ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تہران (تیز خبر آن لائن) ایران میں تقریباً دو ہفتوں سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں جن میں ملک بھر کے عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ناروے میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایران ہیومن رائٹس این جی او کے مطابق اب تک درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم اصل تعداد اس سے زیادہ ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سی این این کے مطابق یہ مظاہرے 28 دسمبر کو اس وقت شروع ہوئے جب عوام نے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کے خلاف آواز بلند کی۔ ابتدا میں احتجاج محدود تھا، مگر چند ہی دنوں میں یہ لہر پورے ملک میں پھیل گئی اور اب ایران کے 31 صوبوں اور کم از کم 100 شہروں میں مظاہرے رپورٹ ہو چکے ہیں۔
احتجاج کی بنیادی وجہ شدید مہنگائی بنی۔ تہران کے بازاروں کے تاجروں نے سب سے پہلے احتجاج کا آغاز کیا، کیونکہ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں اچانک آسمان کو چھونے لگیں۔ کھانے کا تیل، مرغی اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا جبکہ کئی چیزیں مارکیٹ سے غائب ہو گئیں۔ صورتحال اس وقت مزید خراب ہوئی جب ایران کے مرکزی بینک نے وہ سکیم ختم کر دی جس کے تحت کچھ درآمد کنندگان کو سستے امریکی ڈالر دستیاب ہوتے تھے۔ اس فیصلے کے بعد دکانداروں نے قیمتیں بڑھا دیں اور کئی تاجروں نے احتجاجاً اپنی دکانیں بند کر دیں، جس سے مظاہروں نے شدت اختیار کر لی۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ احتجاج صرف مہنگائی تک محدود نہ رہا بلکہ براہِ راست حکومت اور نظام کے خلاف نعرے بازی میں تبدیل ہو گیا۔ ایران ہیومن رائٹس این جی او کے مطابق ملک کے ہر بڑے اور چھوٹے شہر میں عوام سڑکوں پر موجود ہیں۔
تہران کے میئر نے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین نے شہر میں پبلک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا، جن میں 26 بینک، دو سپتال اور 25 مساجد شامل ہیں، تاہم بین الاقوامی میڈیا ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
ان مظاہروں میں مختلف طبقے شامل ہیں، مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ بازار کے تاجر، جنہیں روایتی طور پر اسلامی جمہوریہ کے حامی سمجھا جاتا تھا، اس احتجاج میں پیش پیش ہیں۔ اس کے علاوہ طلبہ بھی ابتدائی مظاہرین میں شامل تھے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا تھا کہ پہلے بازار بند ہوئے، پھر طلبہ نکلے اور اب پورا ملک سڑکوں پر ہے، مختلف زندگیاں مگر ایک ہی مطالبہ کہ ہماری آواز اور ہمارے حقوق کا احترام کیا جائے۔
ایران میں جاری یہ احتجاج محض معاشی بحران نہیں بلکہ عوام اور حکومت کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی واضح علامت بن چکا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
![]()

