Daily Roshni News

1990میں جب پاکستان میں پیجرسروس کا آغاز ہوا تو ٹیلی گرام کی چھٹی ہوگئی۔

1990میں جب پاکستان میں پیجرسروس کا آغاز ہوا تو ٹیلی گرام کی چھٹی ہوگئی۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ٹیلی گرام کو تار سروس بھی کہا جاتا تھا۔۔ڈاکیا تار لاتا تو دل دھڑک جاتے۔۔کیونکہ یہ ارجنٹ پیغام رسانی کیلئے استعمال ہوتا تھا۔۔

تار بھیجنے کا طریقہ یہ تھا کہ پوسٹ آفس جاکر آپ نے مختصر پیغام لکھوانا ہوتاتھا۔جسے بجلی کے سگنل کے زریعے دوسرے شہر ٹرانسفر کردیا جاتا تھا۔ یہ ٹرانسفر ڈاٹ اور ڈیش کوڈ میں ہوتا۔ جسے ڈی کوڈ کرلیا جاتا اور ڈاکیا تار لیکر روانہ ہوجاتا۔خطوط کی ڈاک کے دور میں تار سروس ایک جدید سہولت مانی جاتی تھی۔۔

“تار” کی ایجاد کا سہرا امریکی سائنسدان سیموئل مورس  اور ان کے ساتھی الفریڈ ویل کو جاتا ہے۔انہوں نے 1837 میں برقی ٹیلیگراف بنایا اور مورس کوڈ ایجاد کیا، جس کے ذریعے پیغامات ڈاٹ اور ڈیش میں بھیجے جاتے تھے۔

پہلا کامیاب عوامی ٹیلیگرام 1844 میں واشنگٹن سے بالٹی مور بھیجا گیا۔

1855میں برصغیر میں پہلی بار ٹیلیگراف لائن ڈالی گئی۔ کلکتہ سے آگرا پہلا تار بھیجا گیا۔۔

ٹیلیگرام سروس چلانے کے لیے شہروں کے درمیان کاپر کے تار بچھائے جاتے تھے، جو ٹیلیگراف پولز یعنی لکڑی یا لوہے کے کھمبے پر نصب ہوتے تھے۔

پاکستان بننے کے بعد پاکستان پوسٹ اینڈ ٹیلیگراف نے یہ سروس سنبھالی۔۔۔

ٹیلیگرام سروس نےسوا صدی تک لوگوں کو ارجنٹ پیغام رسانی کی سہولت فراہم کی۔ساٹھ اور ستر کی دہائی میں لینڈ لائن فون عام ہونےلگا۔ جس نےدنیا میں ٹیلی گرام کی افادیت کو چیلنج کیا۔لیکن دنیا کی ایک بڑی آبادی ابھی ٹیلی گرام پر ہی انحصار کرتی تھی۔

1980میں ڈیجیٹل دور کی شروعات ہوئیں۔۔لینڈلائن فون بھی دیہات اورچھوٹے شہروں تک پہنچا۔۔فیکس مشین کا کمرشل استعمال شروع ہوا۔۔یہ وہ دور تھا جب ٹیلی گرام سروس کو ماضی کا حصہ قرار دیا جانےلگا۔۔

اسّی اور نوے کی دہائی میں وائرلیس مواصلاتی نظام سے دنیا میں انقلاب نظر آنےلگا۔۔اور ایس ایم سروس ، جو پیجر سروس کے نام سے مشہور ہوئی،اس نے ٹیلیگرام کو باقاعدہ رخصت ہونے کا اشارہ دےدیا۔۔۔

پیجر سروس یوں تو ایس ایم ایس ٹیکنالوجی تھی، لیکن آج کل کے دور  کے لحاظ سے اس کا طریقہ بھی فرسودہ ہی تھا۔۔ یعنی پہلے کال سینٹر فون کرنا۔۔پھر ان کو میسیج لکھوانا۔۔اور پیجر نمبر بتانا جس پر میسیج بھیجنا مقصود ہوتا تھا۔۔ یوں ان صاحبِ پیجر کو آپ کا میسیج بیپ کے ساتھ موصول ہوجاتا تھا۔۔

پاکستان میں سن دو ہزار میں ٹیلی گرام سروس باقاعدہ ختم کردی گئی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے۔۔ کہ اس وقت پیجر سروس اور اس کے کال سینٹرز بھی ختم ہوچکے تھے۔۔ کیوں کہ سیلولر ٹیکنالوجی کی بدولت موبائل فونز میں ایس ایم سروس فراہم ہوچکی تھی۔۔اور بات اس سے بھی کہیں دور جاتی نظر آرہی تھی۔۔۔۔۔

بات نکلی تو دور تلک جانی تھی۔۔آج کا موبائل فون وہ نہیں رہا، جو آپ کو صرف کال اور ایس ایم ایس کی سہولت فراہم کرتا تھا۔۔۔۔

مزید کچھ بتانے کی شاید ضرورت نہیں۔۔آج موبائل فون ہر فرد کے ہاتھ میں ہے۔۔بات واقعی بہت دور جاچکی ہے۔

Loading