Daily Roshni News

18؍اگست 1946۔ اردو کے ممتاز شاعر ” حسن رضوی صاحب“ کا یومِ ولادت…..

18؍اگست 1946۔ اردو کے ممتاز شاعر ” حسن رضوی صاحب“ کا یومِ ولادت…..

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )نام #سید_حسین_عباس_رضوی اور تخلص #حسنؔ ہے۔

18؍اگست 1946ء کو انبالہ، ہریانہ، غیر منقسم ہند میں پیدا ہوئے۔ اورینٹل کالج، لاہور سے ایم اے (اردو) اور پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند لی۔ ایف سی کالج لاہور میں شعبہ اردو کے سربراہ میر خلیل الرحمن میموریل سوسائٹی کے چیرمین اور روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے ادبی ایڈیشن کے انچارج تھے۔حسن رضوی اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کے شاعر تھے۔ریڈیو اور ٹی وی سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات پر صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔

حسن رضوی 15؍فروری 2002ء کو لاہور، پاکستان میں انتقال کرگئے۔

ان کی تصانیف کے نا م یہ ہیں: 👇

’’کبھی کتابوں میں پھول رکھنا‘، ’کوئی آنے والا ہے‘، ’اس کی آنکھیں شام‘، ’خواب سہانے یاد آتے ہیں‘(شعری مجموعے)، ’دیکھا ہندوستان‘، ’ہرے سمندروں کا سفر‘، ’چینیوں کے چین میں ‘(سفرنامے)، ’اقبال کے فکری آئینے‘، ’گفت وشنید‘، ’خیالات‘۔ ان کی عمدہ کمپیئرنگ اور کمنٹری ہمیشہ یادرکھی جائے گی۔

👈 بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:385

✨🌹  پیشکش : شمیم ریاض انصاری

                      🛑🚥💠➖➖🎊➖➖💠🚥🛑

💫🍁 معروف شاعر حسنؔ رضوی کے یومِ ولادت پر منتخب کلام بطور خراجِ عقیدت…..🍁💫

نہ وہ اقرار کرتا ہے نہ وہ انکار کرتا ہے

ہمیں پھر بھی گماں ہے وہ ہمیں سے پیار کرتا ہے

میں اس کے کس ستم کی سرخیاں اخبار میں دیکھوں

وہ ظالم ہے مگر ہر ظلم سے انکار کرتا ہے

منڈیروں سے کوئی مانوس سی آواز آتی ہے

کوئی تو یاد ہم کو بھی پس دیوار کرتا ہے

یہ اس کے پیار کی باتیں فقط قصے پرانے ہیں

بھلا کچے گھڑے پر کون دریا پار کرتا ہے

ہمیں یہ دکھ کہ وہ اکثر کئی موسم نہیں ملتا

مگر ملنے کا وعدہ ہم سے وہ ہر بار کرتا ہے

حسنؔ راتوں کو جب سب لوگ میٹھی نیند سوتے ہیں

تو اک خواب آشنا چہرہ ہمیں بیدار کرتا ہے

                      🛑🚥💠➖➖🎊➖➖💠🚥🛑

کبھی کتابوں میں پھول رکھنا کبھی درختوں پہ نام لکھنا

ہمیں بھی ہے یاد آج تک وہ نظر سے حرف سلام لکھنا

وہ چاند چہرے وہ بہکی باتیں سلگتے دن تھے مہکتی راتیں

وہ چھوٹے چھوٹے سے کاغذوں پر محبتوں کے پیام لکھنا

گلاب چہروں سے دل لگانا وہ چپکے چپکے نظر ملانا

وہ آرزوؤں کے خواب بننا وہ قصۂ ناتمام لکھنا

مرے نگر کی حسیں فضاؤ کہیں جو ان کا نشان پاؤ

تو پوچھنا یہ کہاں بسے وہ کہاں ہے ان کا قیام لکھنا

کھلی فضاؤں میں سانس لینا عبث ہے اب تو گھٹن ہے ایسی

کہ چاروں جانب شجر کھڑے ہیں صلیب صورت تمام لکھنا

گئی رتوں میں حسنؔ ہمارا بس ایک ہی تو یہ مشغلہ تھا

کسی کے چہرے کو صبح کہنا کسی کی زلفوں کو شام لکھنا

                      🛑🚥💠➖➖🎊➖➖💠🚥🛑

سانجھ سویرے پھرتے ہیں ہم جانے کس ویرانے میں

ساون جیسی دھوپ لکھی ہے قسمت کے ہر خانے میں

اس نے پیار کے سارے بندھن اک لمحے میں توڑ دئے

جس کی خاطر رسوا ہیں ہم اس بے درد زمانے میں

شب کی سیاہی اور بڑھے گی اور ستارے ٹوٹیں گے

کچھ تو وقت لگے گا آخر نیا سویرا آنے میں

کتنے پیپل سوکھ گئے ہیں کتنے دریا خشک ہوئے

کتنے موسم بیت گئے ہیں بادل کو بہلانے میں

سیدھے سادے پنچھی کی مانند وہ شاید لوٹ آئے

آس لگائے بیٹھے ہیں ہم اپنے حیرت خانے میں

پڑھنا لکھنا چھوٹ گیا ہے ساجن جب سے روٹھ گیا

کڑوی کڑوی سے لگتی ہے اب تو ہر شے کھانے میں

👈 #بشکریہ_ریختہ_ڈاٹ_کام

                      💠♦️🔹➖➖🎊➖➖🔹♦️💠

            🌹  حسنؔ رضوی 🌹

    ✍️ انتخاب : شمیم ریاض انصاری

Loading