Daily Roshni News

بدکار عورت سے عشق: قبل از مسیح کی ایک عشقیہ داستان۔۔۔

بدکار عورت سے عشق: قبل از مسیح کی ایک عشقیہ داستان۔۔۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آٹھویں صدی قبل مسیح کی ایک تپتی دوپہر تھی جب ہوسیع نامی ایک پاکباز شخص اپنی زندگی کے سب سے کٹھن امتحان کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ شخص جس کی پارسائی کی قسمیں کھائی جاتی تھیں، اسے قدرت کی طرف سے ایک ایسا حکم ملا جس نے اس کے وقار اور انا کے پرخچے اڑا دیے۔ اسے کہا گیا کہ وہ اپنے شہر کی سب سے زیادہ بدنام اور بھٹکی ہوئی عورت، گومر کا ہاتھ تھامے اور اسے اپنی شریکِ حیات بنائے۔ ہوسیع نے سماج کے طعنوں اور اپنی مردانہ غیرت کو ایک طرف رکھا اور گومر کی اندھیری زندگی میں روشنی کا دیا بن کر داخل ہو گیا۔ اس نے اس عورت کو گندگی سے اٹھا کر اپنے گھر کی ملکہ بنا لیا اور اسے وہ عزت دی جس کی وہ کبھی خواب میں بھی تمنا نہیں کر سکتی تھی۔

نکاح کے بعد ہوسیع نے اپنی محبت اور شفقت سے گومر کے زخموں پر مرہم رکھا۔ ان کے گھر میں خوشیوں کی کلیاں کھلیں اور تین معصوم بچوں کی ہنسی نے گھر کی دیواروں کو جلا بخشی۔ ایک خاموش رات، جب آسمان پر تارے جھلملا رہے تھے، گومر ہوسیع کے قدموں میں بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور اپنے کانپتے ہاتھوں سے اس کا ہاتھ تھام کر اعتراف کیا کہ “تم نے مجھے وہ کچھ دیا ہے جو دنیا کا کوئی مرد کسی عورت کو نہیں دے سکتا۔ تم نے میری ذلت کو عزت میں بدل دیا اور مجھے وہ سکون دیا جس کی میں حقدار نہ تھی”۔ ہوسیع نے اسے دلاسہ دیا، لیکن جب وہ سو جاتی، تو ہوسیع کا دل کانپ اٹھتا اور وہ ساری رات اپنے رب کے سامنے گڑگڑا کر اس کی حفاظت کی دعائیں مانگتے کہ کہیں اسے دوبارہ ماضی کے اندھیرے اپنی طرف نہ کھینچ لیں۔

مگر پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ گومر کی فطرت میں چھپی وہ قدیم آوارگی پھر سے جاگ اٹھی اور اسے ہوسیع کی پاکیزہ محبت کی زنجیریں بوجھ لگنے لگیں۔ ایک منحوس رات، جب اس کے بچے میٹھی نیند سو رہے تھے اور ہوسیع اس کی سلامتی کی دعاؤں میں مصروف تھا، گومر نے اپنی چادر سنبھالی اور برسوں کی وفا، ممتا اور سچائی کو ٹھوکر مار کر دوبارہ گناہوں کے اس دلدلی کھڈے میں جا گری جہاں سے اسے نکالا گیا تھا۔ وہ ان لوگوں کی بانہوں میں جا پہنچی جنہوں نے اسے صرف ہوس کا کھلونا سمجھا۔ اس کا انجام نہایت دردناک ہوا؛ جن عاشقوں کے لیے اس نے اپنا گھر برباد کیا، انہوں نے ہی اسے سرِ عام رسوا کیا اور اسے غلام بنا کر بازار کے چوراہے پر نیلامی کے لیے کھڑا کر دیا۔ وہ گومر جو ایک نبی کے گھر کا مان تھی، اب زنجیروں میں جکڑی، گرد آلود چہرے کے ساتھ اپنی قسمت پر ماتم کر رہی تھی۔

ہوسیع کو جب اس کی رسوائی کی خبر ملی، تو اس کی مردانہ انا نے چاہا کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دے، لیکن اللہ کا حکم پھر گونجا کہ “ہوسیع! جا اور اسے پھر سے قیمت چکا کر خرید لا”۔ ہوسیع نے اپنی تڑپتی ہوئی غیرت کو مصلوب کیا اور اس بازار پہنچا جہاں لوگ اس کی بیوی کی بولی لگا رہے تھے۔ اس نے اپنی زندگی بھر کی کل کمائی، پندرہ چاندی کے سکے اور اناج کا ایک ایک دانہ جمع کر کے اس نیلام کرنے والے کے ہاتھ میں تھما دیا اور اپنی ہی بے وفا بیوی کو “فدیہ” دے کر آزاد کرا لیا۔ جب گومر نے شرمندگی سے آنکھیں بند کیں، تو ہوسیع نے اسے نفرت سے دھتکارنے کے بجائے اپنی چادر اس کے سر پر ڈالی اور نہایت نرمی سے کہا کہ “میں نے تیرے لیے ہمیشہ دعا کی تھی، تو نے وفا نہ کی مگر میں نے وفا کا حق ادا کر دیا، اب تو پھر سے میری ہے اور میں تیرا ہوں”۔

یہ دردناک داستان بائبل کے قدیم عہد نامے (Old Testament) کی “کتابِ ہوسیع” (Book of Hosea) سے ماخوذ ہے، جو آٹھویں صدی قبل مسیح میں لکھی گئی۔ اس میں گومر کے لئے ایک لفظ استعمال ہوا ہے( promiscuous woman of ill repute)

جس کے معنی ہیں

: Promiscuous Woman

“اس سے مراد وہ عورت ہے جو کسی ایک مستقل رشتے تک محدود رہنے کے بجائے، ایک ہی دورانیے یا مختلف اوقات میں کثرت سے کئی مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرے۔ یہ پیشہ ور (فاحشہ) سے اس طرح مختلف ہے کہ اس میں مالی معاوضہ یا تجارت کے بجائے ذاتی مرضی اور آزاد طرزِ زندگی شامل ہوتا ہے۔”

اور اس تمام تعلق کی وجہ سے معاشرے میں بدنام بھی ہو مطلب چھپی نہ ہو۔۔۔

یہ کہانی دراصل خالق اور اس کے بندے کے درمیان جاری عشق اور جفا کا ایک لرزہ خیز استعارہ ہے۔ اللہ پاک نے یہ واقعہ اس لیے سنوایا تاکہ انسان کو یہ جھٹکا دیا جا سکے کہ وہ بالکل گومر کی طرح ہے، جو اپنے رب کی دی ہوئی ہر نعمت کا اعتراف تو کرتا ہے، لیکن جیسے ہی موقع ملتا ہے، وہ اپنے محسن رب کو دھوکہ دے کر دنیا کی فانی لذتوں کے کھڈے میں گر جاتا ہے۔ انسان بار بار اپنے عہد توڑتا ہے، مگر اللہ ہر بار اپنی غیرت پر اپنی رحمت کو غالب رکھتا ہے اور اپنے بھٹکے ہوئے بندے کو گناہوں کی غلامی سے خرید کر دوبارہ اپنے دامنِ رحمت میں جگہ دیتا ہے۔ یہ کہانی آج کے دور کے انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ تمہاری بے وفائیوں کی حد ختم ہو سکتی ہے، لیکن تمہارے رب کی وفاداری اور اسے خریدنے کی سکت کبھی ختم نہیں ہوتی۔

 یہ کہانی ان لوگوں کے لیے بھی ایک عظیم نصیحت ہے جو خدا کی مخلوق کی بے لوث خدمت کرتے ہیں۔ انہیں لوگوں کی بے وفائی، بے اعتنائی اور کج روی کبھی مایوس نہ کرے، بلکہ وہ نتائج کے لیے ہمیشہ اپنے رب کی طرف دیکھیں؛ اور ہر بے وفائی و بے رخی کے بعد مزید ہمت اور محبت کے ساتھ اللہ کی مخلوق کی خدمت میں مصروف ہو جائیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب

Info Planet #infoplanet #nonfollowers #foryoupage

Loading