Daily Roshni News

یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں چوتھی جماعت میں پڑھتی تھی

یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں چوتھی جماعت میں پڑھتی تھی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )شوہر کی وفات کے بعد بڑے بیٹے کو ایک ورکشاپ میں ملازم کرا دیا۔ وہ ابھی کمسن تھا، استاد کی سختی اور جھڑکیاں برداشت نہ کر سکا۔ چنانچہ ایک دن ورکشاپ سے بھاگ نکلا۔ رات کا وقت تھا، بارش ہو رہی تھی۔ وہ سڑک کنارے کھڑا بھیگ رہا تھا۔ ایک ویگن قریب آکر رکی، لڑکا جلدی سے سڑک پار کرتے ہوئے ویگن کے سامنے آ گیا۔

یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں چوتھی جماعت میں پڑھتی تھی۔ ہم دو بہن بھائی تھے اور آپس میں بڑی محبت تھی۔ میرا نام فرح اور بھائی کا نام انور تھا۔ ہمارا بچپن پیاری ماں کے زیرِ سایہ بہت سکون اور آرام سے گزرا۔ خوشیوں بھرے دن تھے۔ ممتا کے گلاب ہمارے اطراف کھلے رہتے تھے۔ اچانک امی بیمار ہو گئیں اور دو ماہ بعد اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ وہ ہم دونوں بچوں سے بہت پیار کرتی تھیں۔ والد صاحب بھی ہم سے بے حد محبت کرتے تھے۔ تقریباً دو سال بعد انہوں نے دوسری شادی کر لی۔

ہم نادان تھے۔ اس دن بہت خوش ہوئے کہ نئی امی آ گئی ہیں۔ سجی سنوری دلہن بچوں کو ہمیشہ دلکش لگتی ہے۔ ہمارے دلوں کو بھی وہ نئی ماں بہت اچھی لگی اور ہم دونوں تتلیوں کی طرح اُن کے گرد منڈلانے لگے۔ والد صاحب نے انہیں سمجھا دیا تھا کہ بچے چھوٹے اور معصوم ہیں، انہیں ماں جیسا پیار دینا ہوگا۔ لہٰذا نئی ماں ہمیں پیار کرنے لگیں۔ وقت گزرتا گیا اور ہمارا ایک بھائی اور آ گیا۔ یہ قدرتی بات تھی کہ ماں کی زیادہ توجہ اپنے لختِ جگر کی طرف ہو گئی۔ رفتہ رفتہ ان کا رویہ ہم دونوں کے لیے بدلنے لگا۔ وہ ہمارے لیے اجنبی بن گئیں۔

ہم دونوں بہن بھائی بہت پریشان رہنے لگے۔ وقت گزرتا رہا۔ امی کے دو بیٹے اور آ گئے۔ ان کی تین سگی اولادیں ہو گئیں۔ گھر ان کی چہکاروں سے بھر گیا۔ اب ان کو ہماری ضرورت نہ رہی، لیکن ہمیں تو والدین اور گھر کی ضرورت تھی، بھلا کہاں جاتے؟ ماں کے تمام ستم سہہ کر بھی ان کے ساتھ رہنے پر مجبور تھے۔

میں بڑی ہو گئی اور سمجھ دار بھی۔ گھر کا سارا کام ماں نے میرے سپرد کر دیا۔ سارا دن کام کرتی، اور جو تھوڑا وقت بچتا، وہ کہتیں کہ میرے بچوں کے ساتھ کھیلو۔ وہ لڑکے بہت شریر تھے۔ کھیل کھیل میں کبھی میرا سر پھاڑ دیتے، کبھی گیند مار دیتے، اور کبھی ہلے سے ضرب لگاتے۔ میں درد سے بلبلا اٹھتی۔ مجھے پڑھائی کی فرصت نہ ملتی تھی۔ ماں ایک پل بھی فارغ نہ بیٹھنے دیتی تھیں۔

ماں نے میرے ساتھ ایسا سلوک اختیار کر لیا تھا کہ جو بھی گھر آتا، مجھے نوکرانی سمجھتا۔ تینوں سوتیلے بھائی ہر وقت حکم چلاتے۔ وہ مجھے سچ مچ خادمہ ہی سمجھتے تھے۔ بات بات پر لاتیں، ٹھڈے مارتے۔ یہ سب منظر دیکھ کر میرا بھائی انور اندر ہی اندر کڑھتا رہتا تھا۔ اُس وقت وہ نویں جماعت کا طالب علم تھا جبکہ مجھے اسکول سے اُٹھا لیا گیا تھا۔ انور کو بہت اذیت ہوتی جب امی مجھے ذرا ذرا سی بات پر مارتیں اور میں سسکتے ہوئے چپ چاپ مار کھاتی رہتی۔ میں ہر وقت سہمی سہمی رہتی تھی۔ ایک دن تو گھر میں قیامت ہی برپا ہو گئی۔

اُس دن جب انور اسکول سے گھر آیا تو میں بیٹھی رو رہی تھی اور تینوں چھوٹے بھائی مل کر مجھے مار رہے تھے۔ انور سے یہ منظر دیکھا نہ گیا۔ پہلے تو اُس نے انہیں منع کیا، لیکن وہ بولے کہ تمہیں کیا، یہ ہماری نوکرانی ہے، ہم اسے ماریں گے۔ امی نے بھی اپنے بیٹوں ہی کی طرف داری کی۔ تبھی انور کو غصہ آ گیا۔ سامنے ایک ڈنڈا پڑا ہوا تھا، جس سے سوتیلے بھائی مجھے مارا کرتے تھے۔ انور نے وہ ڈنڈا اُٹھایا اور امی کو خوب مارا۔ جب چھوٹے بھائی درمیان میں آئے تو انہیں بھی مارا۔ امی شور مچاتی ہوئی محلے والوں کے پاس چلی گئیں۔

شام کو ابو دفتر سے واپس آئے تو امی نے روتے روتے برا حال کر لیا اور کہا کہ میں نہ کہتی تھی، اس بدتمیز لڑکے کو گھر میں نہ رکھو؟ آج اس نے یہ حرکت کی ہے، کل کچھ اور کر بیٹھے گا۔

ابو امی کی باتوں پر ایسے یقین کر لیتے تھے جیسے اُن پر کسی نے جادو کر دیا ہو۔ وہ امی کے اکسانے پر انور کو کمرے سے باہر لے آئے اور روتی ہوئی بیوی کو خوش کرنے کے لیے اُس قدر مارا کہ میرا بھائی بے ہوش ہو گیا۔ میں بہن تھی، اپنے بھائی کو اس بری طرح پٹتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔ ابو کے پاؤں پڑ گئی، التجا کی کہ ابو جی، اسے نہ ماریں، بس کریں، ورنہ میں مر جاؤں گی۔

والد صاحب پر جیسے جنون سوار تھا۔ میری ایک نہ سنی اور دھکا دے کر بولے کہ تم بھی دفع ہو جاؤ، اب انور جیسے بگڑے ہوئے لڑکے کے لیے میرے گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ میں نے انور کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور کہا، اٹھو میرے پیارے بھائی، اٹھو۔ انور کو ہوش آ گیا تو باپ اُسے دھکے دینے لگا۔ وہ ان کے پاؤں پکڑ کر کہنے لگا کہ خدا کے لیے مجھے گھر سے نہ نکالیں، چاہے جتنا ماریں، میں کہاں جاؤں گا؟ میری بہن سے مجھے جدا نہ کریں۔ مگر والد نے ایک نہ سنی۔ بیٹے کو گھر سے نکال کر دروازے کی کنڈی لگا دی اور کہا کہ اب اس گھر کا دروازہ تم پر ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے۔ (کہانی کی مکمل قسط ویب سائٹ پراپلوڈ کر دی ہے۔ نیچے دیا ہوا لنک اوپن کر لیا کریں۔ شکریہ)

https://sublimegate.blogspot.com/2025/05/soteli-maa.html

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.

#urduline #urdushayari #urdupoetry #quotes #kahani #kahaniyan #stories #urduquotes #Qissa #quoteoftheday #urduadab #urdu #everyone

Loading