Daily Roshni News

ایک ممنوعہ جزیرہ!!!

ایک ممنوعہ جزیرہ!!!

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ویسے تو مجھے بہت سی چیزیں اسی زمین پر حیران کر دیتی ہیں جیسے فیری میڈوز میں لوگ صدیوں پہلے کیسے پہنچے

یا ان ان پہاڑی وادیوں میں جہاں آج بھی جانا نہایت مشکل کام ہے۔

تب لوگ ایسی جگہوں پر جا کے بسے آبادی بڑھائی اور اپنی نسل چلائی لیکن انڈیا کے ساتھ خلیجِ بنگال میں واقع ایک ایسا جزیرہ

جہاں عام انسان کا جانا مکمل طور پر ممنوع ہے اس جزیرے کا اسرار بہت عجیب لگا۔

یہ جزیرہ جدید دنیا سے بالکل کٹا ہوا ہے۔

اس کا نام ہے نارتھ سینٹینل آئی لینڈ۔

یہ کوئی نیا دریافت ہونے والا جزیرہ نہیں۔

صدیوں سے اس کا علم موجود ہے۔

قدیم سمندری نقشوں میں اس جزیرے کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ

ملاح اور تاجر اس کے بارے میں جانتے تھے،

مگر قریب جانے کی ہمت نہیں کرتے تھے۔

مشہور سیاح مارکو پولو نے بھی اپنے سفرنامے میں

ایسے جزائر کا ذکر کیا

جہاں کے لوگ قریب آنے والوں کو مار دیتے تھے۔

برطانوی دور میں ایک بار

ایک جہاز اس جزیرے کے قریب تباہ ہوا۔

جب جہاز کا عملہ ساحل کے قریب پہنچا

تو مقامی لوگوں نے تیروں سے حملہ کر کے انہیں ہلاک کر دیا۔

بعد میں ایک برطانوی افسر نے

ان لوگوں کو زبردستی جزیرے سے باہر لے جانے کی کوشش کی۔

نتیجہ یہ نکلا کہ

بوڑھے افراد فوراً مر گئے

اور بچے شدید بیمار ہو گئے۔

تب ایک بات واضح ہو گئی:

یہ لوگ جدید دنیا کے وائرس اور جراثیم برداشت نہیں کر سکتے۔

اسی کے بعد اس جزیرے کو مکمل طور پر آئسولیٹ کر دیا گیا۔

وہاں جانا قانوناً ممنوع قرار پایا۔

البتہ جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے

انہیں دور سے مانیٹر کیا جاتا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر سے یہ ثابت ہے کہ

یہ لوگ آج بھی زندہ ہیں،

آگ جلاتے ہیں،

شکار کرتے ہیں،

اور ویسی ہی زندگی گزارتے ہیں

جیسی ہزاروں سال پہلے گزاری جاتی تھی۔

2018 میں ایک امریکی باشندے نے

تمام پابندیوں کے باوجود

جزیرے پر جانے کی کوشش کی،

مگر اسے تیروں کی مدد سے مار دیا گیا۔

اسی طرح 2004 میں

سونامی کے بعد

ہیلی کاپٹر کے ذریعے امداد پہنچانے کی کوشش کی گئی

تو جزیرے کے لوگوں نے

ہیلی کاپٹر پر بھی تیروں سے حملہ کر دیا۔

یہ ان کا صاف پیغام تھا:

ہر اجنبی دشمن ہے۔

کچھ ماہرین کے مطابق

اس جزیرے پر 50 سے 150 افراد رہتے ہیں۔

لیکن یہ کوئی حتمی تعداد نہیں۔

ممکن ہے جنگل کے اندر

آبادی اس سے زیادہ ہو۔

بہرحال،

اس پراسرار جزیرے کا راز کب تک قائم رہتا ہے

یہ کوئی نہیں جانتا۔

لیکن ایک بات طے ہے:

یہ لوگ فطرت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،

جدید مشینوں کی غلامی سے دور،

اپنی سادہ مگر خودمختار زندگی میں

مست۔

Loading