محاصرہ عموریہ: وہ صبح جب زمین لرز اٹھی
838ء کا وہ بھولا ہوا موسمِ گرما…
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ہوا میں تلخی تھی۔ زبطرة کے ملبے کی خاک ابھی تک اڑ رہی تھی، اور خلافت عباسیہ کے سینے پر بازنطینی شہنشاہ تھیوفیلوس کا وہ طعنہ تازہ تھا جس نے بغداد کے تخت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ خلیفہ المعتصم باللہ کے چہرے پر وہ غصہ تھا جو صرف عزت کے ٹوٹنے سے پیدا ہوتا ہے۔ جب خبر پہنچی کہ بازنطینیوں نے سرحدی قلعہ زبطرة کو زمین بوس کر دیا، مسلمان قیدیوں کو ذبح کیا، اور عورتوں کی بے حرمتی کی، تو المعتصم نے اپنی تلوار نیام سے نکال لی۔
“عموریہ! میں عموریہ کو فتح کروں گا!”
یہ نعرہ محض اعلانِ جنگ نہیں تھا، بلکہ ایک قوم کی بے عزتی کا حساب چکانے کا عہد تھا۔ المعتصم، ہارون الرشید کا بیٹا، اپنے بھائی المأمون کی طرح عالم تو نہ تھا، لیکن اس کی رگوں میں جنگجوئوں کا خون دوڑ رہا تھا۔ اس نے اپنے محل میں ایک درباری کو ڈانٹا: “جب میں سونے جاتا ہوں تو عموریہ کا خواب آتا ہے۔ جب بیدار ہوتا ہوں تو عموریہ کی فکر ستاتی ہے۔”
عظیم الشان تیاریاں
بغداد سے لے کر خراسان تک، خلافت کی تمام طاقت متحرک ہو گئی۔ ماہرینِ حرب، انجینئر، اور سپاہ سالار جمع ہونے لگے۔ المعتصم نے دو عظیم لشکر تیار کیے:
-
ایک لشکر جس کی کمان وہ خود سنبھالے گا
-
دوسرا لشکر اس کے قابل ترین جنرل افشین کی قیادت میں
فوج میں عرب، ترک، اور فارسی نژاد جنگجو شامل تھے۔ منجنیقوں، محاصرہ ٹاورز، اور نقب زنی کے جدید آلات تیار کیے گئے۔ یہ صرف ایک فوج نہیں، بلکہ ایک متحرک قلعہ تھا جو اناطولیہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔
راستے کا سفر
عباسی لشکر جب اناطولیہ میں داخل ہوا تو زمین کانپ اٹھی۔ پہلا پڑاؤ اینقرہ (موجودہ انقرہ) تھا۔ شہر نے بغیر کسی نمایز مزاحمت کے ہتھیار ڈال دیے۔ لیکن المعتصم کو یہ فتح منظور نہ تھی۔ اس کی نظر میں صرف ایک شہر تھا: عموریہ۔
راستے میں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ جب لشکر ایک پہاڑی درے سے گزر رہا تھا، تو المعتصم کے پسندیدہ ترک سپہ سالار اشناس نے اطلاع دی: “یا امیر المؤمنین! آگے کا راستہ انتہائی دشوار گزار ہے۔ ہمارے بڑے محاصرہ آلات گزر نہیں سکیں گے۔”
المعتصم نے ایک نظر اپنے گردو پیش کے پہاڑوں پر ڈالی، پھر اپنی مشہور والہانہ آواز میں کہا: “تو پہاڑ ہٹ جائے گا۔ عموریہ نہیں۔” اور واقعی، راستہ بنایا گیا۔ فوج نے پہاڑوں میں سے گزرنے کے لیے راستے کشادہ کیے۔
وہ صبح: 1 اگست 838ء
آخرکار وہ لمحہ آ ہی گیا۔ عموریہ کی بلند فصیلیں دور سے دکھائی دینے لگیں۔ شہر بازنطینی سلطنت کا فخر تھا، مضبوط دیواروں، گہری خندقوں اور تجربہ کار محافظوں سے محفوظ۔
المعتصم نے اپنے خیمے سے نکل کر پہلی بار عموریہ کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں وہی آگ تھی جو زبطرة کے ملبے نے سلگائی تھی۔ اس نے حکم دیا: “محاصرہ شروع کرو۔”
محاصرے کے انتہائی ڈرامائی لمحات
-
1. پہلا ہفتہ: عباسی افواج نے شہر کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ منجنیقوں سے پتھراؤ شروع ہوا۔ لیکن عموریہ کی فصیلیں مضبوط تھیں۔
-
2. دوسرا ہفتہ: افشین کی قیادت میں ایک جرات مندانہ حملہ ہوا۔ ترک تیر اندازوں نے شہر کی فصیلوں پر موجود محافظوں کو نشانہ بنایا۔ لیکن بازنطینیوں نے گرم تیل اور پگھلا ہوا سیسہ گرانا شروع کر دیا۔
-
3. فیصلہ کن لمحہ: محاصرے کے تیسرے ہفتے، عباسی انجینئروں نے ایک کمزور نقطہ دریافت کیا – شہر کے جنوبی حصے کی ایک پرانی دیوار جہاں تعمیر کمزور تھی۔
المعتصم نے شخصی طور پر اس محاذ کی قیادت سنبھالی۔ ایک زبردست حملے میں، عباسی فوج نے دیوار کے اس حصے کو توڑ دیا۔ “اللہ اکبر!” کے نعرے آسمان سے ٹکرانے لگے۔
فتح کا منظر
12 اگست 838ء کی شام کو عموریہ کی فصیلیں گر گئیں۔ عباسی افواج شہر میں داخل ہو گئیں۔
ایک روایت کے مطابق، المعتصم سفید گھوڑے پر سوار شہر میں داخل ہوا۔ اس نے براہ راست شہر کے مرکزی چرچ کی طرف رخ کیا، جہاں بازنطینی کمانڈر ہتھیار ڈالنے آیا۔ خلیفہ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا: “زبطرة کا بدلہ۔”
شہر کے مرکز میں، المعتصم نے نمازِ فتح ادا کی۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: “آج، ہماری عزت بحال ہوئی۔”
فتح کے بعد
عموریہ کو فتح کرنے کے بعد، المعتصم نے شہر کو تباہ کرنے کا حکم دیا۔ دفاعی ڈھانچے، قلعے کی فصیلیں، اور فوجی مراکز مسمار کر دیے گئے۔ شہر کی زیادہ تر آبادی کو قید کر لیا گیا۔
یہ فتح صرف ایک شہر کی فتح نہیں تھی، بلکہ پیغام تھا: “خلافت عباسیہ کی عزت سے کھیلنے والا کوئی بھی محفوظ نہیں۔”
واپسی کا سفر
جیت کا جشن منانے کے بعد، المعتصم بغداد واپس لوٹا۔ راستے میں ہر شہر میں فاتحانہ استقبال ہوا۔ لیکن خلیفہ کے چہرے پر اطمینان تھا، نہ گھمنڈ۔ اس نے ایک درباری سے کہا: “ہم نے عموریہ فتح کر لیا، لیکن حقیقی فتح وہ ہے جب ہمارے دشمن ہماری طاقت کا احترام کریں، نہ کہ ہماری عزت کی توہین۔”
تاریخ کے اوراق میں
محاصرہ عموریہ صرف ایک فوجی مہم نہیں رہا۔ یہ ایک علامتی واقعہ بن گیا:
-
اسلامی دنیا میں یہ انتقام اور عزت کی بحالی کی داستان بنا
-
یورپی تاریخ میں یہ اسلامی طاقت کے خوف کی علامت بنا
-
ادب اور شاعری میں یہ بہادری اور عزم کی کہانی بنا
آج بھی، جب بھی کوئی عرب شاعر یا فارسی ادیب عزت اور انتقام کی بات کرتا ہے، تو محاصرہ عموریہ کا ذکر ضرور آتا ہے۔ المعتصم کا وہ جملہ تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا:
“عموریہ! میں عموریہ کو فتح کروں گا!”
اور اس نے کر دکھایا۔
![]()

