ہمارے دماغ میں تقریباً “86 ارب” نیوران موجود ہے اور اس کے برعکس ہماری اس کل زمین پر موجود انسانوں کی تعداد محض 8 ارب ہی ہے یعنی کہ کل زمین (ایشیا امریکہ افریقہ یورپ وغیرہ) پر موجود کل انسانوں سے تقریباً 11 گنا زیادہ نیوران ایک دماغ کے اندر موجود ہے یاد رہے کہ نیوران کوئی ”سب اٹامک” پارٹیکل نہیں جو “چھوٹا” سا ہو بلکہ ہر نیوران نے تقریباً 1.8 میٹر کا ایک “‘قیمتی دھاگہ'” اپنے اندر رکھا ہوا ہے. ہمارے دماغ کے نیوران کے اندر موجود دھاگہ تقریباً 150 ملین کلومیٹرز تک پھیل سکتا ہے. یہ اس قدر “وسیع” فاصلہ ہے کہ سورج و زمین کے درمیان موجود فاصلہ بھی اس سے کم ہے یہی نہیں بلکہ ان مختلف نیورانز کے بیچ و بیچ کم از کم 100 کھرب یعنی کہ ‘ایک لاکھ ارب راستے موجود ہے۔ یہ اتنے زیادہ راستے ہیں کہ ہمارے گیلکسی ملکی وے میں اتنے ستارے تک موجود نہیں بلکہ ہمارے “گیلیکسی” میں موجود کل ستاروں سے بھی یہ راستے 500 گنا زیادہ ہے۔
حیران کن بات یہ نہیں کہ یہ نظام اس قدر پیچیدہ و وسیع ہے بلکہ اصل حیرت تو اس بات پر ہے کہ اس قدر “پیچیدہ و وسیع” نظام ایک ‘8 بائے 6 انچ کی کھوپڑی کے اندر پرفکٹلی موجود ہے اور اچھے سے کام کررہا ہے اور نہ صرف یہ کہ کام کر رہا ہے بلکہ شعور، دکھ، غم، خوشی، شہوت، تکلیف، رحم، عزت اور بیشمار دیگر احساسات کو ‘باقاعدہ جنم’ دے رہا ہے مطلب کہ صرف بناوٹ میں ہی پیچیدہ اور وسیع نہیں بلکہ اپنے فنکشن میں بھی اسی قدر دہلا دینے والا ہے۔
اب یہ سب جاننے کے بعد اگر کوئی مجھے کہتا ہے کہ یہ ایک رینڈم غلطی سے پیدا ہوا ہے یا وہ کہتا ہے کہ یہ ایک “حسین اتفاق” ہے تو ایسا ماننے کے لیے جتنا ایمان درکار ہے، وہ کم از کم میرے اندر موجود نہیں ہے۔ یہ بات میرے لیے “ہضم” کرنا مکمل ناممکن ہے۔ یہ ایمان کی اس انتہا کا لیول ہے جس تک کچھ خاص “قطلب اور ابدال” کے علاؤہ کسی عام انسان کی رسائی حاصل نہیں اور اس “عظیم الشان” مرتبہ تک پہنچتے ہوئے وہ خاص ‘قطلب اور ابدال’ بھی اس قدر ‘تپسیا سے گزر چکے ہوتے ہیں کہ وہ ماسوائے ‘کفر’ (ذہانت) کے باقی ہر قسم کی چیز کو ماننے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور “تسلیم و رضا” کا یہ “عالی مقام” ہم خاکساروں کے حصہ میں چہ جائیکہ…….
باقی
خدارا ”سائنس” کو نہ لائیں کیونکہ سائنس مادی چیزوں کی ‘”مادی توجیہات”‘ کرنے کے علاؤہ اور کچھ نہیں کرتی ہے اور یہ اتفاق والی باتیں اسکے ‘ڈومین’ کی نہیں ہے اور اگر کوئی انسان سائنس کی ‘بنیاد’ پر ایسا کہتا ہے تو خدارا سائنس کو دوبارہ سے پڑھیں یا کم از کم اس کی ”تعریف” کو تو صحیح سے سمجھ کر پڑھیں۔
عبید
#عبید
![]()

