پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری سلمان اکرم راجا نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے خلاف ناحق مقدمات بنانے اور اپیلوں کو سالوں تک التوا میں رکھنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اور سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے خلاف ناحق مقدمات قائم کرنے اور اپیلوں کو سالوں تک نہ سننے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو متعدد دہشتگردی کے مقدمات کا سامنا ہے، جس کے باعث سیاسی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
سلمان اکرم راجا کے مطابق انصاف کے موجودہ نظام میں اپیلوں پر بروقت سماعت نہ ہونا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر رہی ہے، تاہم عملی طور پر ایسی ملاقاتیں بے معنی ثابت ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے ملاقات کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پارٹی اس نظام کو ظلم پر مبنی سمجھتی ہے اور اس کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی قانونی اور سیاسی دونوں محاذوں پر آواز بلند کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام بھی موجودہ نظام سے بیزار ہو چکے ہیں، جس کا اظہار مختلف شہروں میں سامنے آ رہا ہے۔
سلمان اکرم راجا کے مطابق کراچی سمیت دیگر علاقوں میں بھی لوگ باہر نکلے، جو بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کی علامت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقدمات اور اپیلوں کے نظام میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق پنجاب فارنزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ تفتیش کا عمل مکمل ہو چکا تھا، پھر یہ معاملہ فارنزک لیب تک کیسے پہنچا، اس پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب فارنزک لیب اور اس تفتیشی عمل کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
مذاکرات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ انہیں فی الحال مذاکرات کا کوئی سنجیدہ ماحول نظر نہیں آ رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے اصولوں پر بات کرنی ہے تو شفاف انتخابات، عوامی مینڈیٹ کی واپسی اور آزاد عدلیہ جیسے نکات پر بات کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کے لیے علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو اختیار دیا گیا ہے۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پی ٹی آئی کسی آسائش یا چور دروازے کے لیے بات نہیں کرے گی اور اب اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔
ان کے مطابق ماضی میں بھی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر ملاقاتیں ہوئیں، لیکن چائے بسکٹ کے سوا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، حتیٰ کہ ملاقات کے لیے بھی یہ کہا جاتا رہا کہ پوچھ کر بتایا جائے گا۔
واضح رہے کہ پنجاب فارنزک سائنس لیبارٹری نے 9 مئی کے واقعات میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما کامران بنگش، تیمور جھگڑا اور عرفان سلیم کی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔
![]()
