Daily Roshni News

“کُن فَيَكُونُ” اور ورچوئل رئیلٹی (VR): خالقِ حقیقی اور انسانی تخلیق کا ایک حیرت انگیز موازنہ

“کُن فَيَكُونُ” اور ورچوئل رئیلٹی (VR): خالقِ حقیقی اور انسانی تخلیق کا ایک حیرت انگیز موازنہ

​ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مقدمہ: دو جہانوں کا سنگم اکیسویں صدی میں انسان نے ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ایسی دنیا تخلیق کر لی ہے جسے ہم “ورچوئل رئیلٹی” (مجازی حقیقت) کہتے ہیں۔ ایک ہیڈ سیٹ آنکھوں پر لگا کر انسان ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہو جاتا ہے جو بظاہر حقیقی لگتی ہے، جہاں وہ دیکھ سکتا ہے، سن سکتا ہے اور محسوس کر سکتا ہے۔

دوسری طرف، قرآن مجید ہمیں اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا تعارف ان دو الفاظ میں کراتا ہے: “کُن فَيَكُونُ” (ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے)۔ بظاہر ان دو تصورات میں زمین آسمان کا فرق ہے، لیکن اگر گہری نظر سے देखा جائے تو ورچوئل رئیلٹی، درحقیقت، انسان کی طرف سے “کن فیکون” کی صفت کو سمجھنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔

​1. “کُن فَيَكُونُ”: خالق کا حکم

اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا انداز انسانوں جیسا نہیں ہے۔ اسے چیزیں بنانے کے لیے خام مال، وقت، محنت یا مشینوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ قرآن میں ارشاد ہے: إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ (سورۃ یٰس: 82)۔ یہ اللہ کی مطلق قدرت ہے، اس کا صرف “ارادہ” کر لینا ہی تخلیق کے لیے کافی ہے۔

​2. ورچوئل رئیلٹی (VR): انسان کی ڈیجیٹل تخلیق

اب ذرا VR پر غور کریں۔ ایک پروگرامر کیسے ڈیجیٹل دنیا بناتا ہے؟ وہ اینٹ پتھر استعمال نہیں کرتا، وہ “کوڈ” (Code) لکھتا ہے۔ وہ کمپیوٹر کو “حکم” (Command) دیتا ہے: “یہاں روشنی ہو جائے”، اور وہاں روشنی ہو جاتی ہے۔ اس ڈیجیٹل دنیا کے اندر، وہ پروگرامر ایک طرح کا مجازی “خدا” ہوتا ہے جس کے احکامات پر وہ دنیا چل رہی ہوتی ہے۔

​3. تعلق اور موازنہ (Metaphor)

VR ہمارے لیے ایک جدید استعارہ ہے تاکہ ہم اللہ کی قدرت کو سمجھ سکیں۔ اگر ایک محدود انسان، صرف کوڈز اور کمانڈز کے ذریعے ایک ایسی مجازی دنیا کھڑی کر سکتا ہے جو اصلی لگتی ہے—تو سوچیں کہ وہ ربُّ العالمین، جو حقیقی خالق ہے، وہ اپنے ایک حکم “کُن” سے یہ حقیقی کائنات کیسے وجود میں لاتا ہوگا!

​4. بنیادی فرق (The Vital Difference)

​انسانی تخلیق (محتاج): انسان VR دنیا “کچھ نہیں” سے نہیں بناتا۔ وہ بجلی، کمپیوٹر اور اللہ کے دیے ہوئے دماغ کا محتاج ہے۔ بجلی گئی، تو ساری خدائی ختم۔

​اللہ کی تخلیق (مطلق): اللہ کا “کن فیکون” کسی کا محتاج نہیں۔ وہ عدم سے وجود میں لاتا ہے اور یہ کائنات صرف اس کے ارادے کے سہارے قائم ہے۔

​نتیجہ:

ورچوئل رئیلٹی اور جدید ٹیکنالوجی بھی اللہ کی نشانیاں (آیات) ہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہیں کہ اگر انسان کو دیے گئے علم کے ایک ذرے سے وہ یہ ڈیجیٹل عجائبات بنا سکتا ہے، تو خالقِ حقیقی کی “کُن فَيَكُونُ” کی شان کیا ہوگی!

#KunFayakun #VirtualReality #VRandIslam #کن_فیکون #ورچوئل_ریئلٹی #اسلام_اور_سائنس #QuranAndModernScience #AllahsPower #DigitalCreation #FaithAndTech #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #Metaverse #IslamicPhilosophy

Loading