Daily Roshni News

اللہ بندے کے ماضی کو نہیں، اس کے دل کی حالت کو دیکھتا ہے۔

اللہ بندے کے ماضی کو نہیں، اس کے دل کی حالت کو دیکھتا ہے۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بنی اسرائیل کے دور میں ایک عورت تھی جسے لوگ صرف اس کے گناہوں سے پہچانتے تھے۔ جہاں وہ جاتی، نفرت بھری نظریں اس کا استقبال کرتیں۔ اس کی پہچان اس کی کمزوری بن چکی تھی، اور معاشرہ اس پر مہر لگا چکا تھا کہ یہ عورت گناہگار ہے، اس کے لیے اب کوئی راستہ نہیں۔

ایک دن لوگ اسے حضرت عیسیٰؑ کے پاس گھسیٹ لائے۔ ان کے ہاتھوں میں پتھر تھے، آنکھوں میں غصہ اور دلوں میں خود کو پاک سمجھنے کا غرور۔ وہ چیخ کر بولے:

“یہ عورت گناہگار ہے، اسے سزا ملنی چاہیے!”

حضرت عیسیٰؑ نے نہ غصے سے دیکھا، نہ سختی سے۔ بس اتنا فرمایا:

“تم میں سے جو خود گناہ سے پاک ہو، وہ پہلا پتھر مارے۔”

یہ الفاظ نہیں تھے، آئینہ تھا۔خاموشی چھا گئی۔ایک ایک کر کے پتھر زمین پر گرنے لگے۔ لوگ سر جھکا کر واپس جانے لگے۔

آخر میں وہاں صرف وہ عورت کھڑی تھی—کانپتی ہوئی، ٹوٹی ہوئی—اور سامنے حضرت عیسیٰؑ۔

آپؑ نے نرمی سے پوچھا:

“کیا کسی نے تمہیں سزا دی؟”

عورت کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، اس نے دھیمی آواز میں کہا:

“نہیں…”

حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا:

“میں بھی تمہیں مجرم نہیں ٹھہراتا۔ جاؤ، اور اب گناہ کی طرف واپس نہ جانا۔”

یہ ایک لمحہ تھا، مگر اس لمحے نے ایک زندگی بدل دی۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ بندے کے ماضی کو نہیں، اس کے دل کی حالت کو دیکھتا ہے۔

لوگ گناہ گنتے ہیں،

اور اللہ آنسو۔

Loading