو بھر دیا اور ساری موجودات کو روشنی سے چمکادیااور پھراللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نگاہِ بصیرت سے پردے ہٹا دئيے تا کہ آپ خوابِ غفلت سے بیدار ہوجائیں ،پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ فرشتے قطار در قطار ایک گھر کے گرد جمع ہیں،پہاڑ سجدہ ریز ،زمین ساکت و جامد اور درخت جھکے ہوئے ہیں،خوشیاں عروج پر ہیں اور پھر ایک آواز سنی کہ ہدایت دینے والے نبئ محترم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی ولادت ہو گئی ہے، اس کے بعد آپ اپنے بت کے پاس آئے تو وہ بھی اوندھا پڑا ہوا تھا،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی سے کہا:”یہ کیا ہو رہا ہے ؟کس چیز کا ظہور ہو رہا ہے؟یہ کیسی خبر سنائی دے رہی ہے؟”پھر بت کو گھُور کر دیکھا تووہ کہہ رہا تھا:’ توجہ سے سنو! ایک بہت بڑی خبر کا ظہور ہو چکا ہے اور وہ یہ کہ آج وہ ہستی دنیا میں تشریف لاچکی ہے جو کائنات کو شرف و افتخار بخشے گی ،وہ نبئ آخر الزماں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم تشریف لا چکے ہیں جن کا صدیوں سے انتظار کیا جا رہا تھا جن سے حجر و شجر گفتگو فرمائیں گے ،چاند ان کی خاطر دو ٹکڑے ہو گااور وہ بنی ربیعہ و بنی مضر کے سردار ہیں۔”
حضرتِ سیِّدُنا عامررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زوجہ سے استفسار فرمایا: ”کیا تم سُن رہی ہو، یہ بے جان پتھر کیا کہہ رہا ہے ؟ ‘ ‘ اس نے عرض کی: ”اس سے اس مولودِ محترم کا اسم گرامی تو دریافت کریں۔” آپ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا :” اے وہ غیبی آواز جو اس سخت پتھر کی زبان میں گفتگوفرمارہی ہے! تجھے اس ذات کی قسم جس نے تجھے قوت گویائی عطا فرمائی! ذرا یہ تو بتاؤکہ اس پیدا ہونے والی ہستی کا اسمِ گرامی کیا ہے؟” آواز آئی:”حضرتِ سیِّدُنا محمد ِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم جو صاحب ِ زم زم و صفا یعنی حضرتِ سیِّدُنا اسماعیل علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بیٹے ہیں،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی زمین تہامہ ہے ،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت ہے اورسخت گرم دھوپ میں بادل آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم پرسایہ فگن رہے گا۔”
حضرتِ سیِّدُنا عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی اہلیہ سے ارشاد فرمایا:”چلو، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی تلاش میں نکلیں،تاکہ ہم آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے سبب راہ ِحق پا لیں۔”ابھی وہ دونوں میاں بیوی یہ گفتگو کرہی رہے تھے کہ ان کی بیٹی جونیچے گھرمیں بیمارپڑی تھی، اچانک ان کے پاس چھت پر آکھڑی ہوئی اور انہیں پتہ بھی نہ چلا،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا تو پوچھا: ”اے بیٹی! کہا ں گیا تیرا وہ درد اور بیماری جس میں تو ہمیشہ سے مبتلا تھی ؟ اور کہاں گیاتیرا بے قراری کی وجہ سے راتوں کو جا گنا؟”
بیٹی نے جواب دیا:”اے میرے والد ِ محترم !میں نے خواب دیکھا کہ میرے سامنے ایک نور ہے اور ایک شخص میرے پاس آیا۔میں نے اس سے دریافت کیا: ”یہ نور کس کا ہے جو میں دیکھ رہی ہوں؟اوریہ شخص کون ہے جس کا نور مبارک مجھ پر چمک رہا ہے؟” مجھے جواب ملا:”یہ نور بنی عدنان کے سردارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا ہے جن سے ساری کائنات معطر ہو گئی ہے۔” میں نے پھر پوچھا : ”ان کا اسمِ گرامی کیا ہے؟”تو جواب ملا :”ان کا نام مبارک محمد اور احمدصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم ہے، قیدیوں اور مصیبت زدوں پر رحم اور مجرموں کو معاف فرمائیں گے۔”
میں نے پوچھا:” ان کادین کیاہے؟”جواب ملا:” دینِ حنیف ۔”میں نے پوچھا:” ان کانسب کیا ہے؟”جواب ملا: ” قریشی عدنانی ۔”میں نے پوچھا:” یہ کس کی عبادت کریں گے ؟”جواب ملا:”خدائے وحدہ، لا شریک عَزَّوَجَلَّ کی۔” میں نے پوچھا : ” اے مجھ سے خطاب فرمانے والے! تو کون ہے ؟”جواب ملا:” میں ان کی آمد کی بشارت دینے والے فرشتوں میں سے ایک ہو ں۔”
میں نے عرض کی: ”جس دکھ درد میں میں مبتلا ہوں اس کے بارے میں تیرا کیاخیال ہے؟ ” اس نے جواب دیا:” بارگاہِ ربُّ العزت عَزَّوَجَلَّ میں ان کی عظمت ا ور جاہ ومرتبہ کا وسیلہ پیش کرو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے خود ارشاد فرمایا ہے: ”میں نے اپنا راز اور اپنی برہان ان کو ودیعت کر دی ہے،اب جس نے بھی ان کے وسیلے سے مجھ سے دعا کی میں اس کو ضرور قبول کرو ں گا اور قیامت کے دن اپنے نافرمان کے حق میں بھی ان کی شفاعت قبول فرماؤں گا۔”پس میں نے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مرتبۂ کمال کا واسطہ دے کر دعا کی اور اپنے ہاتھ جسم پر پھیر لئے۔ اب جبکہ میں بیدار ہوئی تو بالکل تندرست ہو چکی تھی جیسا کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں۔ حضرتِ سیِّدُنا عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زوجہ سے فرمایا: ”یقینا اس مولودِ مسعودصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی خبر خوش آئند اور بڑی دل آویز ہے ،ہم آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی عجیب و غریب نشانیاں سن اور دیکھ رہے ہیں، میں توضرور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی محبت میں وادیاں اور گھاٹیاں عبور کرتاہوا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی بارگاہ تک رسائی حاصل کروں گا۔💞
چنانچہ، وہ قافلے کے ہمراہ گھر سے نکل کھڑے ہوئے اور مکۂ مکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَکْرِیْمًا کا قصد کیا۔ وہاں پہنچ کر حضرتِ سیِّدَتُنا آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر کے متعلق دریافت کیا،اور پھر کاشانۂ اقدس کے دروازے پر دستک دی۔ جواب ملنے پر عرض کی: ” ہمیں اس نو مولود ہستی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی زیارت کرا دیں جس کے نور کی بدولت اللہ عَزَّوَجَلَّ نے موجودات کو منور فرمایا ہے اور جس کی وجہ سے اس کے آباؤاجداد شرف والے ہو گئے ہیں ۔”اس پر حضرتِ سیِّدَتُنا آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ارشاد فرمایا :” میں ہر گز اس ہستی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو باہر نہیں نکالوں گی کیونکہ مجھے یہودیوں کی جانب سے تکلیف پہنچائے جانے کا خطرہ ہے۔”
انہوں نے عرض کی:”ہم نے تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی محبت میں اپنے وطن سے جدائی گواراکی، حبیبِ خدا عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا حسن و جمال دیکھنے کے لئے اپنا دین چھوڑا اور اپنے بدنوں کو تھکاوٹ سے چور چور کردیا۔”
حضرتِ سیِّدَتُنا آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ارشاد فرمایا:” اگر ایسا ہے تو پھر انتظار کرو ، کچھ دیر تک مزید صبر کرو، قطعاً جلد بازی سے کام نہ لو پھر آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکچھ دیر کے لئے دروازے کے پاس سے ہٹ گئیں اور دوبارہ واپس آکر انہیں ارشاد فرمایا: ”اندر آجاؤ۔”جب شمعِ رسالت کے پروانوں نے اجازت پاکر باریابی کاشرف حاصل کیا تو انوار ِحبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے جلوے دیکھ کر نثار ہو گئے اور بے اختیار تکبیر و تہلیل کے نعرے زبانوں پر جاری ہو گئے،اور پھر جب رُخِ زیبا سے نقاب ہٹا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے چہرۂ اقدس سے ایسی روشنی نمودار ہوئی جس کی کرنیں آسمان تک جا پہنچیں۔یہ دیکھ کر سب خوشی و مسرت سے بے خود ہوگئے۔ قریب تھا کہ رعب و دبدبہ سے بے ہوش ہو جاتے لیکن سنبھل گئے اور آگے بڑھ کر قدم بوسی کی سعادت حاصل کی اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم پر ایمان لے آئے۔❤️
حضرتِ سیِّدَتُنا آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے ان سے ارشاد فرمایا:” جلدی کرو کیونکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے دادا جان حضرتِ سیِّدُنا عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وعدہ لے رکھا ہے کہ میں اپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو لوگوں سے چھپا کر رکھوں اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے شان و مرتبہ کو مخفی رکھوں۔”❣️
وہ حبیبِ خداعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی بارگاہ سے اس حال میں جدا ہوئے کہ ان کے دلوں میں محبت کی آگ بھڑک رہی تھی پھر حضرتِ سیِّدُنا عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بے خودی میں اپنا ہاتھ دل پر رکھ دیا اور کہا :” مجھے واپس حضرتِ سیِّدَتُنا آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا کے درِ دولت پر لے چلو، ان سے دوسری بار رُخِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے حسن و جمال کی زیارت کی بھیک مانگتے ہیں۔ لہٰذا وہ سب ان کی یہ بے قراری دیکھ کر واپس چل پڑے۔جب حضرتِ سیِّدُنا عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو دیکھا تو دوڑ کر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے ننھے ننھے قدمینِ شریفین کو بوسے دینے لگے اور گُھٹی گھٹی سانسیں لینے لگے اور پھر اسی حالت میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی روحِ پاک کو جنت میں پہنچا دیا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !عاشقوں اور سچی محبت کرنے والوں کے یہی اوصاف ہوتے ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب.
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق کو اور سچے عشق کو ساری دنیا تک پہنچانے میں کیا آپ ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں۔تو ایک لمحہ نکال کر شئیر کرتے جائیں اور درود پاک پڑھتے جائیں۔❤️❤️❤️❤️❤️
#MercyOfProphet #IslamicHistory #islam #SeeratUnNabi #Sahaba #islamicreminder
![]()

