Daily Roshni News

حضرت عیسیٰ علیہ السلام — پیدائش سے آخری وقت تک ایک مکمل تاریخی و قرآنی بیان

حضرت عیسیٰ علیہ السلام — پیدائش سے آخری وقت تک ایک مکمل تاریخی و قرآنی بیان

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبروں میں سے ایک ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے۔ ان کی زندگی کا آغاز بھی غیر معمولی تھا اور ان کا مشن بھی غیر معمولی رہا۔ ان کا پورا واقعہ اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت اور اپنے بندوں پر رحمت کی نشانی ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا نام مریم بنت عمران تھا۔ مریم علیہا السلام ایک نہایت پاکیزہ، عبادت گزار اور باحیا خاتون تھیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے خود مریم علیہا السلام کی پاکیزگی کی گواہی دی ہے اور فرمایا کہ اللہ نے انہیں منتخب کیا اور پاک کیا اور جہان کی عورتوں پر فضیلت دی۔

ایک دن اللہ تعالیٰ نے فرشتہ جبرائیل علیہ السلام کو مریم علیہا السلام کے پاس بھیجا۔ انہوں نے مریم علیہا السلام کو اللہ کے حکم سے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ انہیں ایک خاص بچے کی ولادت عطا فرمائے گا، جو اللہ کی نشانی ہوگا اور لوگوں کے لیے ہدایت کا سبب ہوگا۔ مریم علیہا السلام نے تعجب کے ساتھ عرض کیا کہ ان کا تو کسی مرد سے کوئی تعلق نہیں رہا، پھر یہ کیسے ممکن ہوگا۔ فرشتے نے بتایا کہ یہ اللہ کا حکم ہے اور اللہ جس چیز کا ارادہ کرے وہ “ہو جا” کہہ دیتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریم علیہا السلام حاملہ ہوئیں۔ یہ حمل عام انسانی اسباب کے بغیر تھا، تاکہ یہ اللہ کی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنے۔ جب حمل واضح ہو گیا تو مریم علیہا السلام لوگوں سے الگ ہو گئیں تاکہ تنہائی میں اس مرحلے کو گزار سکیں۔

ولادت کے وقت مریم علیہا السلام کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ایک کھجور کے درخت کے نیچے آ گئیں۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں تسلی دی، ان کے لیے کھانے اور پانی کا انتظام فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ لوگوں سے بات نہ کریں بلکہ خاموشی کا روزہ رکھیں۔

جب مریم علیہا السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لے کر اپنی قوم کے پاس آئیں تو لوگوں نے ان پر بہتان لگایا اور ان کی پاکیزگی پر اعتراض کیا۔ مریم علیہا السلام نے اللہ کے حکم کے مطابق خاموشی اختیار کی اور بچے کی طرف اشارہ کیا۔ اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے گود میں اللہ کے حکم سے کلام کیا اور فرمایا کہ وہ اللہ کے بندے ہیں، اللہ نے انہیں کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے، اور وہ اپنی ماں کے حق میں نیک ہیں۔ اس معجزے سے اللہ تعالیٰ نے مریم علیہا السلام کی پاکیزگی کو لوگوں پر واضح کر دیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بچپن ہی سے غیر معمولی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت، فہم اور بصیرت عطا فرمائی۔ بڑے ہو کر انہیں بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا۔ انہیں تورات کی تصدیق کے لیے اور لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کے لیے مبعوث کیا گیا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کئی معجزات عطا فرمائے۔ وہ اللہ کے حکم سے مادرزاد اندھوں کو بینا کرتے، کوڑھیوں کو شفا دیتے اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ وہ لوگوں کو اللہ کی وحدانیت کی دعوت دیتے، عبادت کا درست طریقہ سکھاتے اور لوگوں کو اخلاقی و روحانی اصلاح کی طرف بلاتے۔

ان کی قوم کے کچھ لوگوں نے ان کی بات مانی اور ان پر ایمان لائے، جبکہ کچھ لوگوں نے ان کی مخالفت کی، انکار کیا اور ان کے خلاف سازشیں کیں۔ قرآن مجید کے مطابق جب انکار بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا اور دشمن اپنے منصوبوں میں کامیاب نہ ہو سکے۔

اسلامی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا گیا اور نہ ہی سولی دی گئی بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ یہ بات قرآن مجید میں واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت آدم علیہ السلام کی طرح ہے، جنہیں اللہ نے بغیر ماں باپ کے پیدا فرمایا۔ اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت بھی اللہ کی قدرت کی نشانی ہے، نہ کہ الوہیت کا ثبوت۔

یہ پورا واقعہ قرآن مجید میں سورۃ آل عمران، سورۃ مریم، سورۃ النساء اور دیگر مقامات پر تفصیل سے بیان ہوا ہے، اور معتبر اسلامی تفاسیر میں اس کی وضاحت موجود ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی، اس کے بندے اور اس کے برگزیدہ رسول تھے، جنہوں نے بنی اسرائیل کو اللہ کی طرف بلایا اور حق کا پیغام پہنچایا، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت، حفاظت اور رفعت عطا فرمائی۔

قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری

آخری زمانے میں اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ایک عظیم رہنما، امام مہدی علیہ السلام، زمین پر ظہور فرمائیں گے۔ اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے حکم سے زمین پر دوبارہ تشریف لائیں گے تاکہ حق کے نظام کی حمایت کریں اور عدل و انصاف کے قیام میں امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ تعاون کریں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد قیامت کے قریب ہونے کی ایک بڑی نشانی ہوگی اور یہ ظاہر کرے گی کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حق کی حمایت کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ یہ عالمگیر اصلاح و ہدایت کا مرحلہ ہوگا، جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی علیہ السلام کی قیادت میں دنیا میں حق و انصاف قائم ہوگا۔

Loading