Daily Roshni News

جنگ طوانہ (838ء) – معتصم باللہ کی رومیوں پر فتح

جنگ طوانہ (838ء) – معتصم باللہ کی رومیوں پر فتح

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )معتصم باللہ اپنے خاص دربار میں بیٹھا تھا کہ ایک خاک آلود اور زخمی قاصد حاضر ہوا۔ اس کے ہاتھ میں زبطہ کے امیر کی طرف سے خط تھا۔ خط پڑھتے ہی خلیفہ کے چہرے پر غصے کے آثار ابھر آئے۔ خط میں لکھا تھا: “آمیر المومنین! رومیوں کے بادشاہ تھیوفلوس نے ہمارے پرامن شہر پر دھاوا بول دیا ہے۔ ہمارے مردوں کو قتل، عورتوں کی عزتیں لوٹ، اور ہمارے گھر اور مساجد مسمار کر دی گئی ہیں۔ ہماری فریاد سنیے!”

یہ سنتے ہی معتصم کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس نے اپنی مٹھی میز پر مارتے ہوئے غضبناک آواز میں کہا: “واللہ! میں اس رومی کی ناک میں نکیل ڈال کر رہوں گا۔ اسے اپنی سرکشی کا ایسا درس دوں گا کہ تاریخ یاد رکھے گی!”

ایک ماہ کے اندر، پوری خلافت میں جنگی تیاریوں کا دور دورہ ہو گیا۔ معتصم نے سمرقند سے لے کر بغداد تک، ہر صوبے سے بہترین سپاہی، ماہر تیرانداز اور بہادر گھڑسوار طلب کیے۔ فوج کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ ہر روز میدان میں فوجی مشقیں ہوتیں، ہتھیاروں کی صفائی ہوتی، اور جنگی مشورے ہوتے۔ خلیفہ خود فوجیں اکٹھا کرتا، ہتھیار چنتا اور سپاہیوں کا جذبہ بڑھاتا۔

آخر وہ دن آ گیا جب عظیم لشکر رومی سلطنت کی طرف کوچ کرنے لگا۔ معتصم خود زرہ پہنے، تلواریں لٹکائے، اپنے سفید گھوڑے پر سوار فوج کی صفوں کا معائنہ کر رہا تھا۔ سپاہیوں کے چہرے عزم سے کھنچے ہوئے تھے۔ دریا کے کنارے پہنچ کر فوج نے پل تعمیر کیا اور اس پر سے گزرنے لگی۔ پانی کا زور تھا، لیکن ہر سپاہی نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال دی۔ کئی تو بہہ گئے، لیکن لشکر رکا نہیں۔

جب لشکر طوانہ کے مضبوط قلعے کے سامنے پہنچا، تو رومی فوج پہلے سے ہی مورچے سنبھالے کھڑی تھی۔ معتصم نے فوراً حکم دیا: “شہر کا گھیراؤ کرو! کوئی اندر نہ جا سکے، کوئی باہر نہ نکل سکے۔”

محاصرہ ہفتوں تک جاری رہا۔ اندر رومی فوج بھوک اور پیاس سے بے حال ہو رہی تھی۔ باہر عباسی فوج دن رات منجنیقوں سے پتھر برسا رہی تھی۔ ایک روز، معتصم نے ایک زخمی قاصد کو دیکھا جو قلعے کی دیوار سے لپٹا باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ رومی بادشاہ کی طرف سے مدد کا خط لے کر جا رہا ہے۔ معتصم نے مسکراتے ہوئے کہا: “اب کوئی ان کی مدد کو نہیں آئے گا۔ یہ قلعہ ہمارا ہے۔”

آخرکار، ایک صبح، جب منجنیقوں کا ایک طاقتور پتھر قلعے کی دیوار سے ٹکرایا، تو دیوار کا ایک حصہ زوردار دھماکے کے ساتھ گر پڑا۔ یہ موقع دیکھتے ہی معتصم نے اپنی تلwar اونچی کی اور پکار اٹھا: “اللہ اکبر! آج کا دن انتقام کا دن ہے! آگے بڑھو!”

عباسی سپاہی ٹوٹی دیوار میں سے سیلاب کی طرح اندر داخل ہوئے۔ رومی فوج نے ڈٹ کر مقابلہ کیا، لیکن عباسیوں کے جوش اور تعداد کے سامنے وہ زیادہ دیر نہ ٹک سکی۔ گھمسان کی جنگ ہوئی۔ شام تک، طوانہ کے قلعے پر عباسی پرچم لہرا رہا تھا۔ رومی کمانڈر قیدی بنا لیا گیا اور شہر کے خزانے پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔

معتصم نے فتح کے بعد فوجیوں کو جمع کیا اور کہا: “یہ فتح صرف ہماری نہیں، بلکہ ان بے گناہ مسلمانوں کی ہے جو زبطہ میں شہید ہوئے۔ آج ہم نے ان کے خون کا بدلہ لے لیا ہے۔”

اس کے بعد، معتصم نے طوانہ میں ایک مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا اور شہر کو اسلامی قلعے میں تبدیل کر دیا۔ یہ خبر جب رومی بادشاہ تھیوفلوس تک پہنچی، تو وہ خوف کے مارے دارالحکومت قسطنطنیہ میں چھپ گیا۔ جنگ طوانہ کی یہ فتح، تاریخ میں معتصم باللہ کی بہادری، عزم اور انتقام کی ایک زندہ داستان بن گئی، جو آج بھی طاقت اور انصاف کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

Loading