Daily Roshni News

“ایسا ناں کریں”

“ایسا ناں کریں”

ہالینڈ(ڈٰلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سعودی عرب سے ایک بہت پرانے جان پہچان والے دوست سے بات ہوئی۔گفتگو کے دوران باتوں باتوں میں اس کی آواز سسکیوں میں بدل گئی۔اسے چپ کراتے کراتے وجہ پوچھی کہ کیا ہو گیا۔۔اس نے ایک طویل کہانی سنائی اور کہا کہ آپ لکھتے رہتے ہیں آپ اس پر بھی کچھ لکھ دینا کیونکہ  اس پردیس میں میری طرح کے کئی اور دکھی بھی ہیں شاید کہ کسی کو خیال آجائے۔

میں نے کہا کہ میں کوشش کروں گا۔برطانیہ میں صبح کے چار بج رہے ہیں اور سارا دن سوچتا رہا کہ ایسا کچھ لکھتا یوں کہ پاکستان میں رہنے والوں کو پردیسیوں کا کچھ خیال آجائے۔

​سعودی عرب کی تپتی دوپہروں میں جب درجہ حرارت 50 ڈگری کو چھوتا ہے تو اس نوجوان کے جوتوں تلے سڑک نہیں بلکہ اس کی ہمت پگھل رہی ہوتی ہے۔ سات سال گزر گئے۔ یہ سات سال کوئی ہندسہ نہیں بلکہ دو ہزار پانچ سو پچپن (2555) وہ دن ہیں جو اس نے اپنے گھر والوں کی مسکراہٹ خریدنے کے لیے اپنی جوانی کے بدلے بیچے ہیں۔

​اس نے پیٹ کاٹ کر پیسے بچائے تاکہ چھوٹے بھائی کے پاس وہ اسمارٹ فون ہو جس کی تصویر وہ اکثر دکھایا کرتا تھا۔اس نے اوور ٹائم لگایا تاکہ بہن کے کمرے میں وہ تیز رفتار انٹرنیٹ چل سکے جس پر وہ اپنی سہیلیاں دیکھ کر خوش ہوتی ہے۔ اس کا اپنا فون ٹوٹا ہوا ہے سکرین پر کئی دراڑیں ہیں لیکن اس نے اسے نہیں بدلا کیونکہ اسے لگا کہ اگر وہ اپنے اوپر خرچ کرے گا تو شاید گھر کی کسی خوشی میں کمی آ جائے گی۔

​دن بھر کی مشقت کے بعد جب وہ لیبر کیمپ کے ایک چھوٹے سے کمرے میں جہاں چار پانچ اور لوگ بھی سوتے ہیں اپنی بستر پر گرتا ہے تو اس کا دل چاہتا ہے کہ وہ دیکھ سکے۔۔۔

​وہ دیکھ سکے کہ اس کی ماں صحن میں کس جگہ بیٹھ کر نماز پڑھتی ہے۔

​وہ دیکھ سکے کہ جس بھائی کو اس نے مہنگا موبائل لے کر دیا، وہ اب کتنا بڑا ہو گیا ہے۔

​وہ دیکھ سکے کہ اس کے بھیجے ہوئے پیسوں سے گھر کی جس دیوار پر پلستر ہوا تھا وہ رنگ ہونے کے بعد کیسی لگ رہی ہے۔وہ درخت کتنے بڑے ہو چکے ہیں جن کو وہ اپنے ہاتھوں سے میں لگا کر آیا تھا۔وہ گاوں کی مسجد اب کیسی ہے جہاں وہ اذان ہوتے ہی نماز کیلئے چلا جاتا تھا۔

​وہ واٹس ایپ کھولتا ہے بہن بھائیوں کے “آن لائن” اسٹیٹس دیکھتا ہے ان کی پروفائل پکچرز بدلتی دیکھتا ہے لیکن اس کا ان باکس خالی ہوتا ہے۔ وہ ڈرتے ڈرتے میسج کرتا ہے

 “چھوٹے! ذرا گھر کے صحن کی ایک چھوٹی سی ویڈیو بنا کر بھیج دے میرا دل اداس ہے۔”

جواب آتا ہے “بھائی ابھی مصروف ہوں، پھر کبھی!”

 یا پھر میسج سین (Seen) ہو کر جواب کے انتظار میں دم توڑ دیتا ہے۔

​آئینے میں جب وہ خود کو دیکھتا ہے تو اسے سات سال پہلے والا وہ ہنستا مسکراتا لڑکا نظر نہیں آتا۔ اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ چکے ہیں اور بالوں میں چاندی اتر آئی ہے۔ اسے دکھ اس بات کا نہیں کہ وہ بوڑھا ہو گیا ہے دکھ اس بات کا ہے کہ جن کی زندگی میں رنگ بھرنے کے لیے اس نے اپنی زندگی سفید کر دی ان کے پاس اس کی پیاسی آنکھوں کے لیے ایک تصویر کھینچنے کا وقت بھی نہیں ہے۔

​وہ انٹرنیٹ جو اس نے لگوا کر دیا آج اسی انٹرنیٹ نے اسے اپنے ہی گھر سے دور کر دیا ہے۔ وہ سب اپنی ورچوئل دنیا میں مگن ہیں، اور وہ جیتے جاگتے انسان کی طرح نہیں بلکہ صرف ایک “منی ٹرانسفر مشین” بن کر رہ گیا ہے جس کا کام مہینے کی پہلی تاریخ کو پیسے بھیجنا ہے۔

​رات کے آخری پہر جب کیمپ میں سب سو جاتے ہیں وہ اپنے اسی ٹوٹے ہوئے فون کو سینے سے لگا کر لیٹ جاتا ہے۔ وہ تصور کی آنکھ سے اپنے گھر کی گلیوں میں گھومتا ہے کیونکہ اسے حقیقت میں وہ گلیاں دکھانے والا کوئی نہیں۔ اس کی مزدوری کا صلہ اسے پیسے کی صورت میں تو مل گیا لیکن محبت کے دو بول اور اپنوں کا قرب اس سے چھین لیا گیا۔

​وہ پردیس میں مر نہیں رہا وہ ہر روز تھوڑا تھوڑا کر کے ختم ہو رہا ہے۔

​میں نے اس نوجوان کی سسکیاں سن کر ایک ایسا خط لکھا ہے کہ شاید اس جیسے اور محنتی اور دکھی دل نوجوانوں کے گھر والوں کے دلوں کو جگا دے

یہ ایک ایسا خط ہے جو کاغذ پر نہیں بلکہ اس نوجوان کے آنسوؤں سے لکھا گیا ہے۔یہ خط نہیں ایک پردیسی کا نوحہ ہے جو شاید کبھی پوسٹ نہیں ہوگا لیکن اس کی روح کا کرب بیان کرتا ہے۔

​میرے پیارے بہن بھائیو!

​امید ہے تم سب خیریت سے ہو گے اور گھر میں وہ تمام سہولتیں میسر ہوں گی جن کے لیے میں نے اپنی جوانی اس صحرا کی نذر کر دی۔ آج جب میں یہ خط لکھ رہا ہوں، تو میرے ہاتھ مزدوری کی وجہ سے کانپ رہے ہیں اور آنکھیں تھکن سے بوجھل ہیں، لیکن دل میں ایک ایسی بات ہے جو مجھے سونے نہیں دے رہی۔

​تمہیں یاد ہے؟ آج سے سات سال پہلے جب میں ایئرپورٹ پر تم سب سے گلے مل کر رو رہا تھا تو میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہاری ہر خواہش پوری کروں گا۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں نے اپنا وعدہ نبھایا۔ تم سب کے ہاتھوں میں مہنگے موبائل ہیں، گھر میں انٹرنیٹ ہے، تم وہ سب کھاتے اور پہنتے ہو جو کبھی ہمارا خواب تھا۔ لیکن کیا تم نے کبھی سوچا کہ ان سب کی قیمت میں نے کیا چکائی ہے؟

​ان سات سالوں میں، میں نے صرف دن نہیں بیچے میں نے اپنی زندگی بیچی ہے۔ یہاں سعودی عرب کی تپتی دھوپ میں جب لو چلتی ہے اور سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے، تو میں صرف یہ سوچ کر کام کرتا رہتا ہوں کہ پاکستان میں میرے بہن بھائی سکون سے ہوں گے۔

​مجھے تم سے پیسہ نہیں چاہیے مجھے تم سے کوئی تحفہ نہیں چاہیے۔

​مجھے صرف تمہاری تھوڑی سی توجہ چاہیے تھی۔ میں مہینوں سے تم سے کہتا رہا کہ مجھے گھر کے آنگن کی ایک تصویر بھیج دومجھے دکھاؤ کہ اب ہمارا گھر کیسا لگتا ہے مجھے گلی میں کھیلتے بچوں کی ایک ویڈیو ہی بنا کر بھیج دو۔ میں اس تپتے صحرا میں بیٹھ کر اپنے گھر کی مٹی کو دیکھنا چاہتا تھا اپنی دیواروں کو چھونا چاہتا تھا۔

​لیکن تم سب کے پاس انٹرنیٹ پر دنیا بھر کی ویڈیوز دیکھنے کا وقت ہے، دوستوں کے ساتھ تصویریں شیئر کرنے کا وقت ہے، مگر اپنے اس بھائی کے لیے ایک منٹ نہیں ہے جو تمہاری خوشیوں کے لیے یہاں ایک ایک ریال جوڑ رہا ہے۔ جب میں تمہارا “آن لائن” اسٹیٹس دیکھتا ہوں اور تم میرے میسج کا جواب نہیں دیتے، تو میرا دل کٹ کر رہ جاتا ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں تمہارے لیے بھائی نہیں، بلکہ صرف ایک “بینک” بن گیا ہوں جس کا کام صرف پیسے بھیجنا ہے۔

​کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ میں سب کچھ چھوڑ کر واپس آ جاؤں، لیکن پھر ڈرتا ہوں کہ اگر میں واپس آ گیا تو تمہاری یہ سہولتیں چھن جائیں گی۔ مگر یاد رکھو، ان سہولتوں کا کیا فائدہ اگر ان کو استعمال کرنے والے دل ہی پتھر ہو جائیں؟

​میں یہاں اکیلا نہیں ہوں، میرے جیسے ہزاروں پردیسی یہاں روز مرتے اور روز جیتے ہیں۔ ہمیں تمہارے پیسوں کی ضرورت نہیں ہوتی، ہمیں صرف یہ احساس چاہیے ہوتا ہے کہ وطن میں کوئی ہے جو ہمیں یاد کرتا ہے، جو ہمیں صرف ایک “رقم بھیجنے والا” نہیں بلکہ اپنا بھائی سمجھتا ہے۔

​خدا کے لیے کبھی کبھی مجھے بھی اپنے گھر کا حصہ سمجھ لیا کرو۔ میرے لیے ایک تصویر یا ایک چھوٹی سی ویڈیو تمہارے لیے صرف ایک کلک ہے لیکن میرے لیے وہ اگلے ایک مہینے تک زندہ رہنے کا سہارا ہوتی ہے۔

​تمہارا دکھی بھائی

ایسی کئی دکھی کہانیاں عرب کے تپتے صحراؤں سے ہر روز نوحہ کرتی کرتی سو جاتی ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ پاکستان میں رہنے والے دوست احباب اپنے پیاروں بالخصوص عرب ممالک میں رہنے والوں کا بھی ویسے ہی خیال رکھیں گے جیسے وی رکھتے ہیں۔آپ کو اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ کی ایک تصویر ان کیلئے کئی ہفتے تک سکون کا باعث بن جاتی ہے.

#PakistaniinSaudiArabia

#pakistanifashion

Loading