🌹نماز جنازہ🌹
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )نماز جنازہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ چار تکبیرات کہی جائیں پہلی تکبیر کے بعد ثناءدوسری تکبیر کے بعد درود شریف اور تیسری تکبیر کے بعد دعا چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیر دیا جائے ۔
چار تکبیرات
حدیث :
عن ابی ہریرہ ؓ قال نصی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الی اصحابہ النجاشی ثم تقدم فصفوا خلفہ فکبر اربعاً ۔
بخاری ج1 ص 176 قدیمی کتب خانہ ۔
ترجمہ :
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو نجاشی کی وفات کی خبر دی پھر آپ علیہ السلام آگے ہوئے حضرات صحابہ نے آپ کے پیچھے صف بندی کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔
ثناء و درود و دعاء
عن سعید بن ابی سعید المقبری عن ابیہ انہ سال ابا ہریرہ ؓ کیف تصلی عن الجنازہ فقال ابو ہریرہؓ انا لعمرک اخبرک اتبعھا من اھلھا فاذا وضعت کبرت و حمدت اللہ وصلیت علی نبیہ ثم اقول اللھم عبدک ۔ الخ۔
موطا امام مالک ص 209۔
ترجمہ :
حضرت سعید ؒ کے والد نے حضرت ابو ہریرہؓ سے پوچھا آپ جنازہ کیسے پڑھتے ہیں تو آپ ؓ نے فرمایا بخدا میں تم کو بتاتا ہوں میں میت کے گھر سے اس کے ساتھ چلوںگا جب جنازہ رکھ دیا جائے تو میں ثناءاور درود شریف نبی علیہ السلام پر اور یہ دعا پڑھونگا اللھم الخ۔ تو معلوم ہوا کہ پہلی تکبیر کے بعد ثناءدوسری تکبیر کے بعد درود اور تیسری تکبیر کے بعد دعا پڑھنی چاہئے ۔
مسنون دعا
اللھم اغفر لحینا و میتنا و شاھدنا و غائبنا وصغیرنا و کبیرنا و ذکرنا و انثانا اللھم من احییتہ منا فاحیہ علی الاسلام ومن توفیتہ منا فتوفہ علی الایمان۔
ترمذی ص 243 بتحقیق البانی حدیث 1024 یہ حدیث صحیح ہے ۔
نماز جنازہ میں رفع الیدین نہ کرنا
حدیث :
عن ابن عباسؓ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کان یرفع یدیہ علی الجنازہ فی اول تکبیرة ثم لایعود۔
سنن دار قطنی ج 2 ص 75 احیاءالتراث بیروت۔
ترجمہ :
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز جنازہ کی پہلی تکبیر کے ساتھ ہاتھ اٹھاتے دوبارہ ہاتھ نہ اٹھاتے ۔
تنبیہ:
آج کل بعض لوگ جو شہید کا غائبانہ نماز جنازہ پڑھتے ہیں اس کی کوئی صریح دلیل موجود نہیں باقی نجاشی والی حدیث سے استدلال درست نہیں جیسا کہ ابن تیمیہ ؒ نے فرمایا ہے۔
[زادالمعاد ج1 ص 520]
نیز غیر مقلد عالم اس حقیقت کا یوں اعتراف کرتا ہے ”غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے پر نجاشی کے قصہ سے دلیل لی جاتی ہے یہ قصہ [صحیح بخاری:1333,1327,1320,1318,1245] اور [صحیح مسلم:901] میں موجود ہے مگر اس سے غائبانہ نماز جنازہ پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے “۔
[نماز نبوی از ڈاکٹر شفیق الرحمان ص 296 مکتبہ دارالسلام]۔
خاتمة الکتاب:
اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اللہ رب العزت نے اس کتاب کو لکھنے کی توفیق عطا فرمائی اب اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی اس کتاب کو شرف قبولیت عطاء فرمائے اور میرے لئے اور والدین اور گھر والوں اور تمام دوست احباب خصوصاً پیر طریقت رہبر شریعت مولانا قاری علیم الدین شاکر دامت برکاتہم العالیہ خلیفہ مجاز حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ و محمد ہارون حنفی و راشد حنفی و عزیز دوست مولانا فرقان صاحب اور جملہ احباب و قارئین و مسلمین کے لئے ذریعہ نجات و ہدایت کا سامان بنائے ۔ آمین ۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین و الصلوة والسلام علی النبی الکریم و خاتم المرسلین والہ وصحبہ اجمعین۔
![]()

